قرضے و جی ڈی پی کے کم تناسب کا موازنہ حکومتی قرضوں سے نہیں دیگر ممالک سے تھا: سٹیٹ بنک

06 مارچ 2017

کراچی (آن لائن) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے گورنر اشرف محمود وتھرا کے دورہ لاہور چیمبر کے حوالے سے رپورٹ کئے گئے بعض معاملات پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور سٹیٹ بینک کی ٹیم کے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کی خبروں میں سوال و جواب سیشن کے دوران جن حقائق کا تذکرہ آیا ان میں سے کچھ کو غلط رپورٹ کیا گیا ہے۔ ریکارڈ کی درستی اور کسی غلط فہمی کو رفع کرنے کی خاطر یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ اس اجلاس میں ایک سوال پر جس میں ملک کے قرضے و جی ڈی پی کے کم تناسب کا موازنہ دوسرے ملکوں سے کیا گیا تھا اور اسے حکومتی قرضوں سے منسوب کیا گیا تھا۔ ادھر سٹیٹ بینک نے جواب دیا کہ قرضے و جی ڈی پی کے کم تناسب کی ایک وجہ معیشت میں غیررسمی شعبے کی موجودگی ہے، نجی شعبے کا قرضہ بڑھ رہا ہے اور بلند ٹیکس و جی ڈی پی تناسب سے اس میں مزید بہتری آسکتی ہے کیونکہ بلند ٹیکس محاصل حکومت کی قرض کی ضروریات کو کم کریں گے۔ سلائیڈ کے مطابق مالی سال 16 کے آخر میں کارکنوں کی ترسیلات زر 19.9 ارب ڈالر تھیں اور مالی سال 09 تا مالی سال13 کی مدت کے دوران اوسطاً 11 ارب ڈالرکی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ خبروں میں کہا گیا کہ مالی سال 16میں اور مالی سال 09 تا مالی سال 13 کی مدت کے دوران ترسیلات زر میں 19.9 اور 11 فیصد نمو ہوئی جو درست نہیں ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...