مردم شماری ترقی کی ضامن

06 مارچ 2017

گزشتہ سے پیوستہ
خواتین ہماری آبادی کاتقریباًپچاس فیصد ہیں۔اورہماری معاشرتی ومعاشی ترقی کا لازمی وضروری جزو ہیں۔ان کے کوائف درج کرتے وقت (باالخصو ص پسماندہ علاقوں میں)چشم پوشی اختیار کی جاتی ہے۔ان کے کوائف متوجہ ہوکر درج کیے جائیں۔مذکورہ بالاتحریر کے مطابق مردم شماری کے فارم کا محتاط طریقے اندراج کیا جائے۔کیونکہ ہر شہر بستی ،کوچہ ،چک علاقہ کی تقدیر کا فیصلہ اس مردم شماری پر ہے۔پاکستان میں فی الوقت مختلف اقوام کے لوگ رہائش پذیر ہیں۔مردم شماری میں پہلے سندھی ،پنجابی ،بلوچی ،پشتو اور دیگرزبان کا خانہ ہوتاتھا۔اس مرتبہ مردم شماری کے خانے میں سرائیکی زبان خانہ بھی موجود ہے۔یہ بھی حکومت کی قابل ستائش کاوش ہے۔
میری رائے ہے کہ اس مرتبہ معذوروں کا خانہ بھی ہونا چاہیے تھا۔اور معذوری کی علامت بھی ہونی چاہیے تھی۔روشنی کے ذرائع میں یو پی ایس یا سولرپینل ہونا چاہیے تھا۔رہائش گاہ کے لیے رقبے کا تعین ہونا چاہیے۔ٹیکس کی رقم کی ادائیگی کی معلومات ہونی چاہیے تھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مردم شماری کے لیے چند اساتذہ کرام کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں۔تاکہ تعلیمی نقصان نہ ہو۔عصرحاضر میںبے روزگار گریجوایٹس روزگار کی تلاش میں سڑکوں کی دھول چاٹ رہے ہیں۔ان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ تاہم وہ خوشحال ہوجائیں اور حکومتی کام بھی بطریق احسن ہوجائے ۔آخر میں دست بستہ گزارش ہے کہ مردم شماری کے سبب افرادی قوت کو مدنظر رکھ کروسائل کی تقسیم ہوگی۔تاہم صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ ہوگا۔تعلیم اور صحت کے شعبے میں فنڈز آبادی کے تناسب سے جاری کئے جائیں گے۔چنانچہ کسی بھی علاقے میں میگاپروجیکٹ آبادی کے تناسب سے لگائے جائیں گے۔لہذا مردم شماری کا اندراج آن لائن کیاجائے۔جیسے نادراآفس میں شناختی کارڈ کا فارم آن لائن فارم میں زبان کا بھی خانہ ہے۔اس میں آن لائن اندراج کیا جاتاہے ۔ چنانچہ تعلیمی اداروں میں داخلہ فارم آن لائن ہے۔جب آپ رول نمبر درج کریں۔آپ کا پورا بائیوڈیٹا سامنے آجاتا ہے ۔ پس بنکوں میں ہرشخص کا کھاتہ / اکاﺅنٹ آن لائن ہے ۔اکاﺅنٹ نمبر درج کریں ۔مکمل ڈیٹا سامنے آجاتاہے ۔لہذامردم شماری کا اندراج بھی آن لائن کیا جائے۔تاکہ کسی علاقے کے ساتھ باالخصوص سرائیکی وسیب کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو۔کیونکہ وسائل کی تقسیم میں سرائیکی وسیب کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے ۔مگر اب ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭