کوئٹہ کے جنگجو ڈھیر پشاور زلمی نے پی ایس ایل کا میدان مارلیا

06 مارچ 2017

لاہور(چودھری اشرف) پشاور زلمی پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کی چیمپئن بن گئی‘قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میچ میں پشاور نے کوئٹہ ٹیم کو 58 رنز سے شکست دے کر چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹوں کے نقصان پر 148 رنز سکور کیے تھے جواب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹر ٹیم 16.3 اوورز میں 90 رنز بنا کر آوٹ ہو گئی۔ پی ایس ایل کے فائنل میچ میں کوئٹہ ٹیم کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹوں پر 148 رنز سکور کیے تھے۔ پشاور زلمی کی جانب سے ڈیوڈ میلان اور کامران اکمل نے اننگز کا آغاز کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 42 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ پانچویں اوور کی چوتھی بال پر ڈیوڈ میلان 17 کے انفرادی سکور پر کوئٹہ گلیڈی ایٹر میں شامل کیے جانے والے نئے کھلاڑی ریاد ایمرٹ کی گیند پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ کامران اکمل نے مارلن سیموئل کے ساتھ تیز رفتاری میں سکور کرنا شروع کیے۔ پشاور زلمی کا سکور 82 پر پہنچا تو اسے اوپر تلے دو کھلاڑیوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ دسویں اوور کی آخری گیند پر کامران اکمل جو کوئٹہ کے لیے خطرہ بنتے جا رہے تھے کو چالیس کے سکور پر حسن خان نے ایل بی ڈبلیو آوٹ کر کے پویلین کی راہ دکھائی۔ کامران اکمل نے 32 گیندوں کا سامنا کیا جس میں 6 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ 82 کے ٹوٹل پر گیارویں اوور کی پہلی گیند پر محمد نواز نے مارلن سیموئل کو کلین بولڈ کر کے پشاور ٹیم کے رنز کی رفتار کو آہستہ کر دیا۔ سیموئل نے 17 گیندوں پر 2 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 18 رنز سکور کیے۔ بنوں سے تعلق رکھنے والے خوشدل شاہ بیٹنگ کے لیے میدان میں آئے۔ انہوں نے پانچ گیندوں پر صرف ایک سکور کیا اور حسن خان کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے سرفراز احمد کے ہاتھوں سٹمپ آوٹ ہو گئے۔ 86 کے سکور پر پشاور کی ٹیم کے چار اہم کھلاڑی پویلین لوٹ گئے جس کے بعد پشاور ٹیم کے رنز کی تعداد مزید آہستہ ہو گئی۔ پشاور کے سو رنز 14 اوورز میں مکمل ہوئے۔ محمد حفیظ اور افتخار احمد کے درمیان پانچویں وکٹ کی شراکت میں 26 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ حفیظ 12 رنز بنا پر ریاد ایمرٹ کا شکار ہو گئے۔ حفیظ نے تیرہ گیندوں کا سامنا کیا جس میں صرف ایک بونڈری لگا سکے۔ 112 کے ٹوٹل پر ہی پشاور کو چھٹی وکٹ کا نقصان افتخار احمد کی وکٹ کی صورت میں اٹھانا پڑا جب افتخار ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے ریاد ایمرٹ کی گیند پر 14 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو آوٹ ہو گئے۔ افتخار نے 21 گیندوں کا سامنا کیا جس میں انہوں نے ایک چوکا لگایا۔ پشاور کی ٹیم نے آخری 20 بال پر اپنے ٹوٹل میں 36 رنز کا اضافہ کیا جس میں کپتان ڈیرن سیمی کے 11 گیندوں پر ایک چوکے اور تین چھکوں کی مدد سے 28 ناٹ آوٹ رنز نمایاں تھے جبکہ کرس جورڈن نے 8 رنز بنائے ۔کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی جانب سے باولنگ میں ریاد ایمرٹ سب سے کامیاب باولر رہے جنہوں نے 31 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ حسن خان نے 34 رنز دیکر دو اور محمد نواز نے 15 رنز دیکر ایک کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ 149 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ ٹیم کا آغاز اچھا نہ تھا۔ 5 کے سکور پر ان کی دو وکٹیں گر گئی تھیں۔ کورنی وین وائیک ایک کے انفرادی سکور پر رن آوٹ ہو گئے۔ جبکہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے انعام الحق 3 رنز بنا پر محمد اصغر کی گیند پر انہی کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ کوئٹہ کی تیسری وکٹ احمد شہزاد کی گری جو پشاور زلمی کے حسن علی کو بڑی شارٹ کھیلنے کی کوشش میں خوشدل کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ احمد شہزاد نے پانچ گیندوں کا سامنا کیا اور صرف ایک رنز بنا سکے۔ کوئٹہ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد میدان میں آئے انہوں نے جارحانہ اندار اپنایا۔ تاہم 11 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے 22 رنز بنا کر محمد حفیظ کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں سٹمپ آوٹ ہو گئے۔ کوئٹہ کی پانچویں وکٹ 37 کے سکور پر گری جب سعد نسیم بھی صرف چار رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے انہیں وہاب ریاض نے افتخار احمد کے ہاتھوں کیچ آوٹ کیا۔ کوئٹہ نے اپنے پچاس رنز 9.2 اوورز میں مکمل کیے۔ ائرون اور انور علی کے درمیان چھٹی وکٹ کی رفاقت میں 35 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی جس سے کوئٹہ کا سکور 72 پر پہنچ گیا اس موقع پر ایرون 24 کے انفرادی سکور پر محمد اصغر کی گیند پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ ایرون نے 19 گیندوں کا سامنا کیا جس میں دو چوکے لگائے۔ کوئٹہ کی ساتویں وکٹ محمد نواز کی گری جو بغیر کوئی سکور بنائے ایم اصغر کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں سٹمپ آوٹ ہو گئے۔ انور علی بھی اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرنے میں ناکام رہے اور 20 رنز بنا کر کرس جارڈن کی گیند پر افتخار احمد ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ 88 کے سکور پر نویں وکٹ حسن خان کی گری جنہیں وہاب ریاض نے سیمی کے ہاتھوں کیچ آوٹ کیا۔ حسن خان نے چار رنز سکور کیے۔ کوئٹہ کی آخری وکٹ 90 کے سکور پر گری جب حسن علی نے ذوالفقار بابر ایک کے انفرادی سکور پر کلین بولڈ کر کے کامیابی پشاور زلمی کے نام کر دی۔ پشاور زلمی کی جانب سے محمد اصغر نے 16 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ حسن علی اور وہاب ریاض کے حصے میں دو دو وکٹیں آئیں۔ پاکستان سپر لیگ کا فائنل میچ سنسنی خیز نہ ہو سکا اور نہ ہی چوکوں چھکوں کی برسات ہوئی۔ میچ میں 22 چوکے اور 6 چھکے لگے۔ پشاور زلمی نے اپنی اننگز میں 13 چوکے اور چھ چھکے لگائے جبکہ کوئٹہ ٹیم کی اننگز میں صرف 9 چوکے لگ سکے۔ کامران اکمل فائنل میچ میں 40 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ باولنگ میں محمد اصغر نے 16 رنز دیکر تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ کوئٹہ کی نمائندگی کرنے والے ریاد ایمرٹ نے 31 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں کامران اکمل 353 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ بابر اعظم 291 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ کامران اکمل نے 11 میچوں میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 32.09 کی اوسط سے 353 رنز سکور کیے۔ کامران اکمل واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے دوسرے ایڈیشن میں سنچری سکور کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ بابر اعظم نے 10 میچوں میں 32.33 کی اوسط سے 291 رنز سکور کیے۔ باولنگ کے شعبہ میں سہیل خان 16 وکٹوں کے ساتھ ٹاپ پر رہے۔ وہاب ریاض 14 وکٹوں کے ساتھ دوسرے، رومان رئیس، محمد سمیع اور اسامہ میر نے بارہ بارہ کھلاڑیوں کو آوٹ کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔
پی ایس ایل فائنل
کراچی ( اسپورٹس رپورٹر ) لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پی ایس ایل کے فائنل میچ کا نتیجہ سامنے آنے پر کراچی کے پختون علاقوں سمیت پورے ملک میں جشن کا سماں‘ لوگوں نے بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ جبکہ کئی شہریوں میں ہوائی فائرنگ کر کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ کراچی کے پختون اکثریتی علاقوں بنارس‘ اورنگی ٹاﺅن‘ پٹھان کالونی‘ لانڈھی ‘ کیماڑی ‘ سہراب گوٹھ اور بعض دیگر علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور بھنگڑے ڈالے گئے۔ مٹھایاں تقسیم کی گئیں اور ہوائی فائرنگ سے فضا گونج اٹھی۔ ادھر کوئٹہ کے باشندوں نے جو اپنی فتح کا جشن منانے کی تیاریاں کر چکے تھے نے اپنا غم مٹانے کے لئے ہوائی فائرنگ کی ۔ دوسری طرف شہر میں کرکٹ شائقین نے بڑی بڑی اسکرینوں پر میچ دیکھا۔ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کے باعث لوگوں میںغم و غصہ پایا گیا۔
کراچی میچ