چینی معیشت کی ترقی کا ہدف کم کر کے 6.5 فیصد مقرر کر دیا گیا

06 مارچ 2017

بیجنگ (صباح نیوز+بی بی سی+ این این آئی+ آئی این پی) چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے ملکی ترقی کا ہدف تقریباً چھ اعشاریہ پانچ فیصد مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ گذشتہ برس 6.5 سے لے کر سات فیصد تک تھا۔ وزیراعظم نے یہ اعلان بیجنگ میں ملکی پارلیمان، نیشنل پیپلز کانگرس کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔یاد رہے کہ گذشتہ برس کے دوران چین کی معیشت میں ترقی کی شرح 26 سالہ تاریخ میں سب سے کم رفتار سے ترقی کی ہے۔کوئلہ اور سٹیل بنانے والے ایسے ریاستی اداروں کو کنٹرول کریں گے جنھیں چلانے کے لیے حکومتی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں چینی حکام کی جانب سے کیے جانے والے اس قسم کے وعدے پورے نہیں ہو سکے ہیں۔بیجنگ کے گیٹ ہال میں پارلیمینٹ کے 3000 سے زائد ارکان موجود تھے۔ وزیراعظم نے ملکی مسائل کی جانب اشارہ کیا۔ انھوں ماحولیاتی آلودگی کو ایک مسئلہ قرار دیا اور اور چند افسروں کی کاہلی کو بھی ترقی کے راستے میں رکاوٹ قرار دیا۔ چین تائیوان کی آزادی کی مکمل طورپر مخالفت کرے گا اور وہاں علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا ،چین سے تائیوان کو علیحدہ کرنے کی کوئی بھی کوشش اور وہاں کسی قسم کی ایسی سرگرمی جو کسی بھی نام سے ہو برداشت نہیں کی جائے گی ۔ یہ بات بھی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے جو چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے سالانہ پارلیمانی اجلاس میں پیش کی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے۔