پٹرولیم مصنوعات پھر مہنگی ہونے لگیں

06 مارچ 2017

احمد جمال نظامی
ڈیڑھ ماہ کے قلیل عرصہ کے دوران حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چوتھی مرتبہ مسلسل اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ چوتھے اضافے کے بعد پٹرول 1.71روپے فی لٹر اضافے کے ساتھ 73روپے جبکہ ڈیزل 1.52روپے اضافے کے ساتھ 82روپے فی لٹر، مٹی کا تیل 0.75روپے اضافے کے ساتھ 44روپے فی لٹر، اسی طرح لائٹ ڈیزل 0.66پیسے اضافے کے ساتھ 44روپے کا ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی۔ جس کے بعد یکم مارچ سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہو گیا۔ اس سے قبل 16جنوری کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جس کے بعد ہر پندرہ روزہ متواتر چار اضافوں سے پٹرول کی قیمتوں میں کم و بیش 10 روپے کے لگ بھگ اضافہ ہو چکا ہے ۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اس رجحان پر صنعتی، تجارتی، زرعی حلقوں کے ساتھ عوامی حلقوں کی طرف سے بھی شدید احتجاج ہو چکا ہے۔ تمام حلقوں کی متفقہ رائے ہے کہ موجودہ حکومت عالمی منڈیوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تمام تر فوائد وطن عزیز میں منتقل نہیں کر سکی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرح اس حکومت نے بھی پٹرولیم مصنوعات پر بھاری بھر کم ٹیکسز عائد کئے رکھے۔ ایک موقع پر 43فیصد تک سیلزٹیکس عائد کر کے وطن عزیز کو دنیا میں پٹرولیم مصنوعات پر سب سے زیادہ ٹیکس لینے والا ملک بنا دیا ۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے یقینی طور پر ملکی برآمدات متاثر ہونے کے بھی خدشات ہیں کیونکہ اس سے پیداواری لاگت بڑھے گی اور خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا ۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید احتجاج کے بعد وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ ماہانہ بنیاد پر ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیرخزانہ کے اس بیان کو بھی معاشی و اقتصادی حلقوں کی طرف سے تعجب خیز قرار دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ وزیرخزانہ صرف اور صرف چند عالمی رپورٹس کو مدنظر رکھ کر معیشت کی بہتری کا راگ الاپ رہے ہیں لیکن جس معیشت کی ترقی کا وہ دعویٰ کرتے چلے آ رہے ہیں اس کی پرویزمشرف کے دور میں ہونے والی معاشی ترقی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔ایک مخصوص ایلیٹ کلاس طبقے کی اس غیرحقیقی ترقی کے سبب وطن عزیز میں مڈل کلاس طبقہ مزید پس رہا ہے جبکہ غریب طبقہ اپنی حیثیت اورقوت خرید مزید کھوتا چلا جا رہا ہے۔ ہر طرف مہنگائی اور بے روزگاری حد سے زیادہ تجاوز کر رہی ہے۔ حکومت تاحال تمام صوبوں اور وفاقی سطح سے کم از کم اجرتوں پر عملدرآمد کرنے میں ناکام ہے۔ ایک طرف کم از کم مقرر کی گئی اجرت 13ہزار پر احتجاج جاری ہے کہ یہ اجرت موجودہ حالات و واقعات کے تجزیے کے حوالے سے بہت کم ہے تو دوسری طرف پورے ملک میں بلاتفریق کم از کم اجرت پر عملدرآمد کہیں بھی نظر نہیں آتا ۔لیکن حکومتی حسن ترقی کا یہ عالم ہے کہ اس ضمن میں کوئی شکایت دہندہ کوئی ایسا ادارہ اور محکمہ فعال نہیں دیکھ سکتا جہاں شکایت درج کی جا سکے۔ لہٰذا اس پر اتنا ہی تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کو بھی مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی بڑھتی ہوئی شرح سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ ایسا ہی معاملہ ہے جیسے گوادر بلوچستان میں اپنی انقلابی حدوں کو چھونے کے قریب ہے جبکہ گوادر کے غریب باسیوں کے لئے روزگار اور پینے کے صاف پانی تک کا تاحال انتظام نہیں کیا جا سکا جس پر گہری تشویش بڑھ رہی ہے اور سوال کیا جا رہا ہے۔ گوادر بلوچستان میں ہے اور ترقی لاہور میں اس کے نام پر کی جا رہی ہے۔ ایسی ہی ترقی کا نقشہ روزانہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار اپنے بیانات کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ دنوں رئیل سٹیٹ کے بزنس کے ساتھ لکاچھپی کا جو کھیل کھیلا گیا اس پر ہمارے شعبہ بینکاری کے ذمہ داران جو وزارت خزانہ کے بارے میں رائے رکھتے ہیں یعنی انہیں خلق خدا غائبانہ کیا کہتی ہے اس کا اندازہ صرف اور صرف عوام لگا سکتے ہیں جن کو ہر طرف سے مسائل درپیش ہیں اور مختلف طریقوں سے ان کے گرد آمدن کے ذرائع محدود کئے جا رہے ہیں۔
وہ ترقی جو عملی طور پر ملک کی شاہراہوں، گلی محلوں، چھوٹی آبادیوں، بستیوں حتیٰ کہ جھونپڑیوں میں اپنے فوائد نہ پہنچا سکے اس کا ملکی معیشت سے حقیقی طور پر کبھی کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار ایک زیرک اور قابل شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ معیشت کے مضمون کے رموزواوقاف سے بھرپور آشنا ہیں، ان کو معیشت کی بنیادی اصول کا علم ہو گا کہ اگر کوئی ادارہ بھی رواں دواں ہو اور اس کے ثمرات تنخواہ یا مراعات کی صورت میں ایک ادنیٰ سے ورکر تک منتقل نہ ہو سکیں تو ترقی کا دعویٰ محض دیوانے کا خواب ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ کون سی ترقی ہے جس میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، عالمی ادارے بار بار ہماری تعریف کر رہے ہیں اور غریب آدمی آج بھی ایک لٹر پٹرول کی قیمت میں دو روپے اضافے پر سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ وہ چیختا اور پکارتا ہے کہ اس دو روپے اضافے کے بعد اپنی چند ہزار روپے کی آمدن کے ذریعے وہ قرض اٹھائے بغیر ماہوار اپنے گھریلو اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ امراء کا طبقہ جس میں برآمدکنندگان اور متوسط طبقے تک کے پیداواری حلقے شامل ہیں وہ بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو روپے اضافے پر سراپا احتجاج بن گئے ہیں ان کی طرف سے برآمدات میں کمی کا نوحہ سنایا جا رہا ہے۔ عالمی منڈیوں میں مسابقتی ممالک کی صورت میں درپیش مسائل اور بحرانوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اگرچہ بجلی کی قیمتوں میں 3.23روپے فی یونٹ کمی بھی کی گئی ہے لیکن عوام کے ساتھ ساتھ پیداواری حلقہ زرعی حلقے اور تاجر برادری بھی سراپا احتجاج ہے۔ یہ کون سے ضابطہ اخلاق اور قوانین ہیں کہ ملک کے تمام بڑے چیمبر چیخ و پکار میں مصروف ہیں کہ ایف بی آر آئندہ بجٹ قریب آنے کے خوف سے پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان کے گرد گھیرا مزید تنگ کر رہا ہے۔ کیا ایسے اقدامات سے ملک میں ٹیکس کی شرح مزید بڑھے گی؟ اس کا فیصلہ وزیر خزانہ خود ہی کر لیں تو بہتر ہو گا۔ تاہم جہاں تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ڈیڑھ ماہ کے قلیل عرصے کے دوران چوتھے بار متواتر اضافے کا تعلق ہے اس پر اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ احتجاج اٹھ رہا ہے جس میں زیادہ شدت نہیں اور اس پر اسی لئے حکومت کی توجہ نہیں لیکن اس کے براہ راست اثرات ملکی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں اور معاشی کمزوری کی صورت میں آئندہ غریب عوام کو مزید مسائل کے لئے تیار رہنا چاہیے۔