جامعات: اخلاص کتنا ہے اور احساس کتنا؟

06 مارچ 2017

ہمیں عادت ہے بلکہ ہم پاکستانیوں کو زیادہ ہی عادت ہے ہے کہ ہم زندگیاں مشکل کر لیتے ہیں۔ رسک لینا اور رسک لینے پر مجبور کر دینا اپنا مرعوب مشغلہ ہے۔ موٹے موٹے تین چار شعبے ایسے ہیں جنہیں انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے۔ یہ وہی حساس ہیں جن کا ہمیں احساس نہیں۔ دفاع، خارجی امور، اطلاعات و نشریات، تعلیم و تربیت اور امور صحت کے علاوہ بھی حساس معاملات ہوں گے لیکن بات تو ہمارے احساس کی ہے نا، کہ وقت کتنا ہے اور اپنے پاس، عقل کتنی؟ اگر یہ دونوں ہی میسر ہیں تو پھر اخلاص کتنا ہے؟ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ زیادہ تر حکمران، بیوروکریٹس، ٹیکنو کریٹس اور وائس چانسلرز حقیقت کا ساحل چھوڑ کر خواہشات کے گہرے سمندر میں غرق ہونا پسند کرتے ہیں! عادت کہوں اسے یا بیماری کہا جائے؟ بیمار تو یہاں کئی ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ باہمی احتساب سے پہلے خوداحتسابی ضروری ہے لہٰذا میں پہلے اپنی دائمی مرض کی بات کرتا ہوں۔ ہاں، یہ ایک نہیں۔ 18ویں ترمیم پر غوروفکر اور عملدرآمد کا فقدان، ہیلتھ سروسز میں عاقبت نااندیشوں کی موجیں، مسئلہ برین ڈرین، وزیر خارجہ کی ریاستی رگ و پے اور خون میں کمی، ٹیکنوکریسی اور بیوروکریسی میں ”آئیوڈین“ کی کمی اور تحقیق کی آماجگاہ ہوں میں وائس چانسلرز و ایچ ای سی و ایچ ای ڈی کے ربط (کوآرڈینیشن) میں کمی۔ یہ وہ امراض ہیں جن کا مجھے فوبیا ہے۔ مدافعت سے قوت برداشت تک سبھی میری امراض کو لاعلاج ہی گردانتے ہیں بلکہ مجھ پر ہنستے ہیں۔ ہنس لو، ہنس لو مہربانو! لیکن کچھ واقعات بہرحال سننے پڑیں گے۔ باقی آپ کی مرضی فکر کرنا یا نہ کرنا۔ نتیجہ اخذ کرو، نہ کرو: کم و بیش تین صوبوں کے سنگم ضلع رحیم یار خان کی خوش قسمتی ہے کہ وہاں پر خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی زیرتعمیر ہے۔ ہلکی پھلکی کلاسز بھی جاری ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب تعلیم دوست ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ کی طرح مقامی سیاستدان بھی تعلیم دوست بنیں، اپنی یونیورسٹی کو سرگودھا کے سیاستدانوں کی طرح سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ رحیم یار خان والے اس لئے بھی خوش قسمت ہیں کہ پی پی پی کے مرکزی رہنما اور سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کی ”محبت“ میں صوبہ پنجاب انہیں فنڈز کی کمی نہیں آنے دے رہا۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اطہر محبوب کا ایک ریکارڈ ہے کہ تمغہ امتیاز کے لئے اُس کے نام کی نشاندہی آرمی کی جانب سے آئی۔ ایک تو انہوں نے DSU میں اعلیٰ خدمات سرانجام دیں، دوسرا وہ DHA صفاءیونیورسٹی کراچی کے پہلے پی ایچ ڈی تھے۔ یہاں ایک بات اہل نظر کی نذر اور بھی، کہ جہاں اپوزیشن مضبوط ہو وہاں حزب اقتدار سو نہیں سکتی۔ پچھلے دنوں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں دو انٹرنیشنل کانفرنسوں میں شرکت کی سعادت کا موقع ملا۔ بزرگ یونیورسٹیوں میں اس کی روایات، حسن انتظام، تدریسی معاملات (کسی حد تک تحقیقی معاملات) قابلِ ستائش ہیں۔ ڈاکٹر قیصر مشتاق یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔ کہتے ہیں ایک سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بلال خان نے یونیورسٹی کو گلستان اور گیسٹ ہاﺅس سے کلاس رومز اور ایڈیٹوریم تک کو پیس آف آرٹ بنا دیا۔ بعدازاں سابق وی سی ڈاکٹر محمد مختار اور بالخصوص آج کی قیادت نے اسے دوام بخشا۔ یہ کام کرنے والے لوگ ہیں، انہیں ٹھیکیداری اور عمارتی چکروں اور بعدازاں نیب شیب میں نہ گھسیٹیں۔ قانون کے وزیر اور مشیر ان پر رحم کریں۔ ان سے وہی کام لیں جو ایک وائس چانسلر سے لئے جا سکتے ہیں۔ اللہ کا واسطہ ہے یہ کیا بات ہوئی کہ راتوں رات دیوار بنائیں ورنہ صبح پابند سلاسل کر دیں گے۔ ٹھیک ہے دہشت گردی کے تھریٹ ہیں لیکن یہ بھی تو سوچیں دہشت گردی کا سبب یہ ہیں یا صرف ان سربراہان تعلیمی ادارہ جات ہی نے ”اینٹی ٹیررسٹ“ کا کردار ادا کرنا ہے؟ کامیابی کے امکانات اس وقت بڑھیں گے جب تھرڈ پارٹی سسٹم سے جامعات کی رینکنگ ہو گی۔ ”ترقی“ کی خاطر، پچھلے دنوں سرکار نے ملک بھر میں دیارغیر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کو اعزازات بخشے۔ ٹھیک ہے لیکن جامعہ زکریا ملتان والوں کو بھی کہیں کہ اداروں پر توجہ دیں اور وہاں جلوہ افروز رہیں یا پھر رئیس جامعہ ایک سیٹلائٹ دفتر ہی اسلام آباد بنا لیں۔ ہمیں تو وائس چانسلرز سے محبت ہے، اسی محبت میں وہ بیوروکریٹس کے حوالے سے شکوے تو بہت کرتے ہیں مگر اپنا معاملہ بھی یہ ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ اب ایک دوست کا نام لیں گے تو بددعا دے گا لیکن اس نے بغیر سوچے سمجھے جو اختیارات سنڈیکیٹ کے تھے اُس کے اپنے بھی نہیں وہ اٹھا کر رجسٹرار اور خازن کو دے دیئے۔ مانا کہ اس کی باہر کی ڈگری اور حکومت میں یاری ہے لیکن اپنی ”تربیت“ بھی ضروری ہے جاناں! میری اپنی تحقیق کے مطابق کچھ وائس چانسلرز بیوروکریٹس سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں اور خود دعوت دیتے ہیں کہ آبیل مجھے مار۔ ٹھیک ہے 20ویں گریڈ میں ہیں مگر ”کنٹریکٹ“ پر حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں اور بیوروکریٹس نے چند نام نہاد ماہرین تعلیم سے دس گنا اچھا کام بھی کیا ہے۔ ہم بھولے نہیں کچھ ایچ ای سی کے چیئرمینوں اور سائنسدانوں کو جن کی جنرل سائنس سے زیادہ اپنی سائنس تھی اور زبیدہ جلال کی طرح قول و فعل میں تضاد اور اغیار سے ”جائز“ راہ و رسم۔ کہیں صرف حاجی ابراہیم جمال انسٹیٹیوٹ کراچی ہی کو ادارہ سمجھنا، کہیں مسئلہ لکشمی بلڈنگ اور کہیں دبئی میں بینتھم پریس کا کراچی سے کنٹرول اور کبھی ”ان بکس“ کے کمپیوٹر ہی کا ہر جگہ جانا اور پایا جانا....؟ اللہ! کن خشک باتوں کی جانب چلے گئے۔ وہ یاد آیا کہ جامعہ اسلامیہ بہاولپور کا مین ایڈیٹوریم کمال تھا، بہت کمال لیکن فیصل آباد میں جی سی یونیورسٹی کا قائداعظم ہال پورے ملک کے ہالوں کو پیچھے چھوڑ گیا۔ میں وزیراعظم میاں نواز شریف سے التماس کروں گا کہ وہاں پر ایک قومی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کرائیں اور خود تشریف لائیں۔ اگر قومی اسمبلی ہال سے زیادہ مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔ ویسے بھی یہ نوجوان یونیورسٹی، جامعہ پنجاب، جامعہ بلوچستان، جامعہ پشاور، جامعہ کراچی اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد جیسی بزرگ دانش گاہوں کے لئے لہو گرم رکھنے کا بہانہ ہو گی، اگر ان کے کرتے دھرتے خول سے نکل کر سیر کو آئیں گے! ہاں، وہ بھی یاد آیا کہ کچھ یونیورسٹیوں میں اسسٹنٹ یا ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی وائس چانسلر بن گئے۔ اچھی بات ہے ان کے سی وی پر بوسٹن سکول آف تھاٹ طرز کے کوئی ٹھپے ہوں گے یا اسلام آباد کا مرکزی تجربہ۔ ہم تو خود اس بات سے متفق ہیں پروفیسر یا پی ایچ ڈی ہونا کامیاب وائس چانسلر کی گارنٹی یا وارنٹی نہیں لیکن اکیڈمک کے لئے ازراہِ کرم فل پروفیسر تو بھرتی کر لیں۔ وہ جو بورڈ بٹھا کر ارادہ ملتوی کر دیتے ہیں کہ کوئی اپنا نہیں آیا لہٰذا پروگرام ملتوی۔ وہ یاد رکھیں کہ داماد اور بیگم کے ہاتھوں مجبور ہمارا ایک عزیز دوست پس دیوار زندان کے عنوان پر پی ایچ ڈی اور پروفیسری کر چکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ 18ویں ترمیم، تحقیق، غیر سیاسی تعلیمی ماحول، من پسند رجسٹراری سے پاک پیش منظر، سفارشی پس منظر سے پرہیز والے معاملات کو بروئے کار لایا جائے! کے پی کے کی شہر شہر پھیلی چھوٹی چھوٹی یونیورسٹیوں کی اصل شکل، سندھ کی یونیورسٹیوں کی سیاسی ہلچل کی جگہ تعلیمی سرگرمیوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی بانجھ یونیورسٹیوں پر سربراہ کی ہی نہیں سربراہ مملکت کی توجہ کی ضرورت ہے۔ ترقی کی گارنٹی یہ یونیورسٹیاں اور جمہوریت کا سیف گارڈ تعلیم کے علاوہ کچھ نہیں۔ پیارے وائس چانسلرز بھی اپنی زندگیاں آسان کریں، وہی کام کریں جن کے لئے انہیں عزت بخشی گئی۔ سیاست اور بادشاہت سے ان کا پرہیز بھی ضروری ہے۔ ثابت کرنا ہو گاکہ احساس کتنا اور اخلاص کتنا ہے؟