مسئلہ چور کی شناخت کا ہے

06 نومبر 2016

مکرمی! یہی شیخ رشید تھے اور عمران خان بھی یہی لیکن اقتدار کی لگام جنرل پرویز مشرف کے ہاتھ میں تھی۔ ایک ٹاک شو میں عمران خان اور شیخ رشید ایک دوسرے پر ایسے چڑھ دوڑ رہے تھے جیسے یہ آج دونوں مل کر حکومت کے خلاف معرکہ آراء ہیں، شیخ رشید نے ایک نجی چینل کے ٹاک شو میں عمران خان سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا تھا’ اوئے تم ہوکیا؟’ ایک معمولی کپتان ‘ شیخ رشید کا تب عمران خان کے خلاف لہجہ ایسا ہی تھا جیسا آج حکومت کے خلاف ہے۔ وقت بدلتا ہے ، حالات و واقعات بدلتے ہیںترجیحات بدلتی ہیں لیکن ایک چیز نہیں بدلتی وہ ہے مفاد پرستی اسی مفاد پرستی کا شاخسانہ ہے کہ آج ملک کی تقریبًا تمام سیاسی جماعتیں آپس میں گتھم گتھا ہیں گذشتہ روز جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے کہا کہ چور ، چور ہوتا ہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں ، بس اگر اسی بات کو اپنا رہنما مان لیا جائے تو تمام مسائل کا حل ممکن ہے لیکن ہمارا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہمیں کسی چور کی شناخت نہیں ہو پارہی ہم شخصیات پرست ہیں اور شخصیت پرستی ہمیں دوسروں کا غلام بناتی ہے اس سے ہماری فیصلے کی قوت جاتی رہتی ہے در اصل ہم ڈنگ ٹپائو کی پالیسی پر عمل پیرا ایک دوسرے کو الزامات کا سہارا دے کر وقت گذارا کر رہے ہیں اس ساری صورتحال میں صرف ایک بات ہی خوش آئند ہے کہ پاک فوج نے اپنا تاریخی کردار ادا کرکے ملک کے اندر اور باہر بیٹھے کئی کھلاڑیوں کو انکی منفی سوچوں سے آئوٹ کر دیا ہے تاہم صاحبو ! کچھ بھی کر لو ، کچھ بھی کہہ لو اسلام اور اسلام کے نام پر حاصل کر دہ اس اسلامی ریاست میں اسلامی اصولوں سے لو لگائے بغیر چارہ نہیں۔ (ندیم اختر ندیم)