پیر ‘ 6 جمادی الثانی 1438 ھ‘ 6 مارچ 2017ئ

06 مارچ 2017

دنیا بھر کی 30 فیصد دولت خواتین کی ملکیت ہے: رپورٹ
دنیا کی بات چھوڑیں ہمارے اپنے دیس میں یہ شرح کافی زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں تو 100 فیصد دولت کی مالک خواتین ہی ہیں۔ ہر گھر میں وزارت خزانہ کا محکمہ خاتون خانہ کے پاس ہوتا ہے۔ مرد بے چارا تو صرف وزیر محنت ہی رہتا ہے ساری زندگی کمانے میں گزر جاتی ہے اور جو کچھ کماتا ہے وہ خاتون کے قدموں میں لا کر ڈھیر کر دیتا ہے۔
دنیا بھر میں شوہر کی تنخواہ ہی نہیں وراثت میں بھی انہیں کافی دولت ملتی ہے۔ یورپ میں تو طلاق کی صورت میں یہ خواتین اپنے شوہروں کو کنگال کر دیتی ہیں۔ ایشیا میں فضول خرچ قسم کی خواتین شوہروں کی جمع پونجی یوں اڑاتی ہیں کہ دل جلے شوہر صرف آہیں بھرتے رہ جاتے ہیں۔ مگر کیا مجال ہے کہ ایک حرف شکایت ان کے لب پر آ جائے۔ وہ بے چارے تو سب کچھ لٹنے کے باوجود جب بیگم کی فرمائشیں دیکھتے ہیں تو بے ساختہ
اس کی آنکھیں سوال کرتی ہیں
میری ہمت جواب دیتی ہے
کی تصویر بنے گم سم نظر آتے ہیں۔
انہی باتوں کو مدنظر رکھ کر سیانوں نے کہا ہے عورت ہی گھر بناتی ہے‘ عورت ہی گھر بگاڑتی ہے۔ اب اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی دولت پر خواتین کی یلغار اسی طرح جاری ہی تو بہت جلد پوری دنیا کی دولت پر خواتین کا ہی راج ہو گا.... بے بس دولت سے محروم ہوتے مردوں کو اس پر فوری توجہ دینا ہو گی ورنہ بعد میں پچھتانے سے کچھ نہیں ہو گا....
٭....٭....٭....٭....٭
شیخ رشید بھی جوتا کلب کے ممبر بن گئے۔
لاہور میں آمد کے موقع پر جب شیخ جی کو وفاقی وزیر ریلوے کی طرف سے جی آیاں نوں کہتے ہوئے گلدستہ پیش کیا جا رہا تھا۔
اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے ایک معمر دیوانے نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ایسے تاک کر اپنی پشاوری چپل سے شیخ رشید کا نشانہ لیا کہ وہ عین نشانے پر جا لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے شیخ صاحب عالمی جوتا کلب کے ممبر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ یوں بقول شاعر
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
اب شیخ جی بھی ان عالمی لیڈروں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں جس میں شامل ہونے کی حسرت لئے کئی لوگ ترستے ہیں۔
اب خدا کرے یہ جوتا باری کا مقابلہ یہاں ہی ختم ہو اور اس کے اثرات پی ایس ایل کے فائنل کے بعد بھی نظر نہ آئیں۔ ویسے بھی شیخ صاحب نے ملزم بابا لکھ پتی کو معاف کر دیا ہے۔ اب ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے جذباتی کارکن احتراماً و عقیدتاً یہ تاریخی جوتا منہ مانگے داموں خرید کر اسے مسلم لیگ ہا¶س میں یادگار بنا کر آویزاں کر دیں....
٭....٭....٭....٭....٭
پشاور زلمی کے کپتان کا جیتنے پر پوری ٹیم اور انتظامیہ سمیت ٹنڈ کرانے کا اعلان
خدا جانے یہ کیسا اچھوتا خیال سوجھا ہے زلمی کے کپتان کو۔ لوگ تو ہارنے کے غم میں ٹنڈ کراتے ہیں مگر انہوں نے میچ جیتنے کی خوشی میں گنجا بننے کا اعلان کر دیا۔
اس اجتماعی ٹنڈ کاری کا فیصلہ ظاہر ہے‘ انہوں نے سب سے مشورے کے بعد ہی کیا ہو گا۔ ورنہ آج کل کون اپنے بال منڈوانے کو تیار ہوتا ہے۔ اب خدا جانے ٹنڈ کرانے کے بعد کھلاڑیوں کی کیسی شکلیں نظر آئیں گی۔ زلمی کے کپتان نے یہ بہت انوکھا فیصلہ کر کے لوگوں کو خوش کر دیا ہے۔ مگر خوشی کے یہ چند لمحات بھی بہت سے لوگوں سے برداشت نہیں ہو رہے۔
جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پی کے کے مشیر بھی شامل ہیں جنہوں نے درفنطنی چھوڑی کہ سنگینوں کے سائے تلے ہونے والے میچ سے ہمارا کیا لینا دینا۔ چلیں یہی سہی مگر خود موصوف اور وزیراعلیٰ بھی انہی سنگینوں کے سائے میں دن رات بسر کرتے ہیں۔ وہ اگر اتنے ہی نڈر ہیں تو اپنے ارد گرد محافظوں کی فوج ظفر موج کو ہٹا کیوں نہیں دیتے جو ہر وقت انہیں قیدی بنائے رکھتی ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
سوشل میڈیا پر آرائ۔ وزارت اطلاعات کے 3 افسروں کو برطرفی کے شوکاز نوٹس جاری
لگتا ہے سوشل میڈیا کا جادو اب سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ جبھی تو حکومت بھی اس پر دیئے جانے والی آراءپر نظر رکھنے لگی ہے اور سوشل میڈیا پر مثبت یا منفی آراءکو مقبولیت یا غیر مقبولیت کا پیمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز وزارت اطلاعات کے 3 افسروں کو سوشل میڈیا پر کمنٹ کرنے پر برطرفی کے شوکاز نوٹس ملے ہیں۔ یہ تو وہی
”کسی کی جان جاتی ہے تمہارا کھیل ہوتا ہے“
والی بات ہے۔ مذاق ہی مذاق میں کیا پتہ تھا نوکری کے لالے پڑ جائیں گے۔ ایک بے چارا قسمت کا مارا تو صرف مسکراتا چہرہ لگانے کے گناہ میں قابو آیا ہے۔ بھلا اسے کس نے کہا تھا کسی معاملہ میں تصویر یا پیغام کے ذریعے اپنی دلی مسرت کا اظہار کرے۔ یہاں تو بھائی حال دل تک چھپا کر رکھنے کا دور ہے۔ آپ کہاں منصور بننے چلے تھے۔
بزرگوں نے اسی لئے اپنا حال دل کسی پر ظاہر نہ کرنے کی حکمت بیان کی ہے۔ اب دیکھ لیں ”تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں“۔ میاں ادھر تو لوگ لفافہ دیکھ کر خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں۔ احتیاط اسی میں ہے کہ اب سرکاری ملازمین دیکھ بھال کر ہی سوشل میڈیا استعمال کریں....
٭....٭....٭....٭....٭

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...