6 نومبر …کشمیر کی آزادی کیلئے تجدید عہد کا دن

06 نومبر 2016

6نومبر کو یوم شہدائے جموں نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ ان شہداء کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے آزادی کی راہ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔اس دن دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری عقیدت و احترام کے ساتھ یہ دن مناتے ہیں۔ پچھلے 69سالوں سے ہر روز کشمیری عوام بھارتی غاصبانہ قبضے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کے دوران مالی اور جانی قربانیاں دیتے رہے۔ تقسیم ہند سے پہلے 1931ء اور 1947ء کے عرصے کے درمیان کشمیری مسلمانوں نے اپنے حقوق اور جمہوری و ذمہ دارانہ حکومت کے قیام کیلئے جدوجہد کے دوران بھی قربانیاں دیں۔ 6نومبر 1947ء یوم شہدائے جموں کے نام سے یا د کیا جا تا ہے۔
پاکستان 14؍ اگست 1947ء کو معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کا وجود میں آنا بھارتی انتہا پسند ہندوئوں کیلئے ناقابل برداشت تھا۔ ان انتہاپسندوں کی سرپرستی کے لئے وزیر داخلہ پٹیل اور وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ حکومت میں بھی موجود تھے۔ بھارتی حکومت نے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کی پس پردہ حوصلہ افزائی کرکے مسلمانوں کا قتل عام کرایا۔ یہ لہر راشٹریہ سیوک سنگھ اور جن سنگھ کے ہاتھوں جموں کے صوبہ تک پہنچائی گئی۔ ان دونوں تنظیموں کی حوصلہ افزائی ڈوگرہ حکومت کررہی تھی۔ صوبہ کشمیر اور لداخ میں مسلمانوں کی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے میں ہندو انتہا پسند تنظیمیں ناکام رہیں۔ لیکن جموں صوبہ کے اندر حکومتی سرپرستی میں آر ایس ایس اور جن سنگھ مسلمانوں کی قتل و غارت گری کرنے میں کامیاب رہے ۔ جن علاقوں میں مسلمان اپنے اہل عیال اور احباب کو بچانے میں کامیاب ہوگئے انہوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ کچھ لوگ جموں کی طرف چل پڑے اور کچھ پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ سلسلہ اگست کے مہینے سے شروع ہوا۔ جموں کے اندر ہزاروں مسلمان جمع ہوئے۔ جموں شہر کی مسلمان فلاحی تنظیموں نے ان کے رہنے اور کھانے پینے کا بندوبست کیا۔ کچھ لوگ پاکستان کی طرف انفرادی طور پر چل پڑے۔ جموں شہر میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ ان سب لوگوں نے پاکستان ہجرت کرنے کا مصمم ارادہ کیا اور انتظامات کو آخری شکل دی۔ ٹرانسپورٹ کی کمی تھی۔ زیادہ تر لوگ پیدل سفر کرنے پر تیا رہوئے۔ اسی دوران ڈوگرہ انتظامیہ نے ایک سازش کے تحت اعلان کیا کہ ’’پاکستان جانے والے خواہش مندوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے‘‘۔ اس کے بعد انہیں ایک خاص مقام پر جمع ہونے کیلئے کہا گیا۔ یہاں سے بسوں اور ٹرکوں میں لاد کر آگے انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یکم اکتوبر سے ہی جموں شہر کے ارد گرد مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا تھا اور نومبر کے مہینے تک تمام ضلعوں میں مسلمان بستیاں نیست و نابود کی گئیں۔ انتہاپسند ہندوئوں کے ہاتھوں دریائے توی کے ارد گرد شہید ہونے والے بے گناہ مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی شہادت کی گواہ دریائے توی کے دو کنارے، اس میں بہنے والا پانی اور اوپر سے چلنے والی ہوا ہے۔ توی کے علاقے میں ہزاروں بے گناہوں کا خون کیا گیا۔ڈوگرہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ مقام پر ہزاروں مسلمان پاکستان جانے کیلئے جمع ہوئے۔ جموں شہر سے روانہ ہونے والے قافلوں میں مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے، جوان، امیر غریب سب دل میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ پاکستان کا مطلب کیا’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ 5اور 6؍نومبر 1947ء کو پاکستان براستہ سیالکوٹ روانہ ہونے والے قافلوں کو بے دردی سے ایک منظم سازش کے تحت قتل کیا گیا۔ پاکستانی سرحد کے قریب ایک جگہ ان قافلوں کا راستہ روکا گیا۔ شرکائے قافلہ کو بندوقوں، شمشیروں، نیزوں، کلہاڑیوں اور چھریوں سے تہہ تیغ کیا گیا۔ قاتلوں میں ڈوگرہ حکومت کے اہلکاران، آر ایس ایس، جن سنگھ اور دیگر انتہا پسند گروہ ملوث تھے۔ بھارتی پنجاب کے انتہا پسند ہندو اور سکھ بھی ان قاتلوں میں شامل تھے۔ مشرقی پنجاب اور دہلی کے علاقوں میں اس وقت فرقہ وارانہ فسادات عروج پر تھے۔ ان علاقوں سے انتہا پسند ہندو جموں آکر آر ایس ایس اور جن سنگھ کی مسلم کش سازش میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت قافلوں میں موجود نوجوان اور جسمانی طور پر طاقتور افراد کو مارا گیا۔ عورتوں کو اغوا کیا گیا۔ ضعیف مرد اور عورتوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا۔ جموں کے مسلمانوں کا قتل عام اور یک طرفہ فسادات تاریخ کے بدترین واقعات ہیں۔ پورے صوبے میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے ہی مکانوں میں آگ لگا کر جلادیا گیا۔ قیمتی اشیاء چھین لی گئیں۔ عورتوں کو اغوا کیا گیا۔ ان کی عصمت تار تار کی گئی۔ مسلمانوں کی جائداد پر قبضہ کیا گیا جو ابھی تک بدستور قائم ہے۔ اکتوبر نومبر 1947ء کے مہینوں میں فسادات اور ظلم نے ایک عام آدمی سے لیکر قومی رہنما چودھری غلام عباس جیسے لوگوں کو بھی زخمی کر دیا۔ ان فسادات میں شہر جموں کا ہر گھر تباہی کا منظر پیش کررہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس تباہی او ربربادی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے ’’بھارت‘‘ کیونکہ 13/جولائی 1931ء کے قتل عام کی ذمہ دار مملکت کشمیر کی ’’ظالم و جابر‘‘ ڈوگرہ حکومت تھی۔ جبکہ 6؍نومبر 1947ء سے لے کر آج تک مسلم قتل و غارت گری کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ فسادات سے 9روز قبل 27/اکتوبر 1947ء کو بھارت نے کشمیر میں فوجیں اتار کر قبضہ کیا تھا اور ڈوگرہ انتظامیہ کی باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں تھی۔ اگر بھارت چاہتا تو کسی شہری کا ناخن تک نہ ٹوٹتا اور کسی کے چھت کی گھاس کا تنکا بھی نہ اڑتا مگر بھارت نے جموں کے اندر مسلمانوں کا قتل عام ایک طے شدہ سازش کے تحت کرایا۔ مسلمانوں کو تہہ تیغ کرکے صوبہ جموں کو ہندو اکثریتی صوبہ بنادیا گیا۔ بھارت نے صوبے کو اپنے لئے کھیل کا میدان بنادیا۔ کشمیر وادی کے اندر مسلمان اکثریت میں ہونے کی وجہ سے بھارت جو کھیل وہاں نہ کھیل پاتا ہے وہ جموں میں کھیلتا ہے۔ 6؍ نومبر 1947ء کے قبیح، دلخراش اور وحشیانہ قتل عام کے متاثرین اور چشم دید گواہ اب بھی زندہ اور صحیح سلامت ہیں۔ اُنکی آنکھوں سے وہ تڑپتی جانیں، اغواہ شدہ عورتیں کسی بھی طرح اوجھل نہیں ہونگی۔ وہ جموں کے اس سانحے پر گواہی پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اگر یہودیوں، سربوں اور نازیوں پر کئے گئے مظالم پر موجود ہ دور میں کسی ملک پر سپر پاور کی طرف سے فرد جرم عائد کرکے پابندیاں لگائی جاسکتی ہیںتو بھارت پر جموںکے مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے فرد جرم عائد کیوں نہیں کی جا سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے اور بھارت پر پابندیاں عائد کروانے کیلئے کوششیں کرے اور اس قتل عام کو جنیوا کنو نشن کے مطابق عالمی عدالت میں اٹھا یا جائے تاکہ جموں کے بے گناہ لوگوں کاقتل عام کروانے والے درندوں کو سزائیں دلوائی جا سکیں۔