مسلمانوں ہی نہیں دیگر مذاہب کے لوگوں میں بھی دہشتگرد موجود ہیں: ڈینش سفیر

06 مارچ 2017

اسلام آباد (جاوید صدیق) پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر اولن تونکلے نے کہا ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند صرف مسلمانوں میں نہیں دوسرے مذاہب میں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ تین سال میں پاکستان میں امن اور استحکام آ گیا ہے۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں۔ وقت نیوز کے پروگرام ”ایمبیسی روڈ“ میں انٹرویو دیتے ہوئے ڈنمارک کے سفیر نے کہا کہ ڈنمارک میں پاکستانی کمیونٹی معاشرے کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کئی پاکستانی ڈنمارک کی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ ڈینش سفیر سے پوچھا گیا کہ ڈنمارک پاکستان میں ترقیاتی پروگرام چلا رہا ہے۔ یہ پروگرام کون سے ہیں تو ڈنمارک کے سفیر نے بتایا کہ یونیسف کے ساتھ مل کر ہم خیبر پختونخوا اور فاٹا کے علاقے میں تعلیم کا پروگرام چلا رہے ہیں۔ جس کے تحت سات لاکھ سے زیادہ بچوں کو سکول میں داخل کرایا گیا ہے۔ ڈینش سفیر نے بتایا کہ تعلیم کے علاوہ خواتین کی ترقی بھی ان کے ملک کی مدد سے چلنے والے پروگراموں میں شامل ہے۔ ہم پشاور کی خواتین کی دستکاری کی مصنوعات کو کراچی کی ایک فیشن ڈیزائنر فرم سے ملکر مارکیٹنگ کا بندوست کر رہے ہیں۔ ڈنمارک کے سفیر سے استفسار کیا گیا کہ ڈنمارک اور پاکستان میں معیشت اور تجارت میں توسیع کیا امکانات ہیں تو انہوں نے کہا کہ ڈنمارک پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کمپنیوں کا سامان اور سرجیکل آلات درآمد کر رہا ہے جبکہ ڈنمارک پاکستان کو بھاری مشینری ادویات اور آئی ٹی کے شعبہ میں برآمد کرتا ہے۔ ڈنمارک کے سفیر اولن تونکے نے بتایا کہ ڈنمارک پاکستان میں توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے توانائی کی پیداوار میں مدد دے رہا ہے۔ پنجاب میں روجھان میں ایک ہزار میگاواٹ بجلی ہوا سے پیدا کرنے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ فی الحال اڑھائی سو میگاواٹ کے ونڈ پاور پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے۔ ڈنمارک پاکستان کو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے شعبہ میں فنی امداد دے سکتا ہے۔ ڈنمارک جو کمپنیاں پاکستان میں کام شروع کرتی ہیں وہ یہاں کے ماحول سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ ڈینش سفیر نے بتایا کہ پاکستان میں سیکیورٹی حالات بہتر ہونے کے بعد ڈنمارک کی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات بہت بہتر ہوں گے۔