اسلحہ کی سیاست کرنیوالے دین کے نمائندے نہیں ہوسکتے: فضل الرحمن

06 مارچ 2017

کوئٹہ (بیورو رپورٹ) قائد جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے کندھوں پر بندوق کس نے لٹکائی، مورچوں پر لڑنے کی ٹریننگ کس نے دی، اگر اس سب کچھ کیریاست ذمہ دار ہے تو ریاست اپنی ذمہ داری قبول کر لے، مدارس کو کیوں سزا دی جا رہی ہے، پاکستان میں قانون کی عمل داری ہونی چاہئے، چند افراد کی وجہ سے مذہبی طبقوں کو ٹارگٹ کرنا کہاں کا انصاف ہے، اسلحہ کی سیاست کرنے والے دین کے محافظ اور نمائندے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی شریعت کے محافظ ہو سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہاکی گراﺅنڈ میں علماءکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت سے بڑھ کر عوام کو امن اور روزگار کون دے سکتا ہے جو کچھ ملک میں نظر آرہا ہے شکایت تو ہمیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آئےں ملک کو ٹھیک کریں پاکستان میں ستر سالوں میں مولوی صاحبان نے حکومت نہیں کی بلکہ ان جماعتوں اور جاگیرداروں نے حکومتیں کی جنہوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر سیاست کی ہے امریکہ، یورپ اور یہود کو دیکھ کر سیاست کرتے ہیں اپنے دماغ سے کبھی بھی سیاست نہیں کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک سے کرپشن ختم کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے کہ ملک کا نظام جمعیت علمائے اسلام کے حوالے کر دیا جائے، پانامہ لیکس میں بہت سے لوگوں کی کمپنیاں ہیں لیکن ہماری نہیں۔