چور بھی کہے چور چور!

06 مارچ 2017

یہ بات کسی کے لیے حیران کن نہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی باضابطہ طور پر مخالفت کردی اور گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی قیادت میں ہونے والی اے پی سی بھی بری طرح ناکام ہوگئی اندر کی خبر یہ ہے محض پیپلز پارٹی ہی فوجی عدالتوں کے حوالے سے شور کرتی نظر آئی باقی جماعتوں نے بس ہاں میں ہاں ملائی مگر کسی نے کھل کر مخالفت بھی نہیں کی ن لیگ اس کانفرنس میں مدعو ہی نہیں تھی، تحریک انصا ف اور ایم کیو ایم ویسے ہی اس کانفرنس کا عملی طور پر بائیکاٹ ختم کرچکی تھیں۔ باقی رہی بات چھوٹی اور موٹی جماعتوں کی تو وہ آئیں تو ضرور مگر پیپلز پارٹی اعلامیہ جاری کرنے میں بھی ناکام رہی اور بلاول بھٹو زرداری تاریخ کی مختصر ترین 3منٹ دورانیے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد چلتے بنے۔
حقیقت میں پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے جن 161لوگوں کو پھانسیاں دینے کے فیصلے کیے گئے ان میں کتنے ”بلیک جیٹ“ دہشتگرد تھے، اور یہ کیوں ضروری ہیں؟حالانکہ پیپلز پارٹی کے اپنے گزشتہ پانچ سالہ دور میں پھانسی پر مکمل پابندی محض اس لیے لگائی گئی تھی کہ کہیں عالمی طاقتیں ان سے ناراض نہ جائے اس امر میں چاہے پاکستان لُٹ پٹ جائے اس کی انہیں قطعاََ فکر نہیں تھی.... خیر یہ ایک الگ بحث ہے کہ پھانسی کی سزا ہونی چاہیے یا نہیں ؟ لیکن یہ سوال تو ہر پاکستانی پوچھنے کا مجاز ہے کہ پیپلز پارٹی کو اے پی سی بلانے کا خیال اُس وقت کیوں نہیں آتا جب ملک میں دہشت گردی عروج پر ہو یا دنیا پاکستان پر پابندیاں لگانے کے بارے میں سوچ رہی ہو یا ملک میں شفاف الیکشن کروانے کی بات کی جارہی ہو یا ملک سے کرپشن کے خاتمے کے حوالے کوئی لائحہ عمل طے کرنا ہو یا ملک سے باہر پاکستانیوں کے پیسے کو پاکستان لانا ہو یا ملکی معیشت پر بات کرنی ہو یا ملک خاص طور پر سندھ جیسے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کرنا یا عوام کو صحت کی سہولتیں دینی ہوں یا عوام کو روٹی کپڑ ا اور مکان دینا ہوایسی صورت میں پیپلز پارٹی کو اے پی سی بلانے کا خیال کیوں نہیں آتا؟ میرا خیال ہے فوجی عدالتیں بنا کر فوری ٹرائل کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی اے پی سی بلا کر، اس پر بحث کرکے کوئی اعلامیہ جاری کرنا چاہتی تھی، مگر حیرت انگیز طور پہ پیپلز پارٹی آل پارٹیز کانفرنس کرنے میں ناکام رہی۔ کیوں؟ اس لئے کہ پیپلز پارٹی پہ سیاسی جماعتیں بوجہ اعتماد نہیں کر رہی ہیں۔کیوں کہ قیادت پر لگے کرپشن اور کرپشن کے پھیلاﺅ کے داغ جب تک نہیں دھلیں گے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔پارٹی کو یہ سوچنا چاہیے کہ کرپشن کے داغ کو کیسے دھویا جائے؟ خیر جہاں تک فوجی عدالتوں کی بات کی جارہی ہے تو یہ ضروری اس لیے ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام خاصا کمزور ہے۔ناصرف کمزور ہے بلکہ سینکڑوں خامیاں بھی موجود ہیں اور جب نظام کمزور ہوتا ہے تو پھر ایسی مختصر المدت قیام کی کورٹس بنانا مجبوری ہو جاتا ہے۔جس پر اعتراض اُٹھانا اکثر اوقات بے معنی ہوا کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی جن عدالتوں کے حوالے سے اعتراض اُٹھا رہی ہے ان کا قیام جنوری 2015 میں عمل میں آیا تھا جس میںدستور ساز اسمبلی نے اعلیٰ عدلیہ اور تقریباََ تمام جماعتوں کے تعاون سے آئین میں اکیسویں ترمیم اور آرمی ایکٹ کے ذ ریعے دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کو کاروائی کی اجازت دی تھی، جس پر پی پی پی نے اپنے تحفظات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیاتھا کہ ہمیں ان عدالتوں سے کسی قسم کا بالواسطہ یا بلا واسطہ گزند نہیں پہنچنا چاہیے۔ وفاقی حکومت کی اجازت کے بعد خصوصی مقدمات خصوصی عدالتوں میں منتقل ہوئے اور پاک فوج نے دہشتگردی میں ملوث افراد کو سزائیں دیں۔بہرحال سول حکومت نے غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی سوچ کے بے وقعت زاویوں ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ظاہری کیموفلاج کی لایعنی ترکیب اجزائی کے جس دقیانوسی طریقہ کار کومد نظر رکھتے ہوئے ملٹر ی کورٹس کا سہارا لیا تھا وہ 7 جنوری 2017 کو غیر فعال ہوگئیں۔اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے ضرب آہن اور آپریشن رد الفساد کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کےخلاف اقدام کو نیشنل ایکشن پلان ، نیکٹااور قومی قیادت کے چار وناچار اتفاق سے لے کرآگے چلنا چاہتے ہیں۔ چونکہ آصف علی زرداری کو ان عدالتوں کے حوالے سے خدشات ہیں کہ انہیں سیاستدانوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا، ان کے یہ خدشات اب بھی برقرار ہیں جس کی وجہ سے ان کی جماعت توسیع کی مخالف ہے۔ انہیں یہ خطرہ ہے کہ اگر ڈاکٹر عاصم حسین کا کیس فوجی عدالت میں چلا گیا تو 460ملین روپے کی بدعنوانی کی تحقیقات میں آصف زرداری بھی پکڑے جاسکتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر عاصم حسین کی حیثیت ان کے فرنٹ مین کی سی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو ترمیمی بِل کی زبان پر اعتراض ہے کہ اس میں مذہبی دہشت گردی کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ وہ اور ان کا خاندان پختونخواہ میں سینکڑوں مذہبی مدرسے چلا رہے ہیں۔ یہ مدرسے ان کے اقتدار کی ضمانت ہیں جس کی وجہ سے انہیں خطرہ ہے کہ کہیں فوجی عدالتیں ان مدارس کے غلط استعمال پر گرفت نہ کرلیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس طرح انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور انصاف کو عدالت کے دائرہ کار سے نکال کر فوج کے حوالے کر دیا جاتا ہے جن کو قانون اور انصاف کے لےے درکار تعلیمی استعداد حاصل نہیں ہوتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امریکہ سمیت بہت سے ممالک میں یہ نظام رائج ہے کہ جج بننے کے لےے قانون کی تعلیم ہونا لازمی شرط نہیں ہے بلکہ دیانتداری اور اعلیٰ کردار ہونا اس سے زیادہ ضروری ہے۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ اگر پاکستان میں سول عدالتیں اپنا کام درست طریقے سے سرانجام دے رہی ہوتیں تو شاید فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ اس وقت پاکستان میں زیرالتواءمقدمات کی تعداد 20لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ایک سول مقدمہ کی تکمیل کے لےے 30سال جبکہ فوجداری مقدمہ کے لےے اوسطاً پندرہ سال درکار ہوتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے مقدمات بڑھ رہے ہیں مگر ججوں کی تعداد جوں کی توں ہے۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق ملک میں ہر ایک لاکھ شہریوں کے لےے صرف ایک جج ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا عدالتی نظام پراسیکیوشن میں خامیاں، وکلاءکے تاخیری حربے اور اس طرح کی دیگر وجوہات کی وجہ سے بھی مقدمات کی سماعت میں تاخیر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں چھوٹے چھوٹے مقدمات جو عدالتوں سے باہر حل ہوسکتے ہیں، ملک میں پنچائت سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے عدالتوں پر اضافی بوجھ کا باعث بن رہے ہیں۔ فوجی عدالتوں میں توسیع کی مخالفت کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو دیکھنا چاہےے کہ گزشتہ دو سالوں میں فوجی عدالتوں نے کتنے سیاستدانوں پر مقدمہ چلایا ہے۔ فوجی عدالتوں کا سارا فوکس دہشت گردی پر ہے لیکن پیپلزپارٹی چور کی داڑھی میں تنکے کے مصداق اپنے تئیں خود ہی دہشت زدہ ہے خیر پیپلز پارٹی کے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ فوجی عدالتوں پر بلاجواز تنقید کا فائدہ دہشت گردوں کو ہورہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ اگر فوجی عدالتوں میں مجوزہ توسیع کیلئے ہونےوالی آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تو عدالت ان کو ختم کرسکتی ہے، یہ ساری باتیں دہشت گردی کے خلاف ایک قومی اتفاق رائے کو نقصان پہنچانے کےلئے کی جارہی ہیں۔ نادیدہ دُشمن ہماری صفوں میں گھس کر ہمیں بھاری جانی ومالی نقصان پہنچا رہا ہے جس کا راستہ روکنے کے لےے ہمیں پوری قوم کو ایک نقطے پر اکٹھا کرنا ہو گا کہ دہشت گردی کے عفریت سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ جب تک دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو سخت سزائیں نہیں ہوں گی امن ایک خواب رہے گا.... لہٰذایا تو پیپلز پارٹی کو اپنی قیادت بدلنے کی ضرورت ہے، یا سوچ یا اپنا تھنک ٹینک ورنہ وہ ایک ایسے طوفان کی زد میں آ سکتی ہے جس میں اس کا خس و خاشاک کی طرح بہہ جانے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔