فوجی عدالتیں ،آصف علی زرداری اور فضل الرحمن

06 مارچ 2017

جب سے سیاسی و عسکری قیادت نے ملک میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے بعض سیاسی جماعتوں کے طرز عمل کی وجہ سے وفاقی حکومت ’’دلدل‘‘ میں پھنستی جا رہی ہے۔ اسے ’’دلدل‘‘ سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ حکومت ایک جماعت کو’’ مناتی ‘‘ہے تو دوسری جماعت’’ ناراض‘‘ ہو جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی فوجی عدالتوں کے کی مدت میں توسیع پر وفاقی حکومت کے ساتھ’’ سیاسی کھیل ‘‘ کھیل رہی ہیں جسے ’’چوہے بلی ‘‘ کا کھیل کہا جائے تو مناسب ہو گا۔ سینیٹر محمد اسحق ڈار کے پاس ہے تو وزارت ’’خزانہ اور اقتصادی امور ‘‘ کا قلمدان لیکن انہیں ’’سیاسی ایڈونچر‘‘ کرنے کا زبردست ’’شوق ‘‘ہے۔ جب سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی پیپلز پارٹی سمیت کچھ سیاسی عناصر سے بن نہیں پا رہی سینیٹر محمد اسحق ڈار میدان سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے لئے ’’سرگرم‘‘ہیں مسلم لیگ(ن) کی غیر سیاسی پس منظر رکھنے والی شخصیت سینیٹر محمد اسحق ڈار سیاسی جماعتوں کے قائدین کے’’ دل‘‘ میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ان کو مسلسل چکر دے رہے ہیں ۔جب انہوں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر پیپلز پارٹی کے سواتمام جماعتوں کے اتفاق رائے کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر ’’کثیر الجہتی سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلانے کا اعلان کر دیا۔ دراصل اس نے اے پی سی کی طرز پر سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلا کر وفاقی حکومت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت فوج کی خواہش پر عدالتیں نہیں قائم کر سکتی ۔اسے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے جس ’’پل صرا ط‘‘ سے گذرنا پڑے گا۔ اس پر پیپلز پارٹی کے سہارے کی ضروت ہو گی حکومتی اعلانات کے باوجود تاحال یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی ۔حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کی مدد کے بغیر بآسانی آئینی ترمیم کو منظور کرا لے گی ابھی اسے مزیدپاپڑ بیلنا پڑیں گے دونوں ایوانوں میں پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کے آخری اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے آئینی ترمیم کی حمایت فوجی عدالتوں کی کار کردگی کی مانیٹرنگ کے لئے ’’اوور سائٹ‘‘کمیٹی تشکیل کی شرط منظور کرنے پر کی گئی لیکن پیپلز پارٹی نے 28فروری2017ء کو سپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس کا ’’غیر اعلانیہ‘‘ بائیکاٹ کر کے حکومت پر واضح کر دیا کہ وہ غیر مشروط طور فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی حمایت نہیں کرے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحقٰ ڈار کا پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ’’ پس پردہ ‘‘ رابطہ قائم رہتا ہے اور وہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کی ’’ناز برداریاں‘‘ بھی کرتے رہتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی ان کے ہاتھ نہیں آرہی اور وہ حکومت کو ’’تگنی کا ناچ ‘‘ نچانا چاہتی ہے۔ شنید ہے پیپلز پارٹی کی قیادت نے سینیٹر محمد اسحقٰ ڈار کو درپردہ یقین دہانی کرا رکھی تھی کہ پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام ہونے والی’’ کثیر الجہتی کانفرنس‘‘ میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی حمایت کا اعلان کر دیا جائے گا لیکن پیپلز پارٹی نے ’’باضابطہ‘‘ طور پر فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کرکے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی کثیر الجہتی کانفرنس بھی عجب سیاسی ڈرامہ تھا جس میں پیپلز پارٹی نے حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کو مدعو ہی نہیں کیا جب کہ تحریک انصاف،ایم کیو ایم اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے شرکت نہیں کی ان تین جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے ’’سیاسی شو‘‘ میں کوئی دلچسپی نہیں لی مسلم لیگ (ن) کی کانفرنس میں عدم شرکت کانفرنس کی ناکامی کا باعث نہیں بنی ہے پیپلز پارٹی کی قیادت نے ’’ہوم ورک ‘‘ مکمل کئے بغیر کانفرنس طلب کر لی۔ پیپلز پارٹی کی دعوت پر جن13سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اس میں خود پیپلز پارٹی کے نام کی دو جماعتیں ہیں گویا آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔ کانفرنس بے نتیجہ رہی کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ ہی جاری نہ ہو سکا۔ سر دست صورت حال یہ ہے اگر وفاقی حکومت پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی بات مانتی ہے تو جمعیت علماء اسلام ’’ناراض‘‘ ہو جاتی ہے۔ ایک مرحلے پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے آئینی ترمیم سے دہشت گردی کے تناظر میں ’’مذہب اور مسلک‘‘ کے الفاظ حذف کرنے کی مخالفت میں اکٹھی ہوگئی تھیں لیکن جب پیپلز پارٹی نے کانفرنس بلائی تو تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) کے فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے تیار کردہ آئینی ترمیم کے مسودہ کی حمایت کرنے کا چونکا دینے والااعلان کر دیا ۔پارلیمانی جماعتوں کی قیادت کے درمیان فوجی عدالتوں کی مدت میں تین کی بجائے دو سال کی توسیع کے لئے آئینی ترمیم کی حمایت پر جہاں اصولی طور پر اتفاق رائے ہوگیا ہے، وہاں فوجی عدالتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ’’ نگران پارلیمانی کمیٹی‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ سیاسی جماعتوں کی ایک بڑی کامیابی ہے ۔قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدار ت منعقدہ پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق رائے سینیٹ اجلاس میں 3 مارچ2017ء کو طلب کر لیا گیا لیکن تا حال سینیٹ میں ’’ نگران پارلیمانی کمیٹی ‘‘ کی قرارداد پیش نہیں کی جاسکی ۔قومی اسمبلی کا 40واں سیشن آج شروع ہو رہا ہے اب دیکھنا یہ ہے وفاقی حکومت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں فوجی عدالتوں کے قیام بارے آئینی ترمیم کب پیش کرتی ہے۔ آئینی ترمیم کی منظوری سے فوجی عدالتوں میں توسیع 7 جنوری 2017سے ہو گی اور دو سال کے بعد مقدمات خود بخود فوجی عدالتوں سے انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو منتقل ہوجائیں گے ۔مولانا فضل الرحمن کا آصف علی زرداری سے ’’ پرانا یارانہ‘‘ ہے لیکن تا حال مولانا فضل الرحمنٰ اپنے پرانے دوست آصف علی زرداری سے اپنا موقف تسلیم نہیں کرا سکے۔ تاحال پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمن کے موقف کی مخالفت کر رہی ہے ہفتہ کو اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی دعوت پر ہونے والی کانفرنس میں مولانا فضل الرحمنٰ نے شرکت تو کی لیکن وہ ایجنڈے پر فاٹا کا ایشو لانے پر’’ ناراض ‘‘ہو کر چلے گئے وہ ’’کراہتاً اور ناپسندیدگی‘‘ کے ساتھ فوجی عدالتوں کو قبول کرنے کو تیار نظر آتے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا ہے ۔کہ ’’مذہب اور مسلک‘‘ کو انسداد دہشت گردی قانون سے علیحدہ نہ کیا گیا تو وہ آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کریں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور سینیٹر محمد اسحق ڈار نے جنہیں موجودہ حکومت میں ہر مرض کی ’’دوا‘‘ کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے تحریک انصاف کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر آئینی ترمیم کی حمایت پر کس طرح آمادہ کیا ہے اس بارے میں ’’راز‘‘ کی بات منظر عام پر نہیں آئی البتہ سیاسی حلقوں میں تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کے آئینی ترمیم کے مسودہ کی حمایت پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے سیاسی شو میں مسلم لیگ(ن) ،تحریک انصاف ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم کی عدم شرکت نے زرداری کے شو کو گہنا دیا ہے ۔سر دست پیپلزپارٹی نے ایک سانس میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی باضابطہ طور پر مخالفت کر رہی ہے لیکن دوسری سانس میں اس بات کا راگ بھی الاپ رہی ہے کہ اگر فوجی عدالتوں کی بحالی ضروری ہوئی تو اس کیلئے پیپلزپارٹی اپنا بل لے کر آئے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کی مخالف ہے اور اس نے اپنے اصولی موقف کو اے پی سی میں بھی دہرایا ہے،فوجی عدالتیں ضروری ہوئیں تو پیپلزپارٹی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اپنا آئینی ترمیم لائے گی حکومت فوجی عدالتوں کی متبادل اصلاحات کے نفاذ میں بھی ناکام رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف واضح نہیں وہ یہ بھی کہتی ہے فوجی عدالتوں کی آئینی ترمیم پر ڈیڈلاک پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ آئینی ترمیم نے دوتہائی اکثریت سے منظور ہوگی ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئینی ترمیم کی منظوری میں پیپلز پارٹی اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیار ہے ۔ فاروق ایچ نائیک نے آئینی ترمیمی بل کا مسودہ تیار کرلیا ہے ۔اگر ڈیڈ لاک پیدا ہوا تو پیپلزپارٹی حکومتی بل میں ترامیم پیش کردے گی آل پارٹیز کانفرنس میں مختلف جماعتوں کے سربراہان نے جن تحفظات کااظہار کیا ہے ان کو دور کیا جاسکے گا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا موقف ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی اصولی طور پر مخالف ہے اس نے سوال اٹھایا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے جن 161 افراد کو پھانسیاں دینے کے فیصلے کئے گئے ان میں کتنے ’’بلیک جیٹ‘‘ دہشتگرد تھے؟ پیپلز پارٹی کی فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے نئے قانون کی بات کرہی ہے ۔معلوم نہیں وہ کس قسم کا نیا قانون چاہتی ہے اس
کے ساتھ وہ وزیر اعظم سے ٹھوس عدالتی اصلاحات کی ضما نت کی بھی طلب گار ہے ۔ در اصل پیپلز پارٹی ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر پریشان ہے ایان علی کو تو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی ہے لیکن تاحال ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ سمجھ نہیں آتا آصف علی زرداری کو ایسی اے پی سی کے انعقاد کا ڈرامہ رچانے کی ضرورت کیوں پیش آئی جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔جب تک پیپلز پارٹی آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کرتی حکومت کوسینیٹ سے آئینی ترمیم منظور کرانے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے سیاسی جماعتیں کب تک اپنے سیاسی مفادات کی قربان گاہ قومی مفادات کو چڑھاتی رہیں گی ۔وفاقی حکومت فوجی عدالتوں کے قیام کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کو کس طرح ’’رام‘‘ کرتی ہے اس سوال کا ہفتہ عشرہ میں جواب مل جائے گا ۔