پاکستان کا قیام اور ہمارے سیاستدان

06 مارچ 2017

ہندوستان کے پہلے گورنر وارن ہیٹنگز(Hatings) مقرر ہوئے جنہوں نے کم وبیش پندرہ سال حکومت کی اور پھر آخری حکمران لاروڈ ماو¿نٹ بیٹن تھے جن کے عہد حکومت میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ چوالیس انگریز حاکموں نے اس خطے پر حکومت کی ۔ ان تمام گورے حاکموں میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے کہ وہ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر نہ صرف اپنے برطانوی پرچم اور حکومت کے وفادار تھے بلکہ برصغیر کے لوگوں پر حکومت کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے میں مدد کی وہ اگرچہ اپنے آپ کو عارضی سمجھتے تھے لیکن ریلوے، ڈاک کے نظام متعارف کرائے۔ نظم ونسق کے نئے تصورات متعارف کرائے۔ ان سب حاکموں کے کاروبار، جائیدادیں، گھر، خاندان، برطانیہ میں تھے۔ ایک گیا تو دوسرے کو بخیر وخوبی زمام اقتدار سنبھالااور اپنے آبائی وطن سدھار گیا۔ آج بھی اگر کچھ یہاں ہے تو چند لوگوں جن میں حکومتی افسران کی یا ان کے عزیزوں کی صرف قبریں موجو د ہیں اس کے برعکس پاکستان کے تمام سیاستدان ملک پر حکمران رہنا چاہتے ہیں۔ جمہوری ادوار ہوں یا پھر غیر جمہوری حکومتیں سب کے سب یہاں صرف حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ عوامی مسائل سے کسی کو دلچسپی نہیں۔ ان تمام سیاستدانوں میں بھی ایک قدر مشترک ہے کہ ان کا کوئی نظریہ نہیں۔ ملکی ترقی کا کوئی پروگرام نہیں رکھتے، زراعت، صحت، تعلیم کے شعبہ جات جوں کے توں ہیں۔ انہیں کوئی دلچسپی نہیں کہ غیر ملکی قرضے کیسے کم کئے جائیں اور کیسے چھٹکارا پایاجائے۔ لاقانونیت، عدم تحفظ کا احساس کیسے ختم ہو۔ ان سیاستدانوں ، حکمرانوں کے ادوار میں کوئی ایسا کارنامہ نہیں جسے سنہری حروف میں لکھا جاسکے۔ انگریز حکمرانوں کے مقابلے میں ہمارے برسر اقتدار طبقے کے کاروبار سے لیکر محلات، بینک بیلنس مغربی ممالک میں ہیں ۔ یہ خود اپنے علاج اور اپنے بچوں سے ملنے باہر جاتے ہیں اور پھر واپس آکر کاروبار حکومت سنبھال لیتے ہیں۔ کراچی پر راج کرنے والا سیاستدان جو خود دو دہائیوں سے لندن میں مقیم ہے۔ صوبہ سندھ اور وفاقی حکومت میں برابر حصہ دار بھی رہا اسکی جائیدادیں ، بینک بیلنس لندن میں ہیں۔ اسی پر بات ختم نہیں ہوجاتی بلکہ پاکستان جس نے انہیں شناخت دی۔ اسی پر بھی برس پڑتے ہیں ،ہمارے غیرجمہوری حاکم پرویز مشرف جس نے ”سب سے پہلے پاکستان“کا دلفریب نعرہ دیا آج وہ دبئی میں بیٹھ کر نئے سرے سے اقتدار میں آنے کے پروگرام بنارہے ہیں ان کے گھر اور دیگر دلچسپیاں بھی بیرون ملک ہیں ۔ پاکستان میں پانچ سال بعد شرکت غیرے سربراہ مملکت رہنے والے آصف زرداری بھی ملک سے باہر اور زیادہ کاروبار، بنک اکاو¿نٹس، جائیدادیں بھی باہرہیں۔ یہ تو چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد چودہ سال اقتدار کے اہم عہدے پر براجمان رہنے کے بعد پورے پروٹوکول کے ساتھ دبئی روانہ ہوگئے۔ وہ کسی سرائے میں نہیں اپنے گھروں میں رہائش پذیر ہیں، چوہدری شجاعت ہوں یا پرویز الٰہی یہ بالترتیب وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزارتوں پر متمکن رہے اور پنجاب کے وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔
اس تقابلی سیاسی جائزے کا مطلب یہ ہے کہ چند دنوں سے دبئی میں ہمارے یہی سیاستدان پھر کسی غو ر وفکر میں مصروف ہیں یقینا ملک کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کیلئے کسی ایک نقطہ پر جمع ہونے اور کسی ”فطری اتحاد “ کو تشکیل دئےے جانے کے بارے میں مصروف عمل ہیں۔ سندھ کی ایک روحانی شخصیت ہمیشہ کی طرح اتحادی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ممکنہ گرینڈ الائنس تشکیل پاجائے تو اس میں وہی چہرے ہیں جنہیں لوگ بخوبی جانتے ہیں یہ وہ پٹے ہوئے مہرے ہیں جن کو پذیرائی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اب حالات مختلف نظر آتے ہیں سیاسی جماعتوں کی افادیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ اب امیدوار ذات ، برادری اور رشتہ داریوں میں بٹ چکی ہیں۔ امیدوار اب جٹ، ارائیں اور کشمیری کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ اسی طرح مذہبی جماعتیں مذہب اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم ہوجاتی ہیں۔ پیران عظام اور گدی نشین اپنے مریدوں کو جواشارہ کردیں تو وہ اپنی جان قربان کرسکتے ہیں۔ انہیں تو ووٹ نہیں ملتے کسی دوسری شخصیت کو ووٹ دلانا ان کیلئے آسان اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس تقسیم کے ثمرات برسر اقتدار جماعت خوب سمیٹ رہی ہے۔ تیسری دفعہ وزیراعظم کے منصب پر فائز نواز شریف اور اس سے زائد مرتبہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ نبھانے والے شہباز شریف ان تمام حقائق سے باخبر ہیں ان کے ساتھ اتحادی جو”سیٹس کو“ کے حامی ہیں انہیں بھی پتہ ہے کہ ایسے ممکنہ ”فطری اتحاد“ میں اتحادی لوگ چلے کار توس ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ پانامہ لیکس اور ڈان لیکس جیسے منڈلائے خطرات اس برسر اقتدار طبقہ کیلئے پریشانی کا باعث تو ہیں لیکن وہ مطمئن ہیں۔ اگر پانامہ لیکس کا فیصلہ میاں برادران کے خلاف آیا تو پھر ان لوگوں کی جائیدادیں، محلات، اکاو¿نٹس بھی زبان زد عام وخاص ہونگی اور اس میرٹ پر یہ تمام سیاستدانوں اور حکمرانوں میں سر فہرست ہوں گے۔ موجودہ حکومت اور ممکنہ اتحاد کے برعکس عوامی سطح پر عمران خان ایک امید کی کرن ہیںکہ وہ برسر اقتدار آکر ایسی اصلاحات اور دوسری امید کی کرن مصطفےٰ کمال ہوسکتے ہیں اور اگر مستقبل میں ہر دو سیاسی رہنماو¿ں میں ان کے کردار اور مہم جوئی سے امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے فروعی اختلافات پس پشت ڈال کر ملکی سطح پر اتحاد کرکے نئے سرے سے ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
٭٭٭٭٭٭