عدلیہ،سیاست،دھول اور دھند

06 نومبر 2016
عدلیہ،سیاست،دھول اور دھند

پانامہ لیکس پاکستان کی تاریخ کا جتنا بڑا کیس ہے، اتنی ہی کم مدت میںاس کا فیصلہ متوقع ہے۔ کچھ لوگ اسے پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس کہہ رہے ہیں، ایک قتل میں معاونت کے الزام میں ذوالفقار بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیاگیا۔ وہ اگر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس نہیں تو پانامہ لیکس سے ضرور بڑا ہے۔ نتائج و مضمرات کے حوالے تو ڈان نیوز لیک، پانامہ لیکس سے زیادہ نازک اور اہم ہے۔
بادی النظر میں دونوں کیسز وزیراعظم میاں نوازشریف کی ذات کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں یا میاں صاحب کا دماغ انکے گرد گھوم رہا ہے۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے سپریم کورٹ میں وہی جواب جمع کرایاگیا جو وہ اور انکے ساتھی صفائی کیلئے ماضی میں دلیل کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ میرا آف شور کمپنی میں نام ہی نہیں، ان سے استفادہ بھی نہیںکر رہا ہوں، کوئی بچہ زیر کفالت نہیں، وہی اثاثے ہیں جو ٹیکس اور گوشواروں میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ مریم نواز اور انکے بھائیوں کا جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا او ان کے وکیل کی ایک اور ہفتہ مہلت دینے کی استدعا مسترد کرکے آدھے ہفتے کر دی۔ اس سے عمومی تاثر لیا جا رہا ہے کہ اب شریف فیملی کی خیر نہیں۔ عمران خان تو اس پر بغلیں بجاتے نظر آئے، ماضی میں بھی عدلیہ کے ریمارکس پر ایسا ہوتا رہا ہے تاہم جب فیصلہ آتا ہے تو خوشی سے بغلیں بجانے والے شرمندگی سے بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ اب تک وزیراعظم اور انکے بچوں کے پانامہ لیکس کے حوالے سے بہت سے بیانات آپس میں ملتے ہیں جبکہ کچھ متضاد بھی ہیں۔ عدالت کے سامنے جوں کے توں رکھ دیئے جائیں تو فیصلہ وہی ہو گا جیسا عمران خان چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہونا ہے تو بڑی بڑی فیسوں والے وکلا کا کیا فائدہ! وکلا بھی ایسے جو زہر کو قند،دن کو رات اور صرصر کو صبا ثابت کرنے کا ملکہ رکھتے اور ہنر جانتے ہیں ہیں اور دور بھی ایسا جس میں کہا جاتاہے وکیل کے بجائے جج کر لیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں ایک رکنی جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے کیس نوعیت اور حساسیت کے تحت فل کورٹ سنتا تو بہتر ہوتا۔ جج حضرات اسی معاشرے کا حصہ ہیں جو پاکستانی جس کاتعلق فوج، عدلیہ، صحافت سمیت خواہ کسی بھی شعبے سے ہو اگر اسکی کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی اور ہمدردی نہیں اور وہ سیاسی اثرات سے مبرا ہے تو وہ ولی اور دیوتا ہے۔ انصاف کی کرسی کا تقاضہ ہر قسم کی وابستگی سے پاک ہوتا ہے مگر عدلیہ کے بہت سے فیصلے بولتے نظر آتے ہیں کہ یہ کس بنیاد پر کئے گئے۔ پرانی تاریخ کھنگالنے کی ضرورت نہیں کئی فیصلوں کے بعد کہا جاتا تھا کہ جج صاحب کی اہلیہ کو اتنے کی شاپنگ کرائی گئی، فلاں کے بھائی کو فلاں عہدہ دیا گیا وغیرہ۔ کئی جج ریٹائرمنٹ کے بعدبھی حکومتی عہدوں اور مراعات سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔
حمایت میں فیصلوں کی تحسین اور اسکے برعکس فیصلوں پر تنقید ہمارا کلچر رہا ہے۔ ابھی ایک رکنی جوڈیشل کمشن کا اعلان نہیں ہوا۔ جج کانام فائنل ہونے پر چہ میگوئیاں ہوں گی۔ خدا ان جج کو استقامت اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرنے کی طاقت عطا فرمائے ورنہ یہ کیس کسی کی بھی آٹھ پشتیں سنوارنے کیلئے کافی ہے۔
پانامہ لیکس کو سات ماہ تک ٹالا جاتا رہا، اس سے بھی بڑے معاملے میں ڈان نیوز لیک کو بھی پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے جس کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا اس کا وجودکہیں نظر نہیں آتا۔ پانامہ لیکس اور ڈان نیوز لیک دونوں وزیراعظم کے اعصاب پر سوار ہیں۔ دونوں میں وزیراعظم کے ہاتھ صاف ہیں تو انکی انکوائری چند دنوں میں ہو جانی چاہئے تھی۔ ملک کے حالات وزیراعظم کی پوری توجہ کے طالب ہیں خصوصی طور پر بھارت کی اشتعال انگیزی اور جارحیت جو سرحدوں کے اندر داخل ہو چکی ہے۔ کلبھوشن کو چند ماہ قبل پکڑا گیا تو آج آٹھ سفارت کار وہی کام اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھ کر کرتے ہتھے چڑھ گئے۔ سفارتخانے کو انہوںنے پاکستان کیخلاف محفوظ مورچہ بنا لیاتھا۔ ان پر ہاتھ ڈالنے والے ادارے کہتے ہیں کہ انکی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔ اس ڈینگ کو تسلیم کیا جاسکتا ہے نہ تحسین کی جا سکتی ہے۔ اگر اسے مان لیا جائے تو یہ ان اداروں کی اہلیت نہیں کج فہمی ہے۔ کلبھوشن، کشمیر سنگھ، اجیت اور سربجیت سنگھ جیسے ایجنٹوں کی نگرانی ان کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کیلئے کی جاتی ہے۔ ان کو پکڑ کر بہت کچھ اگلوایا جاتا اور سزا سے ہمکنار کر دیا جاتا ہے۔ سفارت کاروں کو آپ ایسے معاملات میں پکڑ کے باعزت اسکے ملک روانہ کر دیتے ہیں۔ اسکی نگرانی کی ضرورت نہیں، شک کی بنا پر بھی انہیںپہلے روز ملک بدر کر دیا جانا چاہئے۔
ایک طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں بربریت کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نے ایل او سی پر فائرنگ اور گولہ باری کو معمول بنا لیاہے، پاکستان کے اندرمداخلت سے ناک میں دم کر رکھاہے، سیاست دان باہم دست و گریباں ہیں تو ناگہانی بلائوں نے بھی پاکستان کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے۔ گڈانی میں بحری جہاز میں آتشزدگی نے 20 افرادکی جان لے لی، آگ پرچار روز میں قابو پایا جا سکا۔ اگلے روز ٹرین سے ٹرین ٹکرا گئی اس میں بھی 20 افرادجاںبحق ہو گئے۔ دہشت گرد الگ سے انسانی جانیں لے رہے ہیں۔ تیس افراد غیر موسمی دھند کی نذر ہو گئے۔ یہ کوئی آسمانی آفات نہیں ہیں۔ یہ سب ہمارا اپناکیا دھرا ہے۔ انسانی غلطیوں، کوتاہیوں اور غفلت کاشاخسانہ ہے۔ جہاز کی توڑ پھوڑ سے قبل مطلوبہ حفاظتی اقدامات نہیں کئے گئے تھے۔ ٹرین کے دونوں ڈرائیور سو گئے یا مدہوش تھے۔ دہشت گردوں کے سہولت کار ہمارے اندر ہیں۔یہ دھند ہے یاکہر ہے مگر یہ قہر بن گیا ہے۔ یہ ہمارا اپنا شاہکار ہے۔
میرے دوست رانا الیاس 94 میں بحرین گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں اُن دنوں شدید گرمی ہوا کرتی تھی، آج وہ اسکی شدت نصف رہ گئی ہے وجہ یہ ہے کہ بحرین میں حکومت نے درختوں کی بھرمار کر دی ہر سڑک اور شاہراہ پر درخت لگا دیئے جبکہ پاکستان میں گرمی بڑھ گئی کیونکہ یہاں جنگلات کا بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، شہروں سے درخت کاٹ پھینکے گئے۔ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا مگر حفاظتی اقدامات ندارد۔ یہ دھند نہیں دھوئیں اور آلودگی کا ملغوبہ ہے، جوشاید ہمیں ہمارے فطرت کے مقابل آنے پر اقدامات سے خبردار کرنے آیا ہے۔ سموگ میں حادثات کی وجہ ڈرائیور کی غفلت کے سوا اور کچھ نہیں۔ منزل پر جلدی پہنچنے کی کوشش منزل ہی کھوٹی کر دیتی ہے۔ ایک ڈرائیور کی غلطی سے کئی گاڑیاں تباہ ہو جاتی ہیں اور درجنوں انسان خاک میں مل جاتے اور خون میں نہا جاتے ہیں۔ دنیا بجلی کی پیداوار کیلئے ایٹمی توانائی سے استفادہ کر رہی ہے ہم کوئلے سے بجلی پیداکرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ زلزلے کو کوئی نہیں روک سکتا، سیلابوں کے آگے بند باندھنا مشکل ہے۔ خدا کے بندو! اپنی غفلت اور کوتاہی سے تو اپنی قبر خود نہ کھودو! عام آدمی کے پاس سموگ کے انفیکشن سے بچنے کیلئے دوااور سانحات، حادثات میں زخمی ہونیوالوں کے پاس علاج کیلئے پیسے نہیں جبکہ پانامہ اور آف شور کمپنیوں میں کھربوں ڈالر موجود ہیں۔ اب قوم کی نظریں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کو گھر بھجوانا نہیں، کھربوں ڈالر کے اثاثے ملک میں لانا اور مستقبل میں ایسانہ ہونے دینا مقصد ہونا چاہئے اگر یہ واپس آ جائیں تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔