پاکستان کے پاس ڈکٹیشن کا اختیار ہے نہ ڈیورنڈ لائن کو کبھی تسلیم کرینگے : کرزئی کی زہرافشانی

06 مارچ 2017

کابل (نیٹ نیوز) سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کے باوجود اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'پاکستان کے پاس ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر افغانستان کو ڈکٹیٹ کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔ سابق افغان صدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ خیال رہے کہ پاکستان نے فروری میں دہشت گردی کی نئی لہر کے پیش نظر 16 فروری کو پاک افغان سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی تھی۔سرحد کی بندش پر افغانستان کی جانب سے شدید مذمت کی جارہی ہے جبکہ پاکستان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ فوری طور پر سرحد کو کھولے اور دونوں اطراف پھنسے لوگوں کو داخلے کی اجازت دے۔اپنے ٹوئیٹر پیغام میں حامد کرزئی کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم فاٹا کے عوام کی فرانٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) اور دیگر جبری اقدامات سے آزادی چاہتے ہیں جبکہ حکومت پاکستان کو یہ یاد دہانی بھی کرانا چاہتے ہیں کہ افغانستان نے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیا ہے اور نہ کبھی کرے گا'۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں افغان سفیر عمر زاخیل وال نے بھی فیس بک پر کہا تھا کہ اگر آئندہ چند دنوں میں پاک افغان سرحد نہ کھولی گئی تو وہ اپنی حکومت سے چارٹرڈ طیارہ بھیجنے کی درخواست کریں گے۔واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2640 کلو میٹر طویل سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں اور اس کا قیام 1893 میں برٹش انڈیا کے نمائندے سر مورٹائمر ڈیورنڈ اور اس وقت کے افغان امیر عبدالرحمٰن خان میں ہونے والے معاہدے کے تحت عمل میں آیا تھا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...