تاجر برادری:معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور انجن آف گروتھ

06 مارچ 2017

احسن صدیق
معروف بزنس مین اور لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر عبدالباسط نے نوائے وقت کو خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں کو شدت سے اس حقیقت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کو جن بہت سے معاشی مسائل اور اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اْن سے نمٹنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ پہلے تاجر برادری کے مسائل حل کیے جائیں جوکہ معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی اور انجن آف گروتھ ہے۔ بصورتِ دیگر جتنا چاہے سر پٹختے رہیں کچھ نہیں ہونے والا۔ بطور صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کوشش کررہا ہوں کہ پہلے ان چیلنجز سے نمٹا جائے جو تجارتی ترقی کے راستہ میں رکاوٹ ہیں اور جنہوں نے تاجروں کو پریشان کررکھا ہے۔ جن اہم مسائل نے تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو یرغمال بنارکھا ہے ان میں خاص طور پر سرکاری اہلکاروں کے صوابدیدی اختیارات کا غلط استعمال، دکانوں، گوداموں اور مارکیٹوں میں بے جا چھاپے، سمگلنگ روکنے کے نام پر مارکیٹوں کے باہر ناکے لگاکر تاجروں کو ہراساں کرنا، ایف بی آر کی بینک اکائونٹس تک رسائی، بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس، مختلف مصنوعات کی ایویلیوایشن میں بھاری اضافہ اور ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام سرفہرست ہیں۔ حکومت کو ان معاملات کی طرف فوری توجہ دینی اور یہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے چاہئیں۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ ترقیاتی بجٹ کا رخ شہر کی مارکیٹوں کی جانب موڑے کیونکہ حکومت کو بھاری محاصل دینے کے باوجود یہاں کے تاجر مشکلات سے دوچار ہیں۔ مارکیٹوں میں انفراسٹرکچر کی حالت درست کرنے اور ٹریفک کا نظام درست کرنے کے لیے پارکنگ پلازے بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ تاجروں کو درپیش ایک اور اہم مسئلہ مال روڈ پر جلسے جلوسوں اور احتجاجوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی ہے جس سے نہ صرف مال روڈ بلکہ دیگر ملحقہ مارکیٹوں کے کاروبار تباہ ہورہے ہیں۔ ہم پنجاب اور ضلعی حکومت پر زور دیں گے کہ وہ یہ مسئلہ بھی حل کرے جو دکھائی تو بہت معمولی دیتا ہے لیکن حقیقت میں بہت سنگین ہے۔ جب تاجر برادری کے یہ مسائل حل ہونگے تو یہ مضبوط ہوکر کالاباغ ڈیم کی تعمیر، برآمدات کے فروغ، تجارتی خسارے کے خاتمے، بجلی کی پیداوار میں اضافے ، سمگلنگ کے خاتمے، غربت میں کمی، اور صنعتی و تجارت شعبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے بہترین کردار ادا کرسکے گی۔ معاشی استحکام اور سیاسی صورتحال کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ معاشی استحکام کے لیے سیاسی صورتحال کا استحکام بہت ضروری ہے لیکن اس وقت ملک ان تمام حوالوں سے بہت ہی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف تو توانائی کا بحران صنعت و تجارت اور معیشت کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے اور دوسری طرف سیاسی عدم استحکام جلتی پر تیل چھڑک رہا ہے۔ ہمارا ملک کسی طور بھی سیاسی انتشار زیادہ عرصہ تک برداشت نہیں کرسکتالیکن سیاستدان صورتحال بہتر بنانے کے بجائے آپس کی جنگ میں مصروف ہیں۔ کسی کو اپنے بیس بیس سال پرانے وہ کارنامے یاد آرہے ہیں جن کا ثمر کبھی عوام کو نہیں ملا تو کوئی مستقبل کے سہانے خواب دکھلانے میں مصروف ہے لیکن موجودہ حالات درست بنانے کے لیے کوئی بھی کچھ نہیں کررہا۔ تاجر و صنعتکار برادری اس صورتحال میں بری طرح پس رہی ہے۔ حکومت تو اندرونی و بیرونی قرضے لیکر وقت گزار لیتی ہے مگر ہمارے کاروبار دبائو پر لگ جاتے ہیں۔ نجی شعبے جس کو بین الاقوامی طور پر ترقی کا انجن قرار دیا جاتا ہے ، پاکستان میں آج بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ بیرونی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے گریزاں ہیں۔ باہمی اختلافات کوئی نئی بات نہیں ، دنیا بھر میں سیاستدانوں میں چپقلش چلتی رہتی ہے لیکن جہاں قومی مفادات کا معاملہ ہو کم از کم وہاں پر سب کو ایک ہوجانا چاہیے۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام نہ صرف سنگین مسائل پیدا کررہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کے متعلق منفی تاثرات پیدا ہورہے ہیں لہذا سیاستدان صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی استحکام پر توجہ دیں جس سے دیرپا معاشی استحکام آئے گا۔
ملک کی برآمدات میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہونے کی بجائے کمی ہونا بہت تشویشناک ہے۔ 60ء کی دہائی میں پانچ ممالک سائوتھ کوریا، ملائشیا، انڈونیشیا، فلپائن اور تھائی لینڈ کی مجموعی برآمدات پاکستان کی برآمدات سے کم تھیں لیکن آج ان میں سے ہر ایک ملک کی برآمدات ہم سے کئی گنا زیادہ ہوچکی ہیں۔پاکستان کو علاقائی تجارت کے فروغ کی جانب زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ علاقائی تجارت کا مطلب یہ نہیں کہ دھڑا دھڑا درآمدات شروع کرکے تجارتی حجم میں اضافہ کیا جائے بلکہ ہمیں علاقائی ممالک کو برآمدات بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کو وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریلوے لنک قائم کرنے چاہیئیں جس سے ان ریاستوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں سب سے زیادہ اہم کردار اس کا صنعتی شعبہ ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صنعتی شعبے کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے لیکن ہمارا صنعتی شعبہ چند ایسی مشکلات سے دوچار ہے جن کی وجہ سے وہ معاشی ترقی میں اپنا خاطر خواہ کردار ادا نہیںکرپا رہا۔ ہمیں خطے میں چین اور بھارت جیسے بڑے صنعتی ممالک سے مقابلے کا سامنا ہے۔ ان دونوںممالک نے اپنے صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے خصوصی اقدامات کرکے پیداواری لاگت کو کنٹرول میں رکھا ہے جبکہ ہم زرعی ملک ہونے اور دنیا میں ندی و نالوں کا بہترین نظام رکھنے کے باوجود سبزیاں دوسرے ممالک سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت سے کھلی تجارت شروع ہوگئی تو پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے ہماری مصنوعات مقابلہ نہیں کرسکیں گی اور ہمارا ملک صرف ٹریڈنگ پلیس یعنی تجارت کرنے کی جگہ بن کر رہ جائے گا۔آئندہ دور میں سخت مقابلے کے پیشِ نظر ملک کے صنعتی اور زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے فی الفور اقدامات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہی دو بڑے شعبے ہیں جو معاشی استحکام میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری برآمدات اب تک صرف چند روایتی شعبوں تک محدود رہی ہیں جبکہ ڈبلیوٹی او کے نفاذ کے بعد عالمی منڈی میں سخت مقابلے کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔ اب یہ اشد ضروری ہوگیا ہے کہ برآمدات کے روایتی میدانوں سے نکل کر نئے شعبوں اور نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دی جائے۔ مزید برآں کالاباغ ڈیم بھی ملک کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے ایک ناگزیر منصوبہ ہے۔ کالاباغ ڈیم منصوبے کو معرض وجود میں آئے 6دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران جب کبھی بھی کالاباغ ڈیم کا معاملہ سرگرم ہوتا ہے تو ایک مخصوص لابی اس کی مخالفت میں بڑے جوش و خروش سے متحرک ہوکر کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں زبان و بیان سے گولے داغنا شروع کردیتی ہے جو واضح طور پر پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی گھنائونی سازش کا حصہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ دشمن قوتیں کسی بھی صورت پاکستان کو خوشحال اور معاشی طور پر مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔ چونکہ ملک دشمن قوتیں پاکستان میں مضبوطی سے پنجے جمائے بیٹھی ہیں لہذا کالاباغ ڈیم نہیں بن پایالہذا ان علاقوں کے زرعی شعبے کو آبپاشی کے لیے بارشوں اور ٹیوب ویلوں پر انحصار کرنا پڑا ۔ خوش قسمتی سے بارشیں راوی ستلج بیاس کی ویلی کے زرعی شعبے کو مکمل بربادی سے بچاتی آرہی ہیں وگرنہ زرخیز زمین پر خاک اُڑ رہی ہوتی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کالاباغ ڈیم سندھ طاس معاہدے کا بہت اہم حصہ ہے لیکن اس پہلو پر شاید ہی کبھی اُن فیصلہ سازوں نے سوچنے کی زحمت گوارا کی ہو جنہوں نے بھارت کی آبی جارحیت اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے زرخیز ہونے کے باوجود بیکار پڑی 9ملین ہیکٹر زمین کو اپنا نصیب سمجھ کر قبول کرلیا ہے حالانکہ کالاباغ ڈیم کی لوکیشن سے ہر سال اتنا پانی گزر کر ضائع ہوجاتا ہے جس سے کالاباغ ڈیم جیسے دو ڈیم بھرے جاسکتے ہیں۔