مسافروں کیلئے ٹرینوں کی تعداد 32 سے 172 ہو جائیگی

06 مارچ 2017

عنبرین فاطمہ
ایک عام آدمی جو جہاز کے زریعے سفر کرنے کے استعداد نہیں رکھتا ہے اس کے لئے ٹرین کا سفر کسی غنیمت سے کم نہیں ہے یہ بات اپنی جگہ سچ ہے کہ آنے والی ہر حکومت نے اس ادارے (ریلوے)کو نظر انداز کیا اور اس پر توجہ نہیں دی ۔بات کریں ہم موجودہ حکومت کی تو منسٹر ریلوے کا دعوی ہے کہ انہوں نے ٹرینوں میں سفری معاملات کو خاصا بہتر بنا دیا ہے اور اس ادارے کی بہتری کے لئے نئے منصوبوں پر کام بھی جا رہی ہے دوسری طرف آئے روز ہونے والے ٹرین حادثات پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنے کھڑے ہیں ،اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے کا ادارہ موجودہ حکومت بہتر انداز میں چلانے میں بالکل ناکام رہی ہے ۔ ادارے کی ترقی کیلئے کس قسم کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور آئے روز رونما ہونے والے حادثات کی وجوہات کیا ہیں اس حوالے سے ہم نے ’’پروین آغا‘‘سے انٹرویو کیا ۔پروین آغا ریلوے میں’’ فیڈرل سیکرٹری‘‘ کے عہدے پر فائز ہیں ۔سی ای ایس ایس کرنے کے بعد پاکستان ریلوے آڈٹ میں ان کی پہلی تقرری اٹھارہویں گریڈ میں ہوئی اس کے بعد ان کی پرموشن سینئر لیول پر انیسویں گریڈ میں ہوئی ۔سال2012 میں بطور ممبر فنانس گریڈ اکیس میں تعینات ہوئیں ۔پروین آغا کا کہنا ہے کہ ہم ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں اور تمام فیصلے مل بیٹھ کر کرتے ہیں ان سے ہونے والی مزید گفتگو کچھ یوں ہے ۔
نوائے وقت :ریلوے جیسے ادارے کو بطور خاتون چلانا کیسا تجربہ ہے؟
پروین آغا:سی ایس ایس کرنے کے بعد پہلی مرتبہ ریلوے میں میری بطور ڈپٹی ڈائریکٹر آڈٹ پوسٹنگ ہوئی تھی تب سے لیکر اب تک مختلف عہدوں پر ریلوے میں کام کر چکی ہوں اس لئے میرے لئے موجودہ عہدے پر آکر کام کرنا اتنا مشکل نہیں ہے میں اس ادارے کے مسائل اچھی طرح سمجھتی ہوں کیونکہ آڈٹ کے دوران مجھے ریلوے کے تمام شعبوں کے بارے میں تفصیلی امور جاننے کا موقع ملا ۔اس لئے جانتی ہوں کہ کیسے کام کرنا ہے ۔جہاں تک تجربے کی بات ہے تو تجربہ بہت اچھا رہا ہے ۔
نوائے وقت :سر فہرست آپ کونسے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں اورسی پیک کے تحت ریلوے میں کتنی بہتری آئی گی؟
پروین آغا:سی پیک ایک مکمل پیکج ہے اس میں ہم ایڈوانس سٹیج پر آگئے ہیں۔8.2 بلین کی ہماری فیز ون کی اپ گریڈیشن ہے جو کہ کراچی سے لیکر تورخم تک کا اپ گریڈیشن ٹریک ہو گا۔اس وقت ہماری ٹریک کی لے آئوٹ کی ڈیزائن سپییڈ بنی تو سو کلو میٹر پر آور کے حساب سے ہے لیکن یہ کہیں کہیں پر سو ہے باقی بہت کم ہے جگہوں پر اوسطاً 75 سے 80کلو میٹر پر آر پر جا رہی ہے ۔بنیادی طور پر ڈیزائن سیپڈ کو اپ گریڈ جب کریں گے تو یہ ایک 160 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی اس کو آپ اگر مسافروں کی سہولت کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس میں سفر کا دورانیہ کم ہو جائیگا ۔اس لحاظ سے ریلوے کے پورے سسٹم کو بحال کر رہے ہیں۔ٹریک کی سپیڈ بڑھے گی تولاہور سے پنڈی کا سفری دورانیہ اس وقت ساڑھے چار گھنٹے کاہے جو کم ہو کر ڈھائی سے پونے تین رہ جائے گا یعنی روڈ ٹرانسپورٹیشن سے مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔
نوائے وقت :پاکستان میں ٹرین کی سپیڈ بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید کتنی ٹرینز ریلوے ٹریک پر لائی جا سکتی ہیں ؟
پروین آغا: اس وقت لائن پر32ٹرینوں کے چلنے کی گنجائش ہے اور یہ گنجائش172 ٹرینوں تک چلی جائیگی ۔جس سے کسٹمر کو سہولیات میسر آئیں گی اور اس کے لئے سٹیشنوں کو جدید بنایا جائیگا تاکہ مسافروں کو ہر قسم کی آسانی دستیاب ہو ۔
نوائے وقت :گوادر میں ریل نیٹ ورک کب تک لیکر جائیں گے ؟
پروین آغا: اس کے لئے ہم نے پہلے بھی زمین خریدی اور مزید بھی خرید رہے ہیں ،باقاعدہ بجٹ بھی بنا لیا گیا ہے آنے والے دو تین برسوں میںاس پرکام کرنا شروع کر دیں گے ۔
نوائے وقت :ریلوے جیسا ادارہ ڈوپلیکیٹ ٹکٹ کیوں نہیں جا ری کرتا لوگ شور مچاتے ہیں شکایت کرتے ہیں اس کا اذالہ کیوں نہیں کیا جا رہا ہے ؟
پروین آغا: میں ذاتی طور پر اس کا اعتراف کرتی ہوں کہ لوگوں کو اس وجہ سے خاصے مسائل کا سامنا ہے ہم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کام بھی شروع کر دیا ہے ۔
نوائے وقت :مری سے مظفر آباد تک ٹرین چلانے کا اعلان کیا تھا اس پر عمل کب تک ہو گا ؟
پروین آغا:وزیراعظم نے اس کا ایک پراجیکٹ اور فیزیبلیٹی بنوائی ہے پاکستان میں ہمیں ہر کام کے لئے ترجیحات کوپیش نظر رکھنا ہوتا ہے کیونکہ میرے خیال میں یہ بڑے بجٹ کا پراجیکٹ ہے اس کوبی او ٹی بیسز پر فلوٹ کریں گے اتنے بڑے منصوبے کیلئے ملکی سطح پر مالی وسائل مہیا کرنا ممکن نہیں ۔
نوائے وقت :ریلوے کا خسارا کتنا کم ہوا ہے اور مزید کتنا کم ہو سکتا ہے ؟
پروین آغا:ریلوے کا خسارا آج سے چار سال پہلے جو آخری بجٹ تھا وہ ہم نے اٹھارہ بلین کمایا تھا پچھلا بجٹ جو کلوز کیا وہ 36بلین پر کلوز کیا تھا ۔اس سال 40بلین پر لے جائیں گے آہستہ آہستہ یہ خسارا کم ہو رہا ہے ۔در حقیقت جسے عام آدمی خسارا سمجھتا ہے وہ اخراجات اور آمدن کا فرق ہوتا ہے ۔ہم کو شش کر رہے ہیںکہ ہماری آمدن میں اضافے کے ساتھ اخراجات اور کارکردگی کو بھی بڑھایا جائے ۔یہی وہ گیپ ہے جس کو پاکستان ریلوے کو پورا کرنا چاہیے تاکہ اپنے معاملات کو با آسانی چلا سکے۔
نوائے وقت :نئے منصوبوں سے آ مد نی میں کتنا اضافہ ہو سکتا ہے ؟
پروین آغا:نئے منصوبوں میں ہم نے ریلوے کے مال برداری کے شعبے کو بحال کیا ہے۔جس سے بڑی آمدنی آرہی ہے اس کا اثر اگلے بجٹ پر آئے گا، کول ٹرانسپوٹیشن کے لئے کراچی سے ساہیوال ٹرین چلنا شروع ہو گئی ہے ہم نے ایک معاہدہ کیا ہے ان لینڈ کول ٹرانسپورٹیشن سے ( آئی سی ٹی اے)جس سے ہمیں سالانہ تیرہ بلین کا ریونیو آئے گا ۔2018میں اسی طرح جامشورو کول پلانٹ کیلئے بھی کوئلے کی ترسیل ریلوے کے ذریعے ہو گی۔
نوائے وقت:رپورٹس کی مانیں تو ماضی کی نسبت بوگیاں اور انجن کم ہو گئے ہیں اورمسافر زیادہ اس چیز کو کس طرح مینج کیا جائیگا ؟
پروین آغا:یہ بات درست ہے ۔لوکو موٹو کی فلیٹ پرانی ہے ظاہری سی بات ہے کہ وہ خستہ حال ہوتی جائیگی تو ایڈیشن اس حساب سے نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری اپنی ایک لیمیٹیشن ہے لیکن اگلے سال ہم ایک پراجیکٹ لے کر آرہے ہیں جس میں ہم تین سو لوکو موٹیوز یہیں بنائیں گے۔ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی بھی کریں گے اس کے لئے ایک مشہور کمپنی کیساتھ ہماری جوائنٹ پارٹنر شپ ہو گی ۔رولنگ سٹاک میں ویگنز اور مسافروں کی کوچز کو ری ہیبلیٹیٹ کرنا ہے اس کے علاوہ نئی بھی لائیں گے ۔
نوائے وقت :سینٹرل ایشین سٹیٹ کیساتھ رابطہ کس طرح ہو گا ؟
پروین آغا:سنٹرل ایشین سٹیٹ کے ساتھ ہمارا کیرک کا ایک پروگرام چل رہا ہے اس میں اے ڈی پی کی بھی فنڈنگ ہے ورلڈ بینک کی بھی فنڈنگ ہے جس میںیہ افغانستا ن میں اپنا ریل ٹریک لے آئوٹ کر رہے ہیں ،ہمارابھی ترخم جلا ل آباد کے ساتھ رابطہ ہے ادھر کوئٹہ اور چمن کے ساتھ رابطہ ہے ۔اس میں ہم نے فزیبیلیٹی بھی کر لی ہوئی ہے ۔ہم انتظار کر رہے ہیں وہاں پر ٹریک بنے اور ہم الائنمنٹ کر سکیں۔سنٹرل ایشین سٹیٹ کے ساتھ رابطے میں ہمیں سب سے پہلے افغانستان کے ساتھ لنک کرنا ہوگا ۔
نوائے وقت :انٹرنیٹ کا دور ہے ایسے میں ریلوے میں آئی ٹی کا رول کس طرح بڑھا رہے ہیں ؟
پروین آغا:ای ٹکٹنگ شروع کی ہے ہمارا ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے جو پہلے ورلڈ بینک کے ذریعے ہو رہا تھا وہ تھا فنانشل انفرمینش سسٹم اور مینجمنٹ سٹم اب ہم اس پراجیکٹ کو کر رہے ہیں ۔اس پراجیکٹ کے زریعے ہمیں ایک اپنی پالیسی بنانے کے لئے بنیادی انفرمیشن مل جائے گی کہ ہماری ٹرینوں کی تعداد کتنی ہے،فنانشل امپیکٹ کتنا ہے امید کرتی ہوں کہ تمام معاملات ہمارے آئندہ مالی سال تک مکمل ہوجائیں گے ۔
نوائے وقت :مال برداری ٹرینیں بڑھائی گئی ہیں اس پر کیا کہیں گی ؟
پروین آغا:تین چار سال پہلے یہ ایک ٹرین بھی نہیں چل رہی تھی اب آپ دیکھیں کہ اگلے مالی سال تک یہ بیس سے زیادہ ٹرینیں چلیں گی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 55لوکو موٹیوز چار ہزار اور ساڑھے چار ہزار ہارس پاور صلاحیت کے جنرل الیکٹر ک سے خرید لئے ہیں ان میں سے سات لوکو موٹیوز ہمارے بیج میں شامل ہو گئے ہیں ۔ اگلے سات اسی مالی سال میں پہنچ جائیں گے نئے مالی سال میں سارے انجن پاکستان حاصل کرے گا اور ان میں سے 25کول ٹرانسپورٹیشن کے لئے کام کریں گے ۔
نوائے وقت :ٹرین حادثات بڑھ گئے ہیں ایسا کیوں ہے آئے دن کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے؟
پروین آغا:عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ ٹرین حادثات پاکستان ریلوے کی نا اہلی یا غفلت کا نتیجہ ہیں ۔ تنقید کرنا آسان ہوتا ہے لیکن زمینی حقائق کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے ،میں مانتی ہوں کہ ہمارے بہت سارے ایشوز ہیں ایچ آر کے ایشوز ہیں ٹریننگ کے ایشوز ہیں ٹریک کی تعمیر و مرمت اور بحالی کا ایشو ہے لیکن اگر ہم اپنے ہاںہونے والے حادثات کا اعدادو و شمار بین الاقوامی لیول پر جا کر موازنہ کریں تو صورتحال الارمنگ نہیںہے ۔ ایک اہم مسئلہ جو مجھے یہاں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری جو مین لائن (ایم ایل) ہے وہ پاکستان کی اسی فیصد آبادی میں سے گزر رہی ہے۔ریلوے کراسنگ دو نوعیت کے ہیں ایک گیٹ والے دوسرے چوکیدار کے بغیر ۔باقی پھاٹک بنانے کی ذمہ صوبائی حکومت کا کام ہوتا ہے ہم صرف این او سی دیتے ہیں ۔ہمیں پنجاب حکومت کی جانب سے فنڈز بھی ملے ہیں ہم نے بہت سارے پھاٹکوں کی حالت بہتر بھی کی ہے ۔جب ٹرین کی سپیڈ بڑھے گی ،ٹریک کی ری ہبلیٹیشن ہو گی تو یا تو آپ کو اور ہیڈ بنانا پڑے گا یا انڈر گرائونڈ جانا پڑے گا ورنہ آپ سیکیو ر نہیں ہو سکتے۔
نوائے وقت :پاکستان ایکسپریس کے ڈبے ٹھیک نہیں ہیں لوگوں کی ایسی بہت ساری شکایات ہیں ؟
پروین آغا: یہ تمام شکایات حقیقی ہیں اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں ویسے بھی خراب ٹرینوں کو ٹھیک کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہوتا ہے ۔میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ ہم ٹرین آپریشن کے تحت ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی طرف بھی جا رہے ہیں اور ہم نے بہت ساری ٹرینیں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت آپریٹرز کو دی ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔
نوائے وقت :خود مختار ریلوے بورڈ کا کس حد تک فائدہ ہوا ہے ؟
پروین آغا:ہماری ساری فیصلہ سازی کا انحصار ریلوے بورڈ پر ہے تو اس کے لئے بیوروکریسی کی رکاوٹ دور ہو گئی ہے ۔اور جو ہمارے ایشوز اور پالیسیز ہیں وہ ہم بورڈ میں جا لیجا کر طے کر لیتے ہیں۔
نوائے ائے وقت :وفاقی سطح کے ادارے کو بس اور ٹرالر مافیا سے نجات دلانے کیلئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں ؟
پروین آغا :ہمیں اس میں وزیراعظم کی سطح پر سپورٹ ملی ہے ، منسٹری آف پٹرولیم کے لیول پر سپورٹ ملی ہے ۔آئل ٹرنسپورٹیشن ہمارے لئے بڑا ایک منافع بخش ذریعہ ہے اس وقت پانچ سے چھ ٹرین آئل لے جاتی ہیں جبکہ وزیراعظم کی دلچسپی سے متعلقہ وزارتوں نے اس شعبے میں مزید تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
نوائے وقت :وزیر ریلوے سیاست کو زیادہ وقت دیتے ہیں یا سیاست ہی کرتے ہیں ؟
پروین آغا:زویر ریلوے سیاست کرتے ہوں گے لیکن وہ ریلوے کواتنا ہی وقت اور توجہ دیتے ہیں جتنی ضرورت ہے ، میںنے اپنی پوری سروس میں ایسا منسٹر نہیں دیکھا جو اتنی گہرائی میں جا کر کام کرے ۔سیدھی سے بات ہے کہ منسٹر کا ہونا کسی بھی ادارے کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ وہ سیاسی سطح پر سیکٹر کی نمائندگی کرتا ہے کام جلدی ہوجاتے ہیں منسٹری آف پلاننگ سے اپروول جلدی مل جاتی ہے فنڈ کا مسئلہ نہیں بنتا ہے ۔باقی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں انہوں نے اس ادارے پر اتنی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے آج مسائل ہی مسائل ہیں ۔