مختص ترقیاتی فنڈز

06 نومبر 2016
مختص ترقیاتی فنڈز

مکرمی! 5 ستمبر 2016ءکے نوائے وقت کی ایک تین کالمی خبر کے مطابق فیڈرل ایریا کے دیہات کے لئے مختص 35 کروڑ روپے فنڈز مختص اس لئے لیس (lapse) ہو گئے کہ انہیں استعمال کرنے کے لئے بروقت فیصلے نہیں کئے گئے۔ ضلعی انتظامیہ اس سنگین بدانتظامی کا الزام اسلام آباد میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے سر دھر رہی ہے۔ جبکہ میئر کے مطابق ضلعی انتظامیہ ان فنڈز کے بروقت استعمال نہ کرنے کی خود ذمہ دار ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو نقصان تو ان دیہی عوام کا ہوا ہے جو آئے دن پینے کے پانی اور گلیوں اور نالیوں کی پختگی جیسے بنیادی مسائل کے لئے چیخ و پکار کرتے رہتے ہیں لیکن وسائل کی عدم دستیابی کا عذر پیش کرکے منتخب نمائندے ان کے مطالبات کو بالعموم نظر انداز کردیتے ہیں ان دیہی عوام کے ساتھ یہ کتنا بڑا سنگین مذاق ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کی فلاح و بہبودی کی سکیموں کے لئے مختص 35 کروڑ روپے کی رقم استعمال نہ ہوئی اور واپس قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔ اس سے بڑی نااہلیت اور بدانتظامی کی مثال کوئی نہیں ہو سکتی۔ ہماری چیئرمین پی اے سی اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ مذکورہ فنڈز lapse ہونے کی وجہ کا تعین کرائیں اور ذمے داروں کی مناسب گو شمالی کے احکام صادر فرمائیں۔
(م ش ضیاءعلی پور فراش‘ اسلام آباد)