صحابی رسول کے نام وقف اراضی ’’چرچ‘‘ کو الاٹ کرنے پر محمود عباس کیخلاف مقدمہ

06 مارچ 2017

الخلیل (اے این این) فلسطین کے تاریخی شہر الخلیل میں واقع صحابی رسول حضرت تمیم الداری کے نام وقف املاک ایک عیسائی عبادت گاہ (چرچ) کیلئے دینے پر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے خلاف عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ کے خاندان کے چشم وچراغ روحی ابو یعقوب ابو ارمیلہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے فلسطین کی انسداد بدعنوانی کی عدالت میں صدر محمود عباس کے اقدام کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت حضرت تمیم الداری کے نام منسوب وقف اراضی کو گرجا گھر کو دیئے جانے کا فیصلہ منسوخ کرانے کا حکم دے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر محمود عباس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک جلیل القدر صحابی کے نام وقف کی گئی اراضی کو روس کے گرجا گھر کے لئے دینے کا فیصلہ کرکے اسلامی اوقاف کے اصولوں سے انحراف کیا ہے۔ ابو رمیلہ کا کہنا ہے کہ محمود عباس نے فلسطینی سپریم کورٹ کے فیصلے سے بھی تجاوز کیا ہے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ فیصلہ سنا چکی ہے کہ اسلامی اوقاف کو گرجا گھروں یا کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کو نہیں دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسداد کرپشن کے چیئرمین رفیق النتشہ کو درخواست دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حضرت تمیم الداری کے نام وقف اراضی عیسائی عبادت گاہ کو دینے کا فیصلہ رکوائیں۔