ارکانِ اسلام اور جنت

06 مارچ 2017

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ہمیں ممانعت کر دی گئی کہ ہم (خاص ضرورت کے علاوہ) نبی کریم(ﷺ) سے سوال پوچھیں۔ ایسے میں ہم منتظر رہتے تھے کہ کوئی سمجھ دار بادیہ نشین دیہاتی حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہو اور سوال پوچھے اور ہم سنیں۔ انھیں ایاّم میں ایک بدوی حاضر خدمت ہوا اور آپ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ میں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں، مگر اثنائے سوال میرا رویہ سخت ہو تو آپ محسوس نہ فرمائیں۔ حضور نے فرمایا: جو تمہارے جی میں آئے پوچھو۔ اس نے پوچھا: اے محمد(ﷺ)! آپ کا قاصد ہمارے پاس پہنچا تھا۔ اس نے ہم سے بیان کیا کہ آپ کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ حضور نے فرمایا: اس نے تم سے ٹھیک کہا۔ بدوی نے پوچھا: تو بتائے کہ یہ آسمان کس نے بنایا؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے، اس نے کہا: زمین کس نے بنائی؟ فرمایا: اللہ نے، اس نے کہا: زمین پر یہ پہاڑ کس نے ایستادہ کئے اور ان پہاڑوں میں جو کچھ ہے اسے کس نے خلق کیا؟ ارشاد ہوا: اللہ نے، اس (بدوی) نے کہا، سو! قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان بنایا، زمین بنائی اور اس پر پہاڑ نصب کئے کیا اللہ ہی نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: بے شک مجھے اللہ ہی نے بھیجا ہے۔ اس نے کہا: آپ کے اُس قاصد نے ہم سے یہ بھی بیان کیا تھا کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ آپ نے فرمایا: درست ہے، بدوی نے کہا: آپ کو بھیجنے والے کی قسم کیا اللہ نے ہی آپ کو یہ حکم دیا ہے۔ ارشاد ہوا: ہاں! یہ اسی کا حکم ہے۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے بیان کیا ہے کہ ہمارے مالوں میں زکوٰۃ مقرر کی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ بھی درست ہے۔ اعرابی نے کہا: قسم آپ کو بھیجنے والے کی، یہ بھی اللہ کا حکم ہے؟ ارشاد ہوا: ہاں! (پھر اسی طرح ماہ رمضان کے بارے میں سوال و جواب ہوئے) اسکے بعد اس اعرابی نے کہا: آپکے قاصد نے ہم سے یہ بھی بیان کیا کہ ہم میں سے جو بھی مکہ پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اس پر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ (اور یہ بھی اللہ کا حکم ہے) یہ سوال و جواب ختم کر کے وہ اعرابی چل دیا اور چلتے ہوئے اس نے کہا میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔ میں قبیلہ سعد بن بکر کا ایک فرد ہوں اور میں اپنی قوم کیطرف سے نمائندہ بن کر آیا ہوں۔ اس ذات کی قسم، جس نے آپکو حق کیساتھ مبعوث فرمایا۔ میں ان (تعلیمات کے ابلاغ میں اور انکی ادائیگی میں) نہ کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کوئی کمی۔ رسول اکرم(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو ضرور جنت میں جائیگا۔ (بخاری و مسلم) قبولِ اسلام کے بعد حضرت ضمام بن ثعلبہ نے اپنی قوم میں پہنچ کر بڑی تندہی اور سرگرمی سے اسلام کی تبلیغ کی انکے بعض رشتہ داروں نے انہیں ڈرایا کہ دیوتائوں کی مخالفت کی وجہ سے کہیں تم برص، کوڑھ جنون میں مبتلا نہ ہو جائو۔ لیکن وہ ڈٹے رہے اور جلد ہی سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔
جو نہ تھے خود راہ پر اُوروں کے ہادی بن گئے
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا