بیورو کریسی صاف پانی فراہمی کے منصوبے چلانے میں ناکام، فنڈز دوسری سکیموں کو جاری

06 مارچ 2017

لاہور (معین اظہر سے) پنجاب میں بیورو کریسی عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے چلانے میں ناکام ہو گئی ہے جس کے بعد بجٹ میں موجود صاف پانی کی فراہمی کیلئے مختص کئے گئے 30 ارب روپے کے فنڈز میں سے 5 ارب روپے کے فنڈز دیگر منصوبوں کیلئے جاری کردئیے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں لاکھوں افراد صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے جگر، معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ لاہورکے اردگرد قصور، شیخوپورہ،فیصل آبادجہاں پر انڈسٹرئل زون قائم ہیں انڈسٹری کی طرف سے کیمیکل ملا پانی اور گندگی کو ٹھکانے نہ لگانے کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کے لاکھوں لوگ زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں اور لوگ کینسر کاشکار ہورہے ہیں۔ دو تین سال قبل صوبے کے عوام کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر خادم پنجاب صاف پانی پروگرام شروع کیا گیا اور ابتدائی طور پر بجٹ میں 30 ارب روپے کے فنڈزر رکھے گئے۔ اس کے لئے صاف پانی کمپنی بنائی گئی جس کے اعلیٰ افسران کو لاکھوں روپے تنخواہیں اور الاونس بھی فراہم کئے گئے۔ مالی سال 2015-16ء کے دوران 30 ارب روپے میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ رواں مالی سال کیلئے 30 ارب روپے کے فنڈز دوبارہ رکھے گئے اور حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اس سال یہ فنڈز خرچ کئے جائیں گے خصوصاً جنوبی پنجاب اور ایسے علاقے جہاں پر پانی کا معیار انتہائی خراب ہے وہاں منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں سے فندز نکال کر تقریباً 12 ارب روپے دیگر سکیموں کو جاری کر دئیے گئے تھے۔ اس سال بھی بیورو کریسی لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی میں ناکام رہی اور صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوںسے 5 ارب روپے کے فنڈز پولیس، سڑکوں کی تعمیر، سبسڈی، زراعت اور ہیلتھ کی سکیموںکو جاری کر دئیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کو تقریبا 1 ارب روپے، سڑکوں کی تعمیر کیلئے ایک ارب30 کروڑ، سبسڈی کیلئے ایک ارب روپے، زراعت کیلئے 70 کروڑ، ہیلتھ سیکٹر کیلئے تقریباً 1 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔ حکومت پنجاب کی طرف سے اس منصوبے کو انقلابی قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ واضح رہے موجودہ مالی سال ختم ہونے میں 3 ماہ رہے گئے ہیں جبکہ اس سیکٹرمیں بیورو کریسی نے پورے سال کے دوران توجہ نہیں دی۔ تاہم صاف پانی فراہمی کی کمپنی کے ذرائع کے مطابق صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے پورے سال کے دوران اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے اور دو اجلاس وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ہوئے۔ تاہم چند روز قبل وزیر اعلی پنجاب نے صاف پانی کمپنی کے سربراہ کو تبدیل کرکے انکوائری کے احکامات دئیے تھے لیکن انکوائری کے لئے ابھی تک کمیٹی قائم نہیں کی گئی۔