افریقہ میں چین اور جاپان کا تجارت کیلئے مقابلہ

06 مارچ 2017

بلال احمد شیخ
جاپان 2018ء تک افریقی ممالک میں 30ارب ڈالرخرچ کرے گا ۔ جاپان کے وزیراعظم نے کینیا کے دورہ کے دوران کہا کہ آئندہ سال افریقہ کے ہیںاور اس علاقہ میں انقلاب برپا ہونے والا ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پچھلے دس سالوں میں افریقی ممالک کی لاٹری نکل آئی ہے کیونکہ وہاں چین اور جاپان وسیع سرمایہ کاری کا آغاز کرچکے ہیں۔ کئی افریقی ممالک میں تیزی سے ترقیاتی پروجیکٹ شروع ہوچکے ہیں۔ دنیا کے ایسے علاقوں میں جہاں جانے کو کوئی تیار نہ تھا وہاں یکا یک سرمایہ کاری بہت عجیب محسوس ہوتی ہے، اس سرمایہ کاری کی کئی وجوہات ہیں اور بنیادی سوال یہ ہے چین اور جاپان اس علاقہ میں اس قدر دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟
جاپان اور چین سفارتی سطح پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے پچھلے کئی سالوں سے دونوں ممالک آسیان تنظیم میں اپنے کردار پر پنجہ آزمائی کرتے نظرآئے اور میڈیا میں بھی خوب چرچہ رہا۔ اب پچھلے دوسالوں سے اس جنگ کا میدان افریقہ میں سج چکا ہے ۔ 2014ء میں یہ دلچسپ صورتحال سامنے آئی تھی جب چین کے وزیرخارجہ کے دورہ کے فوری بعد جاپانی وزیراعظم افریقہ جا پہنچے اور چند افریقی ممالک کا دورہ کیا۔ 80ء کی دہائی میں جاپان کی درآمدت اور برآمدت کا صرف ایک فیصد افریقی ممالک کے ساتھ تھا جبکہ اس ایک فیصد میں سے بھی 50فیصد حصہ جنوبی افریقہ کا تھا۔ جنوبی افریقہ اس وقت نسلی امتیاز کے باعث اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں تھا اس کے باوجود جاپان نے جنوبی افریقہ کا خوب ساتھ دیا تھا۔لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ 2000ء میں جاپان کی براہ راست سرمایہ کاری 758ملین ڈالر تھی جو 2014ء میں 10.5ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔
دوسری طرف چین بھی افریقہ سے غافل نہیں۔ 1980ء تک چین کی پورے افریقہ میں تجارت کاحجم صرف ایک ارب ڈالرتھا۔ 1999ء میں یہ سطح 7 بلین ڈالرپر آگئی جو 2010 میں 114ارب ڈالر اور 2012ء میں 180ارب ڈالر تک جاپہنچی تھی ۔ چین کی 800سے زائد کمپنیاں افریقہ میں کاروبار میں مصروف ہیں۔ جو انرجی بنکنگ اور تعمیراتی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ بہت کم شرح سود پر قرضے فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ کاروباری آسانیاں پیدا کی جاسکیں ۔ چین ان علاقوں سے تیل بھی حاصل کررہا ہے خصوصاً انگولا میں تیل کے ذخائر کا استعمال کیا جارہا ہے اس وقت چین کے کل فیول کا بڑا حصہ افریقہ سے آرہا ہے چین نے مالی میں وسیع سرمایہ کاری بھی کی ہے جس کے نتیجہ میں چین کی کاٹن کی 20 فیصد ضروریات افریقی ملک مالے پوری کرتا ہے۔ چین کینیا سے کافی اور نیمبیبیا سے مچھلی کی وسیع مقدار منگواتا ہے جبکہ اس میں سرمایہ کاری کی بھی کی جارہی ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ فرانس اور برطانیہ کی دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری اور تجارت میںکمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال کا بھرپور فائدہ حاصل کرنے کیلئے جاپان بھی اب میدان میں آ گیاہے۔
جاپان کے وزیراعظم نے 2013ء میں کینیا میں انٹرنیشنل کانفرنس برائے ترقی میں شرکت کی تھی۔ افریقہ سے متعلق یہ کانفرنس جاپان نے 1993ء میں شروع کروائی تھی۔ تب سے اس کے سبھی اجلاس ٹوکیو میں ہی ہوتے آئے ہیںلیکن 2013ء میں جاپان نے کینیا میں اس کا انعقاد کروایا۔ افریقہ میں سرمایہ کاری کی کئی وجوہات ہیں جاپان اب دنیا میں نکل کر اپنی معیشت کے لئے ذرائع تلاش کررہا ہے کیونکہ اپنے ہاں جغرافیائی مسائل ،جگہ کی کمی کی وجہ سے جاپان کو افریقی ممالک میں بہت سستی لیبرمیسر ہے۔ افریقہ کے قدرتی اور انسانی وسائل جاپان کے لئے زبردست دلچسپی کا باعث ہیں ۔جاپانی وزیراعظم ایبے Abeکے مطابق افریقی ممالک آئندہ سالوں میں قرضہ لینے والے ملک نہیں رہیں گے ۔
حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ چین اورجاپان افریقہ کے کئی ملکوں میں اپنے اپنے پروجیکٹس شروع کرچکے ہیں جس کے باعث ان علاقوں میں امن اورسلامتی کے حالات بہت بہترہورہے ہیں ۔ دونوں ممالک ان افریقی ممالک کو قرضہ دینے کے علاوہ مشترکہ منصوبوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ افریقی طالب علموں کو تربیت دینے کے لئے کورسز کروائے جارہے ہیں خصوصاً زراعت کے شعبہ میں چین وسیع سرمایہ کاری کررہا ہے جاپان سرکاری سطح پر امداد فراہم کررہا ہے جبکہ چین افریقہ میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے۔
جاپان کی سرمایہ کاری ان علاقوں میں بڑھی ہے توان علاقوں کا امن بھی اس کے لئے بہت اہمیت اختیارکرچکا ہے ۔ جاپان نے اقوام متحدہ کے تحت اپنی افواج کو افریقہ میں تعینات کروایا ہے اوران علاقوں میں امن وامان خوراک اور رہائش کے لئے بہت مثبت کوششیں کی ہیں ۔جنوبی سوڈان ایتھوپیا اور یوگنڈا میں بہت زیادہ فضائی سروسزفراہم کیں ہیں تاکہ آلات اور سامان کی ترسیل آسان ہوسکے۔ اسی طرح افریقی نوجوانوں کو مثبت مقاصد کے لئے کام کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے جاپان افریقہ کے تمام ممالک سے نوجوان کی لسٹیں بنارہے ہیں جن کو جاپان میں اولمپکس 2020ء کے لئے تربیت دی جائے گی۔
چین کے دفاعی تعلقات افریقہ میں کئی ممالک سے ہیں۔ جس پر امریکہ برطانیہ اور کئی یورپی ممالک نے اعتراضات کئے ہیں۔ چین اپنی افواج اقوام متحدہ کے تحت کئی مرتبہ بھیج چکا ہے چین کے افریقہ کے اٹھارہ ممالک سے دفاعی تعاون کے تعلقات ہیں ۔ چین کے صدر نے اگرچہ یہ واضح کردیا تھا کہ چین افریقی ممالک کے باہمی تنازعات میں د خل اندازی میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔ یہ سب مسائل افریقی ممالک کو خود حل کرنا ہے جس میں چین سیاسی مدد کرسکتا ہے لیکن چین افریقہ کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں ہرطرح کی مدد کرے گا چین اس وقت افریقہ میں اسلحہ فراہم کرنے والا بڑا ملک بن چکا ہے۔ روسی ہتھیاروں کی جگہ اب تیزی سے چین کے ہتھیارلے رہے ہیں ۔
چین کی افریقہ میں پذیرائی سے امریکہ اوریورپ دونوں ہی خائف ہیں تجارتی مسائل کے علاوہ سیاسی اور فوجی مقاصد میں بھی امریکی چین کے مضبوط ہوتے اثرات سے نالاں نظرآتے ہیں اسی لئے امریکہ کے قریبی حلیف جاپان اور انڈیا اس علاقہ میں اپنے تعلقات تیزی سے استوار کررہے ہیں ۔جاپان گرانٹ اور امداد کی شکل میں ان علاقوں میں اپنا اثردکھا رہا ہے جبکہ انڈیا ان علاقوں میں پروجیکٹس کے ٹھیکوں میں دلچسپی لے رہا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کرایشیائی ممالک تیزی سے افریقہ کی طرف متوجہ ہورہے ہیں جس سے نہ صرف افریقہ میں ترقی کے روشن امکانات پیدا ہورہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ افریقہ میں باہمی تنازعات بھی کسی حد تک کم ہوئے ہیں جو یقیناً پورے افریقہ کے لئے ایک اچھی خبر ہے ۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...