چین کی ’’شیئرنگ اکانومی‘‘ میں 2016میں103فیصد کا اضافہ ، رپورٹ

06 مارچ 2017

بیجنگ(آئی این پی)ایک نئی رپورٹ کے مطابق چین کی ’’شیئرنگ اکامی‘‘ میں لین دین کے حجم میں 103فیصد اضافے کے ساتھ 2016میں اضافہ ہوا ۔ اس شعبے میں گزشتہ سال قریباً3.45ٹرلین یوئین (500بلین امریکی ڈالر) مالیت کے معاہدے ہوئے ۔ یہ بات سرکاری انفارمیشن سینٹر کے ماتحت شیئرنگ اکانومی ریسرچ سینٹر کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے ۔ زیر تبصرہ مدت کے دوران اس صنعت میں مجموعی طور پر 600ملین افراد ملوث تھے جو کہ گزشتہ سال سے 100ملین زیادہ ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ، مختصر مدت کیلئے مکانوں کو کرائے پر دینے اور میڈیکل سروسز میں زبردست اضافہ ہوا۔ اس شعبے میں کمپنیوں نے گزشتہ سال 171بلین یوئین کمائے جو کہ سالانہ 130فیصد اضافہ ہے ۔ یہ شعبہ آئندہ چند برسوں میں 40فیصد کی اوسط سالانہ شرح سے ترقی کرے گا جو کہ رپورٹ کی پیشنگوئی کے مطابق2020تک ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا 10فیصد سے زیادہ ہوگا ۔ توقع ہے کہ چین بورژورا سیکٹر میں میگا کمپنیاں قائم کرے گا ۔یہ بات شی ،عین جیائو ٹانگ یونیورسٹی کے پروفیسر لائی فویو نے بتائی ہے ۔ ملک کے اعلیٰ مقننہ کے سالانہ اجلاس کی افتتاحی نشست میں اتوار کو فراہم کی جانے والی ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق حکومت شیئر اکانومی کی ترقی کی مدد اور رہنمائی جاری رکھے گی ۔