سموگ اٹیک

06 نومبر 2016

کوئی اسے قدرت کا کرشمہ سازی کہے یا سائنسی جلو میں موسمی تبدیلیاں یہ بات تو بہرحال طے ہے کہ اربوں برس پرانے زمین و آسمان نے حیات حضرت انسان کو اس وقت شدید چیلنجز میں گھیر لیا ہے ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل دنیا کے ترقی یافتہ مہذب اور امیر ترین امریکہ کی بیشتر ریاستوں کی انسانی زندگی کو آئس رین نے مفلوج کئے رکھا ۔ چند سال ہی ہوئے روس کے بیشتر حصوں میں تیز طوفانی ہوائوں نے خلقت کا جینا دو بھر کر دیا تھا ۔ یہ ماضی قریب ہی کی بات ہے چند سمندروں کے سونامی طوفانوں نے متعدد ملکوں میں من حیث الجموعی آناً فاناً بستیوں کی بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹا دیں پھر 2008ء میں سرحدی علاقوں میں آنے والے زلزلے کی تباہ کاریوں کو کون فراموش کر سکتا ہے ؟ قدرتی آفات اپنی جگہ 9/11 کے بعد پوری دنیا میں بم دھماکوں نے جس طرح انسانی زندگی کو بے رحم ہو کر لقمۂ اجل بنایا ہے اس بارے میں سوچ کر ہمارے اوسان خطا ہونے لگتے ہیں ۔ آج کل تو ہم ورطۂ حیرت میں ہیں کہ جسے ہم بچپن سے دھند FOG کو رات کی شبنم اور صبح کی ٹھنڈی ہوائوں کا ہیولہ سمجھ کر معصوم سمجھتے تھے اتنی بے رحم ، ظالم اور جان لیوا بھی ہو سکتی تھی ۔ یہ دھند ہمیں علی الصبح اپنے کالج کے راستوں میں ملتی تھی تو ہم ناگواری محسوس کرتے تھے لیکن اس فوگ کو کیا کہیں کہ جو آج کل ہمیں دفتر کا رخ کرتے ہوئے سڑکوں پہ ہی نہیں بلکہ گھروں تک اور اداروں کے اندر دفتری کمروں تک پہنچ کر ہمارے جسمانی مہلک امراض و کوفت کا باعث بن چکی ہے یعنی آج سورج کی ایک کرن سے مر جانے والی دھند بگڑ کر ، اکڑ کر جان لیوا بن کر ہماری زندگی کی تلخی بن چکی ہے ۔ ایسی فوگ کو عوام الناس کی زبان میں سموگ SMOG کہا جا رہا ہے ۔ سموگ کو دھند اور دھویں یعنی فوگ اور سموگ کا مکسچر و پیسٹ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ سائنسی بنیاد پر کہا جا رہا ہے سموگ Smog کا سبب ہماری فضا میں اوزون کی مقدار کا خطرناک حد تک کم ہو جانا ہے یعنی آج کل جس سموگ کا ہم تجربہ کر رہے ہیں یہ فضائی آلودگی کی خطرناک صورتحال کی نشاندہی ہے ۔ اکثر ممالک میں فضائی آلودگی کو مانیٹر کرنے کیلئے باقاعدہ آن لائن ، ایئر کوالٹی انڈکس میپ کا استعمال کیا جاتا ہے کہ جس سے فضائی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ ملتی ہے ہمارے ہاں بھی فضائی حالت کو مانیٹر کرنے کا سسٹم موجود ہے لیکن اس مانیٹرنگ کے ساتھ میئیرز کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے مضر اثرات زمینی طوفان سے کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں کہ زمین پر موجود ہر ذی حِس و جاندار کی حیاتاتی بقاء کا سوال پیدا ہو جاتا ہے ۔ امراض قلب اور امراض جلد ، دمہ ، سینے و گلے کے امراض ، پھیپھڑوں اور آنکھوں کے انفکشنز Infections عام ہو جانے کے خدشات ہیں ۔ اس وقت بھارت ، چین اور پاکستان میں سموگ کی وباء زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئی ہے ۔ بھارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دیوالی کی تقریبات میں آتشبازی و بارود کا وافر استعمال سموگ اٹیک کا باعث بنا ہے ۔ چین میں صنعتی خام مال کا دھواں فضا میں تحلیل ہو جانا سموگ اٹیک کا باعث تصور کیا جا رہا ہے ۔ مختصراً کیمیائی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ صنعتی فضائی مادے ، گاڑیوں کا دھواں ، کسی بھی مقام پر جلائی گئی یا لگی آگ کے ختم ہونے کے بعد اٹھنے والا خطرناک دھواں اور کوڑے کے ڈھیروں کو لگائی گئی آگ کا اٹھنے والا خطرناک مادوں والا دھواں اور بھٹوں و فیکٹریوں سے اٹھنے والا دھواں فضائی آلودگی کا باعث بن کر سموگ اٹیک بن جاتا ہے ۔ 9/11 کے بعد جس طرح بم دھماکے ہوئے اور ان بموں سے جو آتشی مادے خارج ہوئے اب ظاہر ہے کہ ان آتشی مادوں نے بھی فضاء میں اپنے ٹھکانے بنا لئے ہوں گے جو کہ خطرناک فضائی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں ۔ قدرت کی کرشمہ سازی کی طرف ذرا دھیان دیجئے کہ ہماری سائنسی ترقیاں ، اقتصادی مضبوطی ، سماجی سر بلندیاں فضائوں ، ہوائوں اور خلائوں کے اجلے پن کو آلودہ ہونے سے نہیں بچا سکتیں ؟؟ قدرت نے جو سر سبز و شاداب چادر ہماری زمین کو بخشی تھی وہ ہم نے خود اتار پھینکی یہی نہیں بلکہ میلوں دور حد نگاہ تک پھیلے آکسیجن کے منبع درختوں کو ہم کاٹتے چلے جا رہے ہیں ۔ فضائی آلودگی کا ایک اور اہم باعث آبادی کا بڑھنا بھی ہے جسے کم از کم پاکستان میں کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔ جب بڑھتی آبادی پر کنٹرول نہیں تو سموگ پھیلنے کا باعث حالات کیسے کنٹرول ہوں گے ، اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب کیلئے سموگ اٹیک ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آ رہا ہے ۔ جناب عالیٰ تو پہلے ہی ڈینگی بخار سے برسر پیکار ہیں اب پنجاب کے با ہمت و جفا کش وزیر اعلیٰ صاحب نے سموگ اٹیک سے نبٹنے اور قوم کو اس کے مضر اثرات سے بچانے کے فوری اقدامات کے احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں ۔ محکمہ تعلیم و صحت اور محکمہ ماحولیات و زراعت اس سلسلے میں بہت اہم ہیں ۔ ہمیں فضائی آلودگی کے خلاف ایک جنگ کرنا ہے ۔ قارئین کی آگاہی کیلئے میں عرض کرتی چلوں کہ آپ سموگ اٹیک کے دوران کھلی فضا میں نہ جائیں ۔ آمدو رفت ضروری ہے تو علی الصبح گھر سے نکلیں ۔ فیس ماسک کا باقاعدہ استعمال کیا جائے ۔ باہر سے جب بھی گھر آئیں تو اپنے ناک اور آنکھوں کو صاف اور تازہ پانی سے ضرور دھوئیں ۔ باہر رنگین عینک کا استعمال بھی آنکھوں کو مضر فضائی مادوں سے تحفظ فراہم کرے گی ۔ یاد رکھئے سموگ اٹیک کے دوران ہمیں اپنے آپ کو اور دوسروں کو کھانسی ، دمہ ، امراض قلب اور آنکھوں کے انفکشنز Infections سے بچانا ہے ۔ ناک اور منہ کے راستے آلودہ فضاء کا جو خطرناک مادہ ہمارے اندر جاتا ہے وہ پیٹ کی بیماریوں کا بھی باعث ہے ۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین۔