مقبوضہ کشمیر جھڑپ میں 5 مجاہدین شہید 2 بھارتی فوج ہلاک

06 مارچ 2017

سرینگر (اے این این+ آن لائن+ نیٹ نیوز) مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال میں بھارتی فوج کا گزشتہ روز سے جاری آپریشن ختم ہو گیا۔ جھڑپ میں 2 اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ شہید ہونیوالے 5 مجاہدین میں سے ایک حافظ قرآن تھا۔ واقعہ کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرے دوسرے روز بھی جاری رہے۔ بھارتی فوج کے لاٹھی چارج اور شیلنگ سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے گزشتہ روز ترال میں مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع پر ایک مکان کو بارود سے اڑا دیا تھا جس کے حلیے سے 5 مجاہدین کی نعشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں ایک حافظ قرآن عاقب بٹ بھی شامل تھا۔ حزب المجاہدین کے شہید کمانڈر برہان وانی کے جانشین بھارتی فوج کا محاصرہ توڑ کر فرار ہونے مےں کامےاب ہو گئے۔ اس واقعہ کے خلاف شہریوں کی بھاری تعداد نے احتجاجی مظاہرے دوسرے روز بھی جاری رکھے۔ شہریوں کو روکنے کے لئے پولیس نے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ قصبے میں صورتحال کشیدہ بتائی جاتی ہے۔ بھارتی فوج کے لاٹھی چارج اور شینگ سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ متعدد کو حراست میں لے لیا گیا۔ شوپیاں میں مجاہدین کی بھارتی فورسز کے کانوائے پر فائرنگ‘ 3 اہلکار زخمی۔ ادھر بھارتی فوج کے ایک اہلکار روشن سنگھ نے ضلع پونچھ کے علاقے لوئر کرشنا گھاٹی میں اپنی سروس رائفل سے خودکشی کرلی۔ خودکشی کے اس تازہ واقعے سے جنوری 2007ءسے مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر 379 ہو گئی۔ سوپور قصبے میں پراسرار دھماکے میں 3 نوجوان زخمی ہ وگئے ہیں۔ حریت کانفرنس نے بھارتی وزیر اطلاعات کے کشمیر سے متعلق دئیے گئے بیان کو ذہنی دیوالیہ پن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ ایکسپوز ہو چکا‘ یہ ملک دنیا میں ایک سامراجی قوت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ڈیمو کریٹک فریڈیم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کو تھانہ سے رہا کر دیا گیا ہے تاہم بزرگ حریت پسند رہنما اور حریت کانفرنس گ کے چیئرمین سید علی گیلانی کو بدستور اپنی حیدر پورہ رہائش گاہ پر نظربند رکھا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے بانڈی پورہ اور گاندر بل کے دو قید نوجوان پر عائد سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم صادر کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر