حکومت نے ناموس رسالت قانون میں ترمیم نہ کرنے کا دو ٹوک اعلان نہیں کیا

06 مارچ 2017

اسلام آباد( وقائع نگار خصوصی) تحفظ ناموسِ رسالت ایکٹ 295/C،اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور حکومتی قادیانیت نواز اقدامات ملک اور اسلامکے لیے ناسورکی حیثیت رکھتے ہیں دینی جماعتوں کی آل پارٹیز کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود حکومت کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے حکومت بلاتاخیرتحریک ناموسِ رسالت کے مطالبات تسلیم کرے بصورت دیگر دینی جماعتیں اگلالائحہ عمل بنانے پرمجبورہونگی ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمداسماعیل شجاع آبادی،مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیزالرحمن ثانی،مولانا محمدطیب فاروقی،مولانا قاضی ہارون الرشید،قاری عبدالوحیدقاسمی ،مولانا عبدالنعیم ،مولانا قاری عبدالعزیز،مولانازاہدوسیم نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں کیا۔علماءنے کہا کہ ایک مہینہ گزرنے کے باوجود حکومت نے ناموس رسالت قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم نہ کرنے کا دوٹوک اعلان نہیں کیا اس کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت میں فتور ہے انکے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے کے لیے تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کو فیصلہ کن تحریک چلانے پڑے گی جس کی منصوبہ بندی تقریبا مکمل ہو چکی ہے سوشل میڈیاپر گستاخی کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے آپریشن ردالفساد کا دائرہ بڑھاتے ہوئے چناب نگر کے اندر ریاست در ریاست کا ماحول ختم کیا جائے۔علما ءنے کہا کہ اکھنڈ بھارت کا الہامی عقیدہ رکھنے والے قادیانیوں کو نوازنا بند کیا جائے اورتحریک تحفظ ناموس رسالت کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ و مغربی طاقتیں پاکستان کو ایک لبرل و سیکولر ریاست بنانے کی سازشیں کررہی ہیں اور وہ مذہب اسلام کو پاکستان سے دیس نکالا کرنے کیلئے پاکستان کے اسلامی تشخص اور آئین کی اسلامی شقیں مسخ کرنے پر تلی ہیں ہم اسلام مخالف قوتوں کا اسلام وملک دشمن ایجنڈا ناکام و نامراد بنادیں گے انہوں نے کہا کہ وہ اسلام و پاکستان کے دفاع کیلئے اپنا تن،من،دھن سب کچھ قربان کردینگے لیکن وہ ملکی اسلامی تشخص اور 73ءکے متفقہ آئین کی اسلامی شقوں پر ہرگز ہرگز آنچ نہیں دینگے۔