پاک افغان سرحد کھولنے کے لئے افغان سفیر کی دھمکی

06 مارچ 2017

پاکستان میں تعینات افغان سفیر زاخیل وال نے گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات اور سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں تمام تر سفارتی آداب و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ چند روز میں سرحد نہ کھلی تو وہ چارٹر طیارے منگوا کر اپنے شہری لے جائیں گے۔ افغان سفیر کا کہنا ہے کہ پاک افغان تجارتی و سفری راستوں کی مسلسل بندش کے باعث 2½ ہزار کے قریب ان کے شہری بارڈر پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان نے بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود سرحد کھولنے کیلئے اب تک عملاً کچھ نہیں کیا۔ پاکستان نے 16 فروری کو سیہون شریف میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے میں 88 بے گناہوں کی شہادت کے بعد پاک افغان سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کر دی تھی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سرحد کے آرپار دہشت گردوں کی باقیات کے مکمل خاتمے تک اسے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ افغانستان جب تک اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی سرگرمیاں اور انہیں پاکستان میں داخل ہونے سے نہیں روکتا‘ پاکستان یہ سرحد کھول کر اپنی سلامتی دا¶ پر نہیں لگا سکتا۔ سرحدوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات اور تجارتی نقصان کے ازالے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان کراس بارڈر‘ دہشت گردی کے معاملے پر مو¿ثر تعاون کی ضرورت ہے۔ افغان سفیر کے دھمکی آمیز بیان سے صورت حال مزید خراب ہو گی۔ کابل انتظامیہ کو پاکستان کے ساتھ کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے ٹھنڈے دل سے صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرنا اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔
حساس ادارے کے مغوی افسر
کی مسخ شدہ نعش کی برآمدگی
ملتان 3 سال قبل اغوا ہونے والے حساس ادارے کے افسر اور سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کے بھتیجے کی مسخ شدہ نعش برآمد۔ جسم پر تشدد اور گولیوں کے نشانات‘ پا¶ں میں زنجیریں اور قمیض پر داعش لکھا تھا۔
حساس ادارے کے انسپکٹر عمر مبین جیلانی کو 2014ءمیں اغوا کیا گیا تھا۔ تین برس بعد گذشتہ روز ان کی تشدد زدہ نعش پرانا شجاع آباد روڈ سے ملی۔ ان کی قمیض جو اورنج کلر کی مخصوص داعش کے قیدیوں کی طرز کی تھی، کی پشت پر الجاسوس آئی ایس آئی اور الباکستان اور ان کا نام درج تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بزدل عناصر اب دہشت گردوں تخریب کاروں سے لڑنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو داعش کے نام پر خوفزدہ کر کے ان کے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں عمر مبین سمیت سکیورٹی فورسز کے بے شمار بہادر جوان قربانیاں دے چکے ہیں۔ اس طرح کے وحشیانہ ظالمانہ ہتھکنڈوں سے انہیں ڈرایا نہیں جا سکتا۔ حکومت اور قوم اپنے ان ہزاروں شہدا کی قربانیاں ضائع ہونے نہیں دے گی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ آخری دہشت گرد‘ ان کے سہولت کاروں اور ٹھکانوں کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے۔ دہشت گردوں کی مکمل سرکوبی کے لئے پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ہے۔ اب تو پاکستان میں داعش کی موجودگی کے شواہد بھی مل رہے ہیں۔ ہمیں ایسے عناصر کی بھی سرکوبی کرنا ہو گی جو داعش سے رابطے میں ہیں یا ان کے لئے کام کر سکتے ہیں۔اس فتنے کا بر وقت قلع قمع کر کے ہی ہم دہشت گردی کی جنگ میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی فوجی عدالتوں
کی مدت میں توسیع کی مخالفت
پیپلزپارٹی کی قیادت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی باضابطہ مخالفت کر دی ہے تاہم پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے باور کرایا ہے کہ اگر یہ عدالتیں قائم کرنا ہی پڑیں تو اس کیلئے نیا قانون بنایا جائے تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور متاثرین کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جاسکے۔ نئے قانون کے بغیر فوجی عدالتیں قبول نہیں ہوں گی۔ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکام رہی ہے۔ فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد حکومت کو ان میں توسیع کا شوشہ چھوڑنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالتوں کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ فوجی عدالتیں جرنیلی آمریتوں کی لاقانونیت کی یاد دلاتی ہیں۔ حکومت کو اب فوجی عدالتوں کا باب بند کر دینا چاہیے اگرچہ ناگزیر حالات میں قومی سیاسی قیادتوں کے مابین فوجی عدالتوں کی مخصوص مدت کیلئے تشکیل پر اتفاق ہوا تھا تاہم اب مروجہ نظام عدل کے مقابل فوجی عدالتوں کی تشکیل کی ایکسرسائز سے گریز کرنا چاہیے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کو فوجی عدالتوں جتنی سہولتیں اور سکیورٹی فراہم کر دی جائے تو دہشت گردوں کو قانون کے تقاضوں کے مطابق سزا دینے کیلئے یہی عدالتیں زیادہ موثر ثابت ہوں گی۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...