مالی کرپشن کا خاتمہ کئے بغیر دہشت گردی و انتہا پسندی ختم نہیں ہوسکتی

06 مارچ 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی)انتہاءپسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جدوجہد کو عوامی تحریک کی شکل دینی ہو گی ۔ ملک میں امن و امان کا قیام فوج کی نہیں عوام کی ضرورت ہے ۔ حکومت سیاسی و مذہبی قیادت آپریشن رد الفساد کی مکمل حمایت اور ذمہ داری لیں ۔ پاکستان علماءکونسل کرپشن کے خاتمے کیلئے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی ۔ مالی کرپشن کے خاتمہ کے بغیر دہشت گردی اور انتہاءپسندی ختم نہیں ہو سکتی ۔ یہ بات پاکستان علماءکونسل کے زیر اہتمام لاہور سے ڈیرہ غازی خان تک کاروان امن و سلامتی کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہی ۔ پاکستان علماءکونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے ساتھ اگر قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل ہوتا تو دوبارہ دہشت گردی کے واقعات نہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن رد الفساد کی ہر سطح پر حمایت کی جا رہی ہے ۔ مسلم دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ فکری اور نظریاتی طور پر انتہاءپسندی پھیلانے والوں کو روکنا ہو گا ۔ا نہوں نے کہا کہ حکومت کو قومی بیانیہ کی طرف توجہ دینی ہو گی اور جنرل ناصر جنجوعہ کی سربراہی میں قومی بیانیہ کے سلسلہ میں کوششوں کو عملی شکل دینی ہو گی ۔پاکستان علماءکونسل کے مرکزی وائس چیئرمین مولانا محمد ایوب صفدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس مساجد اور مذہبی طبقہ نے ہمیشہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کے خلاف جدوجہد کی ہے ۔ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کے خلاف مدارس ، مساجد حکومت افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کاروان امن و سلامتی ، آپریشن رد الفساد کی حمایت میں مذہبی قیادت کی طرف سے بھر پور تعاون کا اظہار ہے ۔ پاکستان علماءکونسل پنجاب کے صدر مولانا محمد شفیع قاسمی نے کہا کہ 12 اپریل کو دوسری سالانہ پیغام اسلام کانفرنس دہشت گردی، انتہاءپسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف عالمی فکری اتحاد کا سبب ہو گی ۔ اوکاڑہ اور ساہیوال میں مولانا شکیل قاسمی ، قاری عطاءاللہ رحیمی ، مولانا اشرف عاطف ، قاری اسعد اللہ بصیروی ، ڈاکٹر ریحان اظفر ، مولانا محمد خلیل ، مولانا محمد اسلم قادری ،مولانا عبد القیوم ، مولانا مفتی محمد امجد، مولانا غلام یٰسین بلوچ ، قاری حفیظ الرحمن ، مولانا نذیر احمد ، مولانا طلحہ فیصل ، مفتی صغیر احمد ، مفتی کفایت اللہ ، قاری محمد ابو بکر رشیدی ، مولانا تنزیل الرحمن شاہ ، مولانا نیاز احمد رشیدی ، حافظ غلام محمد ، قاری محمد یوسف ضیاء، مولانا قاری محمد اصغر ، حافظ ربنواز ، حافظ قاری محمد ماجدکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور دیگر قائدین نے کہا کہ پارلیمنٹ نے اگر عدالتی اصلاحات پر کام کیا ہوتا تو آج فوجی عدالتوں کے معاملہ پر تنازعہ پیدا نہ ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے اور فوری طور پر عدالتی اصلاحات کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔