چولستان میں امارات کی جانب سے پانی کی پائپ لائن سمیت متعدد منصوبے

06 مارچ 2017

رحیم یار خان (فضل حسین اعوان) انٹرنیشنل ہوبارہ فاؤنڈیشن پاکستان کی دعوت پر لاہور سے بہاولپور اور رحیم یار خان جانے والے صحافیوں کے وفد کو متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان کی طرف سے جاری منصوبوں کا دورہ کرایا گیا۔ لال سہانرہ میں 40 کلومیٹر پر مشتمل ایریا جس میں تلور کو شکاریوں سے تحفظ دیا گیا‘ کے شروع میں شیخ زید النیہان بریڈنگ سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ 40 کلومیٹر ایریا میں تین روز قبل دبئی سے لائے 200 تلور چھوڑے گئے تھے۔ لال سہانرہ ہی میں کالے ہرن کی افزائش کی جا رہی ہے۔ وہ تلور والی رینج سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ رحیم یار خان سے ہی چولستان کے اندر 157 کلومیٹر پانی کی پائپ لائن بچھائی گئی۔ جس پر 23 پوائنٹ پر ہودیاں بنائی گئیں جہاں دور دراز سے لوگ اونٹوں گائیوں اور بکریوں کو پانی پلانے آتے ہیں۔ چولستان کے اندر تلور کے تحفظ کیلئے بڑا سنٹر قائم کیا سلووالی سینٹر میں 15 سو تلور کے علاج و حفاظت کیلئے سہولت موجود ہے۔ سلووالی ہی سے 2 مارچ کو 300 تلور آزاد کئے گئے تھے۔ اسکے قریب 1400 ایکڑ پر مشتمل زرعی فارم ہے جس میں 400 مقامی لوگ ملازم ہیں۔ یزمان میں ٹی ایچ کیو ہسپتال میں خواتین اور بچوں کیلئے وارڈ قائم کیا ہے۔ رحیم یار خان میں چنکارہ ہرن کی حفاظت و افزائش کیلئے 4500 ایکڑ پر فارم بنایا گیا ہے اور شیخ زید ہسپتال‘ سٹیڈیم چلڈرن پارک‘ ہیلتھ سینٹرز او لیول سکول کام کر رہے ہیں۔ روجھان میں ہسپتال، کالج اور امارات کے حکمرانوں کی طرف سے پورے شہر کیلئے پانی کا انتظام کیا ہے۔ دریائے سندھ کے میلوں پر پھیلے پاٹ پر کشتیوں کے پل بنائے ہیں۔ انکی سکیورٹی بھی انہی کے ذمے ہے جبکہ قریب ہی 14 کلومیٹر طویل پل دو سال سے مکمل ہو چکا ہے۔ پنجاب حکومت نے اسکے کنارے اور لنک روڈ بنائے ہیں۔ اس پل کے فنکشنل ہونے پر روجھان سے رحیم یار خان کا فاصلہ صرف 54 کلومیٹر رہ جائیگا جبکہ اب راجن پور تک کا فاصلہ 65 کلومیٹر ہے۔ شیخ زید اور شیخ خلیفہ کے نام سے علاقے کے لوگوں کیلئے بے شمار پراجیکٹ جاری ہیں۔