لاپتہ افراد بازیابی کمشن‘ فروری کی رپورٹ جاری‘ 35 کیس نمٹا دیئے‘ 27 بازیاب

06 مارچ 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وفاقی حکومت کی طرف سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیشن نے فروری 2017ء کی رپورٹ جاری کردی۔ کمیشن نے گزشتہ ماہ کے دوران مبینہ طور پر جبری گمشدگیوں کے286 کیسوں کی سماعت کرتے ہوئے 35 کیس نمٹادئیے، 27 افراد کو بازیاب کرایا گیا جبکہ گزشتہ ماہ کے دوران کمیشن کے پاس مبینہ طور پر جبری گمشدگی کے 52 نئے کیس درج ہوئے جس سے زیر تفتیش کیسوں کی تعداد 1240 ہوگئی ہے ۔ سیکرٹری فرید احمد خان کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق فروری 2017ء کے دوران جسٹس (ر) جاوید اقبال، جسٹس (ر) ڈاکٹر غوث محمد اور سابق آئی جی پولیس محمد شریف ورک پر مشتمل کمیشن نے مبینہ طورر پر زبردستی اٹھائے جانے والے ا فراد کے206 کیسوں کی اسلام آباد اور 80کیسوں کی کراچی میںسماعت کی، کمیشن کے سامنے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے پیش ہوئے، فروری میں کیسوں کی تفصیلی سماعت کے دوران27 لاپتہ افراد کا سراغ لگایاگیاجبکہ 4افراد کے کیس جبری گمشدگی کے زمرے میں نہ آنے پر فہرست سے خارج کردئیے گئے، 3 کیسوں کو نامکمل کوائف پر بند کر دیا گیا اور ایک ڈیڈ باڈی ریکور کرائی گئی۔ جن افراد کا پتہ چلایا گیا ان میں محمد اسلم ‘ زوہیب‘ ندیم بلوچ‘ ندیم قاضی‘ اختر علی‘ محمد کلیم خان‘ عمر دراز‘ رائو شرافت علی‘ شعیب غفران‘ عبدالواحد‘ ساجد خان‘ سلمان حیدر‘ وقاص گورایہ‘ عاصم سعید‘ احمد رضا‘ موسیٰ خان‘ فاروق عمر‘ عظیم خان‘ راحیل محفوظ‘ سید مراتب علی شاہ‘ محمد اکرم ‘ طاہر فاروق بھٹی‘ قاسم علی‘ رضوان علی‘ ہیبت خا ن،محمد عقیل احمد اور محمد نعمت نور شامل ہیں۔ جن افراد کے کیس خارج کردیئے گئے ان میں کاشف قادر‘ طلحہ پرویز اور رشید خان شامل ہیں، جو کیس بند کردیئے گئے ان میں خالد نواز‘ عبدالصمد‘ اصل باز اور شہناز بی بی شامل ہیں جبکہ سمیع اﷲ کی ڈیڈ باڈی ریکور کی گئی۔ جن افراد کا پتہ چلایا گیا ان میں بعض بحالی مراکز میں ہیں۔عوام کی سہولت کیلئے کمیشن نے www.coioed.pk کے نام سے ویب سائٹ بنا دی ہے جس پر کیسوں کی تفصیل اور سماعت کی تاریخوں سمیت دیگر معلومات دستیاب ہیں جبکہ سول سیکرٹریٹ پنجاب لاہور میں کمیشن کا باضابطہ طور پر سب آفس قائم کر دیا گیا ہے۔ اس سب آفس کا رابطہ نمبر 042.99210884 ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...