الیکشن کمشن‘ صوبائی چیفس کی تعیناتی ’’میرٹ‘‘ کے برخلاف‘ سوالات اٹھنے لگے

06 مارچ 2017

اسلام آباد (قاضی بلال) الیکشن کمشن نے دو دو ماہ پہلے ترقی پانے والے گریڈ انیس کے افسران کو صوبائی چیف الیکشن کمشنرز بنا کر گریڈ اکیس کی ذمہ داریاں سونپ دیں جس کی وجہ سے 2018ء کے عام انتخابات کی تیاریوں پر سیاسی جماعتوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ الیکشن کمشن نے ایک ہفتہ قبل کرنٹ چارج کے نام پر پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں صوبائی چیف الیکشن کمشنر کو تعینات کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب ملک کا بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے صوبائی چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں یہی وجہ ہے قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں پی ٹی آئی کی جانب سے سخت سوالات پر سیکرٹری الیکشن کمشن ان سے الجھ پڑے اور اجلاس کی بائیکاٹ کرکے واپس چلے گئے تھے۔ جس کے خلاف تحریک انصاف نے اسمبلی میں تحریک التواء بھی جمع کرا دی ہے۔ پنجاب کا چیف الیکشن کمشنر کے پی کے ایک افسر کو شریف اللہ کو لگایا گیا ہے جنہیں یکم جنوری دوہزار سترہ کو گریڈ انیس سے گریڈ بیس میں ترقی دی گئی ہے۔ اس سے پہلے وہ جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ الیکشن کمشن کی جانب سے یکدم انہیںگریڈ اکیس کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جس کے بارے میں ان کے پاس مطلوبہ تجربہ بھی نہیں ہے۔ قواعد کے مطابق کم از کم گریڈ بیس میں بھی پانچ سال تجربہ ہو تو اسے اگلے گریڈ کی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں۔ اسی طرح پیر مقبول کو بھی یکم جنوری ہی کو گریڈ انیس سے بیس میں ترقی دی گئی اور دو ماہ بعد ہی انہیںگریڈ اکیس کی صوبائی الیکشن کمشنر کے پی کے ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ بلوچستان کے صوبائی الیکشن کمشنر پہلے افسر ہیں جو گریڈ اکیس میں براہ راست گئے ہیں اور انہوں نے اس گریڈ کیلئے کوالیفائی کیا ہے۔ دوسری جانب سندھ کے چیف الیکشن کمشنر تنویر ذکی بھی کرنٹ چارج پر ڈیڑھ سال بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا بغیر مطلوبہ ٹریننگ اور تجربہ کے تین صوبوں میں تعیناتیاں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے عام انتخابات کے نتائج میں پھر سے گڑبڑ کا امکان ہے۔ مذکورہ افسر کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمشن بابر یعقوب ملک خود ریٹائرمنٹ کے تین سال کیلئے الیکشن کمشن کی تاریخ میں پہلی بار اتنی لمبے عرصہ کیلئے تعینات کئے گئے ہیں۔ ماضی میں ایک سال کیلئے توسیع دی جاتی تھی جس کے مزید ایک سال کی توسیع کا رواج تھا۔ دوسری جانب سیکرٹری الیکشن کمشن باہر سے ایک ریٹائرڈ بریگیڈئیر عباس علی کو ڈی جی ایڈمن کے طورپر لے آئے ہیں جو لوگوں کے غیر ضروری تبادلے دور دراز علاقوں میں کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملازمین میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے لیکشن ساتھ ہی ساتھ بااثر لوگوں کے تبادلے دبائو میں آ کر روکے جا رہے ہیں جس کی مثالیں سیکرٹری الیکشن کمشن کی پی اے کی ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری الیکشن کمشن کو متعدد بار موقف لینے کیلئے فون کیا گیا مگر انہوں نے فون اٹینڈ نہ کیا۔