ہسپتالوں میں پھر ہڑتال ۔ اسباب ۔ حل

06 نومبر 2016
ہسپتالوں میں پھر ہڑتال ۔ اسباب ۔ حل

بلاشبہ صوبہ پنجاب کئی حوالوں سے دوسرے صوبوں کیلئے انتظامی حوالے سے مثال بنا رہا ہے۔ ہر لمحہ چاک و چوبند اور خبردار رہنے والے وزیراعلیٰ کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے لیکن ایک دو شعبے ایسے بھی ہیں جہاں وقفے وقفے سے اضطراب اور بے چینی وزیراعلیٰ کی مقبولیت کیلئے خطرہ بننے لگتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ نچلی سطح پر کسی نہ کسی کی ’’ضد میری مجبوری‘‘ والی ٹرکوں کے عقبی حصے پر عام طور پر دیکھی جانے والی تحریر والی پالیسی صورت حال کو بگاڑ دیتی ہے محکمہ صحت میںگزشتہ چند برسوں سے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی طرف سے وقفے وقفے سے احتجاج جن وجوہات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ عام طور پر ان وجوہات کو سنجیدگی سے لینے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے ضد اور مفروضہ کو پالیسی بنا لیا جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں اچھا علاج معالجہ عام شہریوں کا حق ہے اور اس علاج کو ممکن بنانا حکومت، محکمہ صحت اور فیلڈ میں یعنی ہسپتالوں میں موجود انتظامیہ اور ڈاکٹروں کا فرض ہے۔ مریضوں کی یلغار اب ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس وقت لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں علاج کا ماحول مسلسل بگڑ رہا ہے۔ پنجاب کی سطح پر سیکرٹری ہیلتھ حکومت کے اس تصور کے ساتھ نئے نئے آئیڈیاز لا رہے ہیں کہ شعبہ ہیلتھ کو دئیے جانیوالے فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے تو اب صحت کے نتائج بہتر ہوں۔ عوام مطمئن ہوں، ڈاکٹروں کا موقف یہ ہے کہ مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں نہ ڈاکٹروں کی مطلوبہ تعداد ہے۔ نہ ہسپتالوں میں بستروں، ادویات کی حالت ٹھیک ہے اور یوں مریض اور انکے لواحقین ڈاکٹروں کو ذمہ دار سمجھ کر ان سے الجھتے ہیں۔ پروٹوکول (محکمہ صحت، سیاستدانوں وغیرہ کی طرف سے آئے ہوئے مریض ) کے بعض مریضوں کا معاملہ تو اور بھی مختلف ہوتا ہے اور انکے ساتھ آنیوالے خصوصاً سیاسی پس منظر والے صاحبان ڈاکٹروں اور نرسوں کیساتھ ایسا برتائو کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ، لیڈی ڈاکٹروں تک کو معاف نہیں کیا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسی ایشین جیسی تنظیمیں اسی پس منظر میں سامنے آئیں اور اب ہمارے کلچر کا حصہ ہیں۔ اس وقت لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں ایک ہفتے سے زائد جاری ہڑتال نے جس بحران کو جنم دیا ہے۔ اس کا سبب اور پس منظر بھی یہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مدعی وقار عظیم کے بھائی مریض محکمہ صحت کے ایک افسر کے پروٹوکول مریض ہیں۔ کیس میڈکولیگل کا تھا جس کی فائل انتہائی اہم ہوتی ہے۔ مریض کے ساتھی فائل پہلے باہر لے گئے، یہ تلخی ایک گھنٹہ بعد سلجھ گئی مگر پروٹوکول نے کام دکھایا فوری طور پر ایک کمیٹی بنی اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی برطرفیاں عمل میں آ گئیں اور المیہ یہ ہوا کہ برطرف ہونے والے ڈاکٹر میوہسپتال کی منتخب تنظیم کے کرتا دھرتا تھے، اب ہڑتال ہے اور خلق خدا پریشان، ہڑتال پر موجود سینکڑوں ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ وہ ٹرمینیٹ شدہ ڈاکٹروں سے ہمدردی کیساتھ ساتھ زیادہ تر اس اصولی موقف پر ہڑتال کر رہے ہیں کہ اب انہیں شدت سے عدم تحفظ کا احساس ہوا ہے۔ ایک طرف سیاسی مداخلت اور بعض پروٹوکول والے مریضوں کے ساتھی ہمارے کام میں مداخلت کے ساتھ دھمکیوں اور مارکٹائی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف حکومت کے بعض آفیسر ڈسپلن کے نام پر ہمارے مستقبل کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ ڈاکٹر شہریار اور ڈاکٹر مظہر و دیگر کا موقف ہے کہ بہانے سے انہیں CIP کی مخالفت کے باعث انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ بات تو عام مشاہدے کی ہے کہ ہمارے ہسپتالوں کی انتظامیہ علاج معالجے کا ماحول فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ ایمرجنسی اور آئوٹ ڈور میں ایک ہڑبونگ کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ حکومت کو یقیناً عوام کو خوش رکھنا ہوتا ہے اور تمام جمہوری معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے مگر باہر کے ملکوں میں ہسپتالوں کو مادر پدر آزاد نہیں چھوڑا جاتا اور نہ ہی محض عوام کو خوش کرنے کیلئے ہسپتالوں کے اندر ڈسپلن کو تہہ و بالا رکھنے کی کھلی چھٹی ہوتی ہے۔ موجود، سیکرٹری صحت نجم احمد شاہ حکومت کی گڈ بکس میں ہیں۔ انہیں قائداعظم سولر پارک کی چیف ایگزیکٹو کی پوسٹ پر رکھنے کے بعد سابق سیکرٹری ہیلتھ جواد رفیق ملک کی تین دیگر اعلیٰ افسرووں کیلئے سفارشات کو نظر انداز کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ لگایا گیا ہے۔ ایک جونیئر آفیسر ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ نے ان پر اعتماد کیا ہے تو انہیں زیادہ فراخدلی کے ساتھ معاملات کو درست سمت میں لانا چاہئے۔ ایسے حالات میں جب حالیہ تنازعہ کا باعث بننے والے مریض اور انکے لواحقین نے ہر سطح پر معاملہ ختم کرنے کا کہا ہے اور جب پروپیگنڈہ کے برعکس مریض کیساتھ ڈاکٹروں کا سلوک اچھا تھا اور تلخی صرف ایک اٹینڈنٹ کی طرف سے میڈیکولیگل جیسی فائنل غائب کرنے پر ہوئی تواس معاملے کو طول دیا جانا مناسب نہیں پہلے ہی وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی حیثیت متنازعہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں نئے محاذ کھلنے سے اصل نقصان خلق خدا کا ہو رہا ہے اور اسکے بعد خادم اعلیٰ پنجاب کی باقی شعبوں میں اچھی کارکردگی پس منظر میں جارہی ہے۔ ہم ینگ ڈاکٹروں سے بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ واپس لوٹ آئیں، سینئرز کو شکائت کا موقع نہ دیں اور دکھی خلقت کا علاج ’’توہم خرما وہم ثواب‘‘ والی بات ہے۔ میوہسپتال صحت کے حوالے سے پنجاب کا دل ہے اگر ٹرمینیٹ شدہ ڈاکٹر اور نرسیں بحال ہوجائیں تو اس دل کی دھڑکن پھر سے معمول پر آ سکتی ہے۔ کیا سیکرٹری ہیلتھ والی ڈی اے اور وائس چانسلر کے ای، اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دے کر میوہسپتال سمیت تمام ہسپتالوں کی رونق کو بحال نہیں کریںگے؟