مقبوضہ کشمیر : چودہ گھنٹے طویل جھڑپ‘ کمانڈر سمیت تین مجاہدین شہید ہونے کی تصدیق‘ دو بھارتی فوجی جہنم رسید‘ میجر سمیت پانچ زخمی

06 مارچ 2017

سری نگر (نیوز ڈیسک+ ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال کے گاﺅں نازنین پورہ میں بھارتی فوج کا گزشتہ روز سے جاری آپریشن ختم ہوگیا۔ جھڑپ میں 2 بھارتی فوجی ہلاک میجر سمیت 5 زخمی جبکہ 3مجاہدین شہید ہوئے ان میں سے ایک حافظ قرآن تھے۔ واقعہ کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرے دوسرے روز بھی جاری رہے۔ بھارتی فوج کے لاٹھی چارج اور شیلنگ سے 20 افراد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی فورسز نے گزشتہ روز ترال کے گاﺅں نازنین پورہ میں مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع پر گھیراﺅ کرکے مکان کو بارود سے اڑا دیا جس کے ملبے سے حزب المجاہدین کے2 مجاہد سیف اللہ عرف اسامہ اور کمانڈر عاقب بھٹ المعروف مولوی عاقب اور ان کے ساتھی کی نعشیں برآمد ہوئیں جبکہ شہید کمانڈر برہان وانی کے جانشین سبزار بھٹ بھارتی فوج کا محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ حزب المجاہدین کے مجاہدین اہم میٹنگ کے لئے ایک گھر میں موجود تھے کہ کسی غدار کی مخبری پر بھارتی فورسز نے گھر کا محاصرہ کر لیا جو 14 گھنٹے تک جاری رہا اس دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا گھر کو تباہ کرنے کے لئے 2 مرتبہ بارود نصب کرنے والے کانسٹیبل منظور نائیک کو مجاہدین نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، کمانڈر مولوی عاقب حافظ قرآن تھا۔ اس واقعہ کے خلاف کشمیریوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے دوسرے روز بھی جاری رکھے۔ شہریوں کو روکنے کے لئے پولیس نے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ مجاہدین کی نماز جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور بھارتی مظالم کیخلاف نعرے لگائے۔ بھارتی فوج کے لاٹھی چارج اور شیلنگ سے 20 افراد زخمی ہوگئے۔ 40 کو حراست میں لے لیا گیا۔ ادھر شوپیاں میں مجاہدین نے بھارتی فورسز کے قافلے پر فائرنگ کردی جس سے 3 اہلکار زخمی ہوگئے ۔ بھارتی فوج کے ایک اہلکار روشن سنگھ نے ضلع پونچھ کے علاقے لوئر کرشنا گھاٹی میں اپنی سروس رائفل سے خودکشی کرلی۔ خودکشی کے اس تازہ واقعے سے جنوری 2007ءسے مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر 379 ہو گئی۔ سوپور قصبے میں بھارتی ایجنٹوں کے نصب کردہ بارودی مواد کے دھماکے میں 3 نوجوان زخمی ہوگئے۔ دوسری طرف ڈیمو کریٹک فریڈیم پارٹی کے سربراہ شبیر شاہ کو تھانہ سے رہا کر دیا گیا تاہم بزرگ حریت پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین علی گیلانی کو بدستور اپنی حیدر پورہ رہائش گاہ پر نظربند رکھا گیا۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے بانڈی پورہ اور گاندر بل کے دو قید نوجوان پر عائد سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم صادر کردیا۔ دریں اثناء کل جماعتی حرےت کانفرنس کے چےئرمےن علی گیلانی نے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں شہید ہونے والے 3 نوجوانوں کو شاندار خراج عقےدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہ سرفروش ایک مقدس نصب العےن کے لیے اپنی جانےں قربان کر رہے ہیں اور ہم پر یہ ملّی اور قومی ذمہ داری ڈالتے ہیں کہ ہم ان کے مشن کو ہر صورت میں اور ہر قیمت پر جاری رکھیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیری ایک امن پسند قوم ہےں لےکن بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس خطے میں خون خرابہ جاری ہے۔مظلوم کشمےری عوام بے سروسامانی کی حالت مےں بھی اپنی زندگیوں کو خطروں میں ڈال کر اپنے ان سرفروشوںکو قابض فورسز کے پنچوں سے نکالنے کے لیے بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں۔ سابق بھارتی وزیر خارجہ اور بی جے پی کے سینئر رہنما یشونت سنہا نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے مسائل حل کئے بغیر انہیں الگ تھلگ کرنے سے فائدہ صرف پاکستان کو ہو گا، اسلام آباد کا راستہ سری نگر سے ہوکر گزرتا ہے مگر اسلام آباد سے کوئی راستہ سری نگر نہیں جاتا، پاکستان کے ساتھ تنازعات کو حل کرنے کےلئے پہلے ہمیں کشمیریوں کے مسائل کا حل نکالنا ہو گا۔ نئی دلی میں کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمیں ہٹ دھرمی کی پالیسی ترک کرکے لچک دار رویہ اپنانا چاہئے۔
مقبوضہ کشمیر

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...