مودی کی مسلم کش پالیسیاں

06 نومبر 2016

نریندر مودی نے26 مئی 2014ء کو بھارت کے چودھویں وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا تو بھارت اور خطے کے مسلمانوں کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ مودی ابتداء ہی سے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے رکن ہیں۔ آر ایس ایس انتہا پسند ہند جماعت ہے جو مسلمانوں کے خون کی دشمن ہے۔ اسی جماعت کے رکن نتھورام گوڈ سے نے 30 جنوری 1948ء کو مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تھا کیونکہ گاندھی کٹر اور انتہا پسند ہندوئوں کو مسلمانوں کے قتل عام سے روک رہے تھے۔ یوں تو بھارت میں مسلمانوں کو گاہے بگاہے ہندوئوں کے غم و غصے کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن مودی کے بر سر اقتدار آتے ہی مسلمانوں کی شامت آگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان حاصل کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ ہندوستان سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد ہندو مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو جائینگے کیونکہ تاج بر طانیہ کے ہندوستان پہ قابض ہونے سے قبل مسلمان ہندوستان پہ حکمرانی کر رہے تھے اور ہندو انکے محکوم تھے۔مودی سرکار ایک خطرناک ایجنڈے کے تحت بھارت میں برسراقتدار ہوئی۔ سیاسی طور پربھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے اور مودی اس حکومت کے سربراہ ہیں لیکن بی جے پی سنگھ پریوار کا حصہ ہے جس میں آر ایس ایس کے علاوہ کئی انتہا پسند جماعتیں شامل ہیں۔ مودی بھی اپنے احکامات آر ایس ایس کے موجودہ چیف موہن مدھو کر بھگوت سے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مئی 2014ء سے بھارت میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں بشمول نیچ ذات دلت کو انتہاپسند ہندو چن چن کر قتل کر رہے ہیں۔حال ہی میںمتحدہ عرب امارات میں آباد بھارتی کمیونٹی سے مودی کی جارحانہ پالیسیوں کے سلسلے میں رائے حاصل کی گئی۔ان میں سے بیشتر مسلمان ہیں۔ جنہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مودی کے برسر اقتدار آتے ہی بھارت میں نئی مساجد کی تعمیر اور پرانی مساجد کی مرمت کا کام رک گیا۔ اس قسم کے منصوبوں پہ عمل کرنے کیلئے غیرضروری قانونی کارروائی میں الجھا دیا جاتا ہے تا کہ مسلمان اپنی مذہبی رسومات کی پیروی میں دقت محسوس کریں۔دانستہ طور پر مسلم کمیونٹی کو الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے تا کہ اسے بھارتی معاشرے میں اپنا جائز مقام نہ مل سکے۔ بھارتی فوج میں مسلمانوں کی بھرتی پہ پابندی عائد ہے جبکہ حکومتی اداروں میں بھی ان کی بھرتی بند ہے۔ اسکے برعکس بھارتی فوج اور حکومتی اداروں میں آر ایس ایس یا اس سے ملحق نوجوانوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج اور حکومتی اہلکار بھی انتہا پسند ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بھرتی کی پالیسی کے باعث بھارت میں دور رس مضمرات ہونگے۔ کٹر شدت پسند اور انتہاپسند ہندو بھارتی فوج اور بیوروکریٹ پہ حاوی ہوں گے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی فوجی اور سرکاری اداروں میں مسلمانوں سے نفرت میں اضافہ کرنے کی خاطر بابری مسجد کی شہادت کے واقعہ کو ہندوئوں کی فتح قرار دیا جاتا ہے اور بابری مسجد کے انہدام سے متعلق فرضی مشقیں کرائی جاتی ہیں تاکہ مزید مساجد شہید کی جاسکیں۔مسلم کمیونٹی نے موجودہ بھارتی حکومت سے متعلق، بہت سخت خیالات کا اظہار کیا اور بتایا کہ مودی کو فاشسٹ اور آر ایس ایس کے نقطہ نظر کے تحت بھارت کو ہندو غلبہ دلانے کے طابع سمجھا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا بشمول جو مشرق وسطیٰ میں موجود ہے، یہ انتہاپسند ہندو حاوی ہیں جو اسلام مخالف اور کشمیری دشمن پالیسیاں اپناتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے میں مشغول ہیں۔ حتیٰ کے ڈاکٹر ذاکر نائک جیسے جید مسلم علماء کی بھی پگڑی اچھالنے سے باز نہیں آتے۔ متحدہ عرب امارات میں آباد بھارتی نژاد مسلمان بھارت میں موجود اپنے رشتہ داروں، عزیز اقارب کی سلامتی کیلئے فکر مند رہتے ہیں اور بھارت واپس جانے سے کتراتے ہیں۔ مسلمان اس وقت کے سپر پاور تھے اور جب تک وہ متحد رہے، انہوں نے دنیا پہ حکومت کی۔ انہوں نے باقی دنیا کیلئے مساوات، اخلاقیات، برابری اور اتحاد کے نمونے قائم کیے جو دوسری قوموں نے بھی اپنایا۔ اپنے سے کمتر ہتھیاروں سے لیس مسلمانوں سے شکست کھانے کے بعد اسلام کے دشمنوں کو یہ احساس ہوا کہ اسلام کا قلعہ اتحاد کے باعث مضبوط ہے۔ اس وقت سے مسلمانوں کے دشمن اس اتحاد اور ملت کو توڑنے کی سازش میں مشغول ہیں۔ وہ بہانے سے مسلمانوں کے درمیان نفرت کے بیج بونے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔اسلام کے دشمنوں کی انتھک کوشش ہے کہ مسلمانوں کے درمیان رنگ، نسل ، لسانی اور تقافتی بنا پہ تفرقہ پیدا کیا جائے۔ اس سے قبل بھی مسلمان اس جال میں پھنس چکے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی امت نے مجموعی طور پر اس سازش کے نتیجے میں نقصان اٹھایا۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے تعارف نے بنی نوع انسان کو بہت طاقت ور ذریعہ دے دیا ہے جس کے استعمال سے لوگ منٹوں، سیکنڈوں میں ایک دوسرے تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سہولت کے ذریعہ اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کر کے ان میں تفرقہ ڈالنے میں کامیاب ہیں۔غیر ملکی حساس ادارے خصوصاً بھارت اور اسرائیل کے تھنک ٹینکس، نام نہاد دانشور مسلمانوں کے اتحاد کو توڑ کر ان میں نفاق اور نفرت کے بیج بونے کی سازش میں مشغول ہیں۔موجودہ دور میں بھارت اور خصوصاً مودی کی حکومت کی یہ پوری کوشش ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا جائے۔ وہ یہ تفرقہ مسلک، نسلی اور لسانی بنا پر پیدا کر رہے ہیں۔ شعیہ کو سنی سے لڑایا جا رہا ہے۔ بلوچوں کو بقیہ پاکستان سے جھگڑنے کو کہا جا رہا ہے۔ ایران اور پاکستان میں اختلافات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب، قطر ایک جانب ہیں۔ شام اور عراق میں داعشً کی پشت پناہی کی وجہ سے مسلمانوں میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ یہ سارا پروگرام ایک گھنائونی سازش کے تحت سر انجام دیا جا رہا ہے جس میں مغرب بھی بھارت اور اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے۔ حال ہی میں بھارت کے آٹھ جاسوس جو سفارت کاروں کے روپ میں تھے۔ پاکستان میں فرقہ واریت اور نسلی بنا پہ عوام میں تفرقہ ڈالنے اور تصادم پیداکرنے کی سازش میں ملوث پائے گئے۔اس خطرناک صورتحال میں پاکستان تختہ مشق بن رہا ہے کیونکہ یہ واحد ایٹمی طاقت ہے اور اسے زیر کرنا مودی سرکار کی ضرورت ہے۔ ہمارے علمائ، دانشور اور رہنمائوں کو اس سازش سے باخبر ہونا چاہیے اور ایسی تدابیر اپنانا چاہیے جس سے دشمن کے گھنائونے عزائم کامیاب نہ ہو سکیں۔جمعے کے خطبے میں خصوصی طور پر اس ا مرکو اجا گر کرنا لازمی ہے کہ مسلمان اگر آپس کے تفرقے میں رہے تو وہ تباہ ہو جائیں۔ ہمارے پیارے نبی ؐ کا حجتہ الوداع پہ تاریخی خطبہ کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہمارے تھنک ٹینک اور دانشوروں کو اس امرپہ خصوصی توجہ دینی چاہیے تا کہ ہم دشمن کی سازشوں کا شکار نہ بنیں۔