فاٹا میں زیر زمین گیس، تیل کے ذخائر کی تلاش

06 مارچ 2017

سلطان صدیقی
قدرتی وسائل سے مالا مال قبائلی علاقہ جات فاٹا میں دیگر معدنیات کے علاوہ آئل اینڈگیس کے ذخائر کاجائزہ لینے کیلئے2ڈی سیسمک سروے مکمل کیاگیا ہے اورجیولوجیکل میپنگ کردی گئی ہے۔ایک صدی سے یہ علاقہ افغانستان کے ساتھ سرحدی پٹی پرہونے کی وجہ سے بفر زون کی حیثیت سے چلا آرہا ہے۔ جبکہ قیام پاکستان کے بعد بھی مختلف حکومتوں نے ان علاقوں کی ترقی اوریہاں کے چپے چپے میں پوشیدہ معدنی وسائل کے خزانوں کونکالنے اورملکی ترقی کیلئے استعمال کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔
تاہم موجودہ حکومت نے ان علاقوں کی ترقی اورمعاشی واقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کوراستے دینے پہ توجہ دی ہے۔ اس سلسلے میں گورنر خیبرپختونخوا انجینئراقبال ظفرجھگڑا جو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جات(فاٹا) کیلئے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں، کی خصوصی ہدایت پرادارہ ترقیات فاٹا میں ایک پراجیکٹ کے تحت آئل اینڈگیس کی دریافت،ذخائر کاجائزہ لینے ،علاقے میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی اوریہاں کے لوگوں کوملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کیلئے سرگرمیوں کاآغاز کیاگیا مختصروقت میں ایف ڈی اے کے متعلقہ یونٹ نے بڑی کامیابی حاصل کی اورآئل اینڈگیس کے 15 فیلڈزکی ایکسپلوریشنلیز8 قومی اورملٹی نیشنل کمپنیوں کوایوارڈ کئے ہیں۔ ان ایکسپلوریشن اینڈپروڈکشن کمپنیز کوایف ڈی اے کی جانب سے ہرممکن تعاون فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم یہ ان معاہدوں اورشرائط کے تحت دی جاتی ہے جو ان کمپنیوں کی وفاقی حکومت کے ساتھ پیٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹ(پی سی اے) میں درج ہوتی ہیں۔ یہ آئل ،گیس فسلیٹیشن یونٹ ان کمپنیوں کوسیکیورٹی کے مسائل سمیت مقامی قبائلی اقوام کے ساتھ درپیش مسائل ومشکلات کے حل میں کردار اداکرتاہے اوران کے درمیان رابطے کاپل بنتا ہے۔ ان کمپنیوں میں او جی ڈی سی ایل، الحاج انٹرپرائیزز(پرائیویٹ) لمٹیڈ، بی جی پی ، جیوفیزیکا، ایم اوایل، اوپی ایل، سینشے وغیرہ شامل ہیں۔
ایف ڈی اے کے سربراہ کے ساتھ ایک اجلاس میں ان کمپنیوں کے ذمہ داران کوتمام مسائل کے حل میں اپناکردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی جبکہ گذشتہ سال کے اوائل میں ایک اوراجلاس کے دوران فاٹامیں آئل اینڈگیس کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی مناسب اندازمیں راہنمائی کرنے اورانہیں ہدایات دینے کے علاوہ ان کی جانب سے عرصہ دراز سے زیرالتواء ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہاگیا۔ ایف ڈی اے کے متعلقہ یونٹ نے تیزرفتاری سے اپنی کوششیں جاری رکھتے ہوئے جب مذکورہ کمپنیوں کوفیلڈ سپورٹ اورمقامی لوگوں کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرنے نیزسیکیورٹی کی فراہم کیلئے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطہ کی خدمات فراہم کیں تودیگر ای اینڈ پی کمپنیاں جن کی فاٹا میں کام کرنے میں دلچسپی ہے، نے بھی ایف ڈی اے کی مذکورہ یونٹ کے ساتھ کام کی خواہش کااظہار کیا۔چنانچہ اوجی ایف یونٹ نے فاٹا میں معاشی سرگرمیوں کے اجراء کیلئے ان کمپنیوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیںہرممکن تعاون کی فراہمی کایقین دلایا۔ مذکورہ یونٹ پاک فوج کے بشمول تمام سٹیک ہولڈرز کواعتماد میں لیکر فاٹا سیکرٹریٹ اورلاء اینڈآرڈر ڈیپارٹمنٹ سے ان کمپنیوں کے لئے این اوسی کے حصول میںمدددیتاہے سیکرٹریٹ متعلقہ قبائلی ایجنسی یا علاقہ ایف آر متعلقہ کے قبائلی حکام سے مشورہ کے بعد این اوسی جاری کرتاہے۔ پھرپولٹیکل انتظامیہ کے تعاون سے متعلقہ علاقے کے قبائیلی مشیران اورزعماء کا ایک جرگہ طلب کرتاہے اور انہیں اعتماد میں لیکر ان کے علاقے میں آئل اینڈگیس کی تلاشی کاکام شروع کرنے کیلئے ان سے شرائط وضوابط طے کرکے منصوبے میں ان کیلئے مراعات،ملازمتوں اورروزگار کے مواقع پیداکرتاہے۔
چینی کنٹریکٹرزکی کمپنی بی جی پی نے ایف ڈ ی اے کے تعاون وراہنمائی میں ایف آر بنوں کے علاقے لتمبربلاک میں2ڈی سیسمک سروے مکمل کیا۔ ان سرگرمیوں سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع مہیاہوئے ہیں۔ علاقے میں وقتاً فوقتاً فری میڈیکل کیمپس بھی منعقد کئے گئے ہیں۔ پینے کی پانی کی فراہمی کیلئے کئی دیہاتوں میں پریشر پمپس نصب کئے گئے۔مختلف ضروریات کی فراہمی کیلئے مقامی لوگوںسے سپلائی کا کام لیا جاتا رہا ۔ غیرملکی کمپنیوں نے ایف آر ڈی آئی خان کے بسکا نارتھ بلاک، ایف آر کوہاٹ کے علاقہ لوئر اورکزئی بلاک اورایف آر پشاورکے علاقوں میں جیوفیزیکل سیسمک سروے کامیابی کے ساتھ مکمل کیے ہیں۔ جن سے علاقوں میں مقامی لوگوں کوروزگار سمیت دیگر سماجی ومعاشرتی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ ان کامیاب سرگرمیوں کو دیکھ کراب مزید ای اینڈپی کمپنیوں نے متعلقہ حکام اور اداروں کے ساتھ رابطے کرکے اس ضمن میں مزید علاقوں میں کام کرنے اور موجودہ تکمیل شدہ سرگرمیوں کو مزیدآگے بڑھانے کی خواہش کااظہارکیاہے۔