پیپلز پارٹی کی فوجی عدالتوں کی مدت میں 1 سال توسیع کی تجویز، تجاویز پر غور کرینگے: اسحاق ڈار

06 مارچ 2017 (21:33)
<->
  • پیپلز پارٹی کی فوجی عدالتوں کی مدت میں 1 سال توسیع کی تجویز، تجاویز پر غور کرینگے: اسحاق ڈار
  • پیپلز پارٹی کی فوجی عدالتوں کی مدت میں 1 سال توسیع کی تجویز، تجاویز پر غور کرینگے: اسحاق ڈار

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے فوجی عدالتوں میں ایک سال کی توسیع کیلئے9 نکاتی تجاویز پیش کردیں۔فوجی عدالتوں کے معاملے پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے حکومت کو مندرجہ ذیل تجاویز پیش کیں۔1۔ فوجی عدالتوں میں ملٹری افسر کے ساتھ سربراہ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج ہونا چاہیے۔2۔ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کو متعلقہ چیف جسٹس نامزد کریں گے۔3۔ فوجی عدالتوں کو ایک سال کے لیے توسیع دی جائے۔4۔ آرٹیکل 199 کے تحت فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر ہائی کورٹ کو نظرثانی کا اختیار ہوگا۔5۔ ہائی کورٹ 60 روز میں کیس کا فیصلہ سنانے کی پابند ہونی چاہئیں۔6۔ گرفتار افراد کو 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے۔7۔ ملزم کو کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا یہ بھی 24 گھنٹے میں بتایا جائے۔8۔ ملزم کو منصفانہ ٹرائل کے لیے پسند کا وکیل کرنے کا حق دیا جائے گا۔ اور 9۔ ملزم پر قانون شہادت 1984 کی شقوں کا اطلاق ہوگا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے فوجی عدالتوں سے متعلق وضاحت کے لیے تجاویز تیار کی ہیں جس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم فوجی عدالتوں کے مخالف ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قانون سیاستدانوں کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت ممکن نہیں، ڈاکٹر عاصم پر بھی دہشت گردی کے مقدمات بنائے گئے، سندھ کے لیے رینجرز کا قانون بھی دوسرے صوبوں سے کچھ الگ ہے اور سندھ میں رینجرز کو دوسرے صوبوں سے مختلف اختیارات دیے گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ پاکستانی قوم، افواج اور ہم ایک ہیں، اتحاد کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دہشت گردوں کے خلاف لڑی اور لڑتی رہے گی۔ملک کے مستقل وزیر خارجہ کی تقرری سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میں نے 40 سال میں ایسی حکومت نہیں دیکھی جس میں وزیر خارجہ نہ ہو، وزیر اعظم نواز شریف کو ڈر ہے کہ کوئی وزیر خارجہ بن گیا تو وہ مقبول ہوجائے گا۔نیشنل ایکشن پلان کے فنڈز کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ لاہور میں ملتان روڈ 3 بار بن کر ٹوٹ گئی، اس کے لیے حکومت کے پاس پیسے آجاتے ہیں لیکن نیشنل ایکشن پلان پر لگانے کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں، آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم فوجی عدالتوں کی مخالفت نہیں کررہے بلکہ ایک سال کی توسیع کی تجویز دے رہے ہیں۔آصف زرداری نے کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جائیں گے، حکومت کو 9 نکاتی تجاویز پیش کی جائیں گی، اپنی تجاویز میں پیپلزپارٹی نے فوجی عدالتوں میں ایک سال توسیع کی تجویز دی ہے۔ آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے فوجی عدالتوں کی مخالفت نہیں کی بلکہ حکومت کو 9 نکاتی تجاویز پیش کی ہیں، فوج ہو یا حکومت ہمارے دروازے مذاکرات کیلئے کھلے ہیں۔علاوہ ازیں سابق صدر آصف علی زرداری سے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کی ملاقات، ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، سینیٹر اعتزاز احسن اور شیری رحمان بھی شریک تھے۔ اس موقع پر امریکی سفارتکار کا پاکستانی عوام کیلئے نیک خواہشات کااظہار بھی کیا۔ دریں اثنا حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میںتوسیع کے معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی کی تجاویز کا جائزہ لینے اور معاملے پر آئندہ دو روز میں پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلانے کا اعلان کردیا،وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر سب کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔وہ پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے،فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر پارلیمانی رہنماﺅں کے گذشتہ اجلاس میں اتفاق رائے سے فیصلے ہوئے تھے،پیپلزپارٹی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ 28فروری کو بعض سیاسی جماعتوں کا موقف تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر دہشتگردی کی حالیہ لہر پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاہم ہم نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 4مارچ کو اے پی سی طلب کررکھی ہے لہذا وہ پہلے اے پی سی کرے،قومی اسمبلی کا اجلاس 6مارچ کو بلائیں گے تاکہ پیپلزپارٹی کو بھی اتفاق رائے میں شامل کیا جاسکے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...