ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے ڈرون حملے پر اٹھتے سوالات

06 مارچ 2017

رات سونے سے قبل سوچا تھا کہ پیر کی صبح جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو PSL-2کی گہماگہمی ختم ہوچکی ہوگی۔ ایک نئے ہفتے کا آغاز ویسے بھی چند سنجیدہ موضوعات پر غور کا تقاضہ کرتا ہے اور میری دانست میں گزشتہ جمعرات کے روز امریکی ڈرون طیاروں نے ہمارے ایک قبائلی قصبے پر جو میزائل پھینکے وہ انتہائی غور طلب معاملہ ہے۔
ڈرون طیاروں کے ذریعے ہماری سرزمین پر مہلک ہتھیار پھینک کر چند افرادکو صحیح یا غلط بنیادوں پر ہلاک کردینا یقینا ہماری قومی خودمختاری کی توہین ہے۔ امریکی مگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دور سے یہ ڈرون خفیہ طورپر طے ہوئے کسی معاہدے کی بدولت پاکستانی سرزمین میں درآتے ہیں۔ جنرل مشرف کے بعد سے آئی ہر حکومت مگر ڈرون حملوں کی ہمیشہ ”مذمت“ کرتی ہے۔ کھلے الفاظ میں کسی معاہدے کی موجودگی کو شدید الفاظ میں رد بھی نہیں کرتی۔
ڈرون طیارے کو پائلٹ درکار نہیں ہوتا۔ اپنے ہدف سے ہزاروں میل دور بیٹھا کوئی شخص اسے ریموٹ کے ذریعے چلاتا ہے۔ مئی 2011کی ایک شب مگر امریکی طیارے کئی فوجیوں کو لے کر ایبٹ آباد بھی آگئے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ وہاں کے ایک گھر میں اسامہ بن لادن کئی مہینوں سے بیویوں اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ ایبٹ آباد پہنچ جانے کے بعد امریکی فوجیوں نے اس گھر میں گھس کر اسامہ کو ہلاک کردیا۔ ہمیں اس نے سرکاری طورپر اس آپریشن کی تفصیلات بتانے کا تردد نہیں کیا۔اپنا ”شکار“ مارلینے کے بعد البتہ اس وقت کی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل مولن نے ہمارے جنرل کیانی کو صرف اس کے بارے میں ”مطلع“ کیا تھا۔ اس کے بعد ایک ٹیلی فون صدر آصف علی زرداری کو بھی موصول ہوا۔
اسامہ کی ہلاکت کے لئے ہوئے آپریشن کے بارے میں ہماری ”سب پر بالادست“ پارلیمان نے بہت دہائی مچائی تھی۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی کارروائی صحافی پریس گیلری سے دیکھ کر اسے رپورٹ نہیں کرسکتے تھے۔ ہمارے نمائندوں کو بھی اس کی تفصیلات برسرِ عام لانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس اجلاس کے اختتام پر اگرچہ ایک متفقہ قررداد پاس ہوئی۔ ا س قرارداد کی بدولت سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم ہوا۔ اس کمیشن کو یہ فرض سونپا گیا کہ وہ قومی سلامتی سے متعلقہ کسی بھی شخص کو اپنے روبرو طلب کرے۔ ذمہ دار افراد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کے ایک مکان میں موجود تھا بھی یا نہیں۔ جواب اگر ہاں میں ہے تو اس مکان تک کب اور کیسے پہنچا اور کیوں ہماری 26کے قریب ایجنسیاں اس کی بھنک تک نہ پاسکیں۔
اس کمیشن کے کئی اجلاس ہوئے۔ بالآخر ایک رپورٹ بھی لکھ دی گئی۔ وہ رپورٹ راجہ پرویز اشرف کے دنوںسے وزیر اعظم کے دفتر میں موجود ہے۔ اس دفتر میں اب نواز شریف کو بیٹھے ہوئے بھی تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے۔ پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کو لیکن یہ رپورٹ منظر عام پر لانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ گزشتہ سال کے اپریل سے موصوف بلکہ پانامہ دستاویز کی وجہ سے اُٹھے سوالات کے جوابات دیتے پائے جارہے ہیں۔ان کے سیاسی مخالفین کو یقین ہے کہ وہ تسلی بخش جوابات فراہم نہیں کر پائے ہیں۔ ان کا جانا اس حوالے سے گویا صبح گیا یا شام گیا والا معاملہ ہوچکا ہے۔ کاش بحیثیتِ قوم ہم نے اسامہ آپریشن کے بارے میں بھی تفصیلات جاننے کے لئے اتنی ہی تڑپ دکھائی ہوتی جو شریف خاندان کے اثاثوں کی ”منی ٹریل“ ڈھونڈنے کے لئے دکھائی گئی ہے۔
اسامہ کی دیدہ دلیرانہ ہلاکت جتنا سنگین تو نہیں مگر کئی حوالوں سے اہم ترین ایک اور واقعہ گزشتہ مئی میں طالبان کے امیر ملا منصور کی بلوچستان کے ایک مقام پر ڈرون کے ذریعے ہلاکت بھی تھی۔ سابق امریکی صدر نے اس حملے کا بذاتِ خود ویت نام کے دورے میں اعلان کیا تھا۔ ہم کئی روز تک مگر یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ڈرون کے ذریعے مارا گیا شخص ملامنصور نہیں کوئی ولی محمد ہے جس کے پاس ہمارا قومی شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ بھی تھا۔ اس نے اس پاسپورٹ پر دوبئی اور ایران کے کئی سفر بھی کئے تھے۔ کراچی میں اس کی اہلیہ ایک فلیٹ میں رہا کرتی تھی۔ ولی محمد کا عارضی پتہ بھی وہی فلیٹ تھا۔ چند روز گزرنے کے بعد ”ولی محمد“کے کچھ رشتے دار مگر افغانستان سے پاکستان آئے۔ انہوں نے اقرار کیا کہ ہلاک شدہ شخص ”ولی محمد“ نہیں ملامنصور ہے۔ یہ ”اطلاع“ دینے کے بعد وہ رشتے دار ملامنصور کی لاش کو اپنے وطن لے گئے۔ قومی سلامتی کے بارے میں مسلسل سیاپا فرماتے ہم میڈیا والوں نے اس قصے کی تفصیلات معلوم کرنے میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔
ہماری عدم دلچسپی کی ایک وجہ شاید یہ حقیقت بھی رہی ہوکہ مئی 2016ءکے بعد ڈرون طیارے سے ہماری سرزمین پر کوئی میزائل نہیں گرایا گیا تھا۔ گزشتہ جمعرات کو مگر ایک اور میزائل پھینک دیا گیا ہے۔ٹرمپ کے امریکی صدر کے عہدے کا حلف لینے کے بعد یہ پہلا میزائل ہے جو ڈرون طیارے کے ذریعے ہمارے ہاں آیا۔ ہماری وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کی خاص ”مذمت“ بھی نہیں کی ہے۔
ہمیں کوئی ذمہ دار شخص یہ بتانے کو آمادہ ہی نہیں کہ اس میزائل کا شکار ہوئے دو لوگ درحقیقت کون تھے۔ انہیں ٹرمپ انتظامیہ نے اپنا پہلا شکار کیوں بنایا۔ ان سوالوں کا جواب مل جاتاتو اس سوال پر غور کرنے میں بھی آسانی ہوجاتی کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان پر ڈرون حملوں کی پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جواب اگر ہاں میں ہے تو ہمارے ہاں اس کے ممکنہ شکار کہاں موجود ہوسکتے ہیں۔آپریشن ضربِ عضب ان کا سراغ کیوں نہ لگاپایا اور سوال یہ بھی کہ آیا یہ ممکنہ شکار ردالفساد کے نام سے شروع ہوئے آپریشن کے راڈارپر بھی موجود ہیں یا نہیں۔
یہ سوالات اٹھانا ضروری ہے کیونکہ لاہور اور سہیون شریف میں ہوئی دہشت گردی کے واقعات کے بعد سے ہم مسلسل یہ دعویٰ کئے چلے جارہے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین پر اس وقت کوئی دہشت گرد موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں تباہی پھیلانے والوں کے تمام مراکز اس وقت پاکستان کی سرحد کے قریب افغانستان کے علاقوں میں موجود ہیں۔ ہم نے چند مراکز کو اپنی سرزمین سے مختلف النوع توپوں کے ذریعے بم گراکر تباہ بھی کردیا ہے۔ دہشت گردوں کے کئی محفوظ ٹھکانے مگر اس وقت بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ افغان حکومت کو ان کے خاتمے پر مجبور کرنے کے لئے ہم نے اس وقت اس کے ساتھ ہر طرح کا رابطہ بھی منقطع کررکھا ہے۔ طورخم اور چمن کی سرحد باقاعدہ تجارت کے لئے کئی روز سے بند ہے۔ مستند دستاویز کے ساتھ بھی افغانی اور پاکستانی ایک دوسرے کے ملک آمدورفت کے حقدار نہیں رہے۔
پاکستانی سرحد کے اندر ایک مقام پر میزائل کے ذریعے دو لوگوں کو ہلاک کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ نے درحقیقت دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دہشت گردوں کی ایک ”خاص قسم“ پاکستان میں اب بھی موجود ہے۔ ہماری ریاست شاید ان پر قابو پانے کو تیار نہیں۔اس لئے امریکہ کو ان کے خاتمے کے لئے ڈرون طیارے استعمال کرنا پڑرہے ہیں۔ PSL-2کی گہماگہمی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے لیکن ہم اس اہم پہلو کی طرف توجہ نہیں دے پائے ہیں۔
میں بھی اس کالم میں اس پہلو پر پوری توجہ نہیں دے پایا کیونکہ صبح اُٹھتے ہی ایک SMSدیکھنے کو ملا۔ میں اسے بھیجنے والے کو ہرگز نہیں جانتا۔ اس شخص نے مگر بہت ”عالمانہ “رعونت کے ساتھ مجھے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کا ”اصل المیہ“-جی ہاں اس شخص نے یہی الفاظ استعمال کئے-یہ ہے کہ ”برصغیر میں اسلام عرب سے براہِ راست نہیں‘ بذریعہ ایران آیا تھا“۔ایران سے اسلام ہمارے ہاں صوفی ازم لے آیا جضصو درحقیقت”قبرپرستی“ ہے۔
میں یہ پیغام پڑھنے کے بعد سے بھنایا ہوا ہوں۔ کاش یہ پیغام بھیجنے والے کا سراغ لگاکر اس کا سامنا کرسکتا اور گڑگڑاتے ہوئے اس سے معلوم کرتا کہ محمد بن قاسم موجودہ ایران کے کونسے شہر میں پیدا ہوا تھا۔ اس ”عالم“ کے روبرو میں نقشہ دیکھ کر یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش کرتا کہ مالابار کہاں ہے۔کیا وہ ”برصغیر (پاک وہند)“ ہے یا نہیں۔وہاں اسلام کب پہنچا اور کیا اسے پہنچانے والے کشتیوں کے ذریعے سفر کرنے والے عرب تاجر تھے یا نہیں۔تعصب اور جہالت پر مبنی پیغامات پڑھنے سے آپ کا دن شروع ہوتو سنجیدہ معاملات کے بارے میں معقول سوالات اٹھانے کی مہلت کیسے نصیب ہوگی؟

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...