افغانستان نے کبھی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیا ہے نہ ہی آئندہ کریگا: کرزئی

06 مارچ 2017

کابل( نیٹ نیوز) سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کے باوجود اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'پاکستان کے پاس ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر افغانستان کو ڈکٹیٹ کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں'۔سابق افغان صدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ان خیالات کا اظہار کیا۔اپنے ٹوئیٹر پیغام میں حامد کرزئی کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم فاٹا کے عوام کی فرانٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) اور دیگر جبری اقدامات سے آزادی چاہتے ہیں جبکہ حکومت پاکستان کو یہ یاد دہانی بھی کرانا چاہتے ہیں کہ افغانستان نے نہ کبھی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیا ہے اور نہ کبھی کرے گا'۔واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2640 کلو میٹر طویل سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں اور اس کا قیام 1893 میں برٹش انڈیا کے نمائندے سر مورٹائمر ڈیورنڈ اور اس وقت کے افغان امیر عبدالرحمٰن خان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت عمل میں آیا تھا۔