ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس کا تاریخ ساز فیصلہ‘ سیاسی و عوامی حلقوں کا خیرمقدم

06 مارچ 2017

اسلام آباد (نواز رضا + وقائع نگار خصوصی) سیاسی و عوامی حلقوں میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور اسے اس لحاظ سے تاریخی قرار دیا گیا ہے۔ ملکی تاریخ میں کم ہی ایسے مواقع دیکھنے کو آئے ہیں جب کسی جج نے کسی ایسے کیس میں کہ جہاں ملکی ’’اشرافیہ‘‘ کے مفاد وابستہ ہو اور جس کے تحفظ کیلئے ملک کے مایہ ناز وکلاء اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوں وہاں ایک فاضل جج کی جانب سے قواعد و ضوابط، آئین و قانون اور انصاف کے عَلم کو سر بلند رکھتے ہوئے کیس کے میرٹ اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مدلل اور انصاف پر مبنی فیصلہ کیا گیا ہو۔ جسٹس اطہر من اللہ کے اس فیصلے نے بلاشبہ ملکی عدلیہ کا وقار بلند کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں بشمول نوجوان وکلاء کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے جو آج بھی حصول انصاف کی خاطر جستجو کر رہے ہیں اس بات پر قوی یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان میں ابھی بھی میرٹ موجود ہے، عدالتیں انصاف فراہم کرتی ہیں اور حقائق و شواہد اور عدالتی کٹہرے میں سرخرو ہوتے ہیں۔ بلاشبہ اس ساری کاوش کا کریڈٹ بجا طور پر ملک کے وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثارکو جاتا ہے جنہوں نے یکسوئی سے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا۔وفاقی وزیر داخلہ مفاد پرست عناصر کے خلاف ہر محاذپر لڑتے دیکھا ہے لیکن جس طرح انہوں نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس کو فالو کیا اور پچھلے دو سال میں دبائو کا مقابلہ کیا وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے چودھری نثار کا کردار قابل تحسین ہے دو سال قبل ایک اچھی شہرت کے مالک سے انکوائری کا آغاز کیا گیا لیکن انکوائری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے عجب مناظر دیکھنے میں آئے ایف آئی اے سے انکوائری روکنے کیلئے حکم امتناعی حاصل کر لیا گیا جس سے انکوائری آگے نہ بڑھ سکی 5نامور وکیل اور پس پردہ کئی شخصیات آڑے آگئیں کوئی نامور وکیل سی ڈی اے کی جانب سے کیس لینے کیلئے تیار نہ ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ کے بھانجے کاشف ملک نے فالتو رقم کی وصولی کے بغیر کامیابی سے کیس لڑا، ملی بھگت سے سی ڈی اے کیس میں تعاون نہیں کر رہی تھی لیکن وزیر اعظم محمد نواز شریف کی سپورٹ سے سی ڈی اے کو عدالت عالیہ میں تمام شواہد پیش کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ اتوار کو وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے جو لاہور میں علاج معالجہ کے سلسلے میں مقیم ہیں نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے دوران اچھی خبر نے مسرت و خوشی دی ہے اور دو سال کی محنت رنگ لائی ہے۔