پیپلائی تیر، انصافی بلا اور نونائی شیر

06 نومبر 2016

ایک عرصہ سے پوری پاکستانی قومی عمرانی للکاریں سن رہی تھی۔ اب ان للکاروں میں بلاولی بڑھکیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ بلاول کے دائیں کان میں کسی مشیر نے شائد یہ نکتہ بھری بات ڈال دی ہے کہ بھرپور سیاسی تماشا لگانے کیلئے عمران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حکومتی پارٹی پر تقریری حملے ضروری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بلاول زرداری نے بائیں کان کو بائیں ہتھیلی سے بند کر کے یہ مشورہ سنا تا کہ کہیں یہ مشورہ دائیں کان میں داخل ہو کر بائیں کان سے نکل ہی نہ جائے۔ بلاول ایک نو عمر سیاست کار ہے اور میدان سیاست میں ابھی تجرباتی دور سے گزر رہا ہے۔ ہمیں شک تھا کہ کان کا کچا نوجوان بلاول کہیں اس مشورے پر عمل پیرا نہ ہو جائے۔ یہاں ہمیں ایک قدیم شاعر کا شعر یاد آرہا ہے جو کچھ اس طرح ہے۔
کہیں غیروں کی باتوں میں نہ آئے
ابھی کم سن ہے، کچا کان کا ہے
بلاول کو چاہئے تھا کہ وہ اس مشورے کو ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے اڑا دیتا۔ اگر اس نے مشاورتی روئی سے دوسرا کان بند کر رکھا تھا تو بھی اس مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے جوابی طور پر یہ شعر سنانا چاہئے تھا۔
اس نے کہا جو حال شب غم کسی سے آج
کہنے لگا ، نہ بہر خدا، کان کھایئے
لیکن ایسا لگتا ہے کہ بلاول نے اس مشورے کو نہ صرف قبول کر لیا ہے بلکہ اس پر تقریری عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے۔ رحیم یار خان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے جو سیاسی خطبہ دیا۔ اس میں جوشیلی خطابت اور شرمیلی اردو میں اس نے نون لیگ اور تحریک انصاف دونوں کو لفظی رگڑا لگایا۔ بلاول نے کہا کہ شیر کا شکار بلے سے نہیں ہوتا بلکہ یہ شکار صرف تیر سے کیا جا سکتا ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکلی جا رہی ہے۔ بات بلاول کی لفظی تیر اندازی کی ہو رہی تھی۔ جس نے اپنی تقریر میں عمرانی بلے اور شریفانی شیر پر جوشیلا حملہ کیا ہے۔ بلاول نے اپنے تقریری حملے میں اعلان کیا ہے کہ تخت رائیونڈ کے اب دن گنے جا چکے ہیں ۔ ہم عوام کی طاقت سے تخت رائیونڈ کوگرائیں گے۔ نوازشریف اور عمران خان دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔
شیر کے شکار کیلئے صرف اور صرف تیر استعمال ہوتا ہے کیونکہ شیر کا شکار بلے سے نہیں تیر ہی سے ہو سکتا ہے۔ ہم پیپلز فورس تیار کر رہے ہیں جو دسمبر میں شیر کے شکار کیلئے نکلے گی۔ ہم نے چار مطالبات پیش کئے ہیں۔ شیر والوں کو چاہئے کہ وہ یہ مطالبات مان لیں ورنہ ہم شیر کے شکار کیلئے نکل کھڑے ہونگے اور غریب عوام اور شہیدبے نظیر بھٹو کا بیٹا باہم مل کر رائے ونڈ کے شیر کا شکار کریں گے۔ حقیقی صورت حالات یہ ہے کہ نونائی شیروں کے خلاف سپریم کورٹ میں جو کارروائی ہو رہی ہے بلاولی پیپلزپارٹی نے اس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ انصافی بلا اس قانونی جنگ میں چھکا لگانے کو تیار ہے جبکہ پیپلی تیر مفاداتی کمان میں پھنسا ہوا ہے۔
ہے یہ خدشہ، بلاولاتی تیر
ٹوٹ جائے کمان میں نہ کہیں