دہشت گردی رکنی چاہئے

06 مارچ 2017

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا اخباری بیان پڑھا ہے کہ استحصالی نظام ختم ہونے تک دہشت گردی اور بدامنی سے نجات نہیں ملے گی قبل ازیں بھی ایک اور بیان پڑھا تھا جس میں ان کا فرمانا تھا کہ اسلامی لحاظ سے پاک چائنہ کوریڈور کا منصوبہ صحیح نہیں ہے۔قارئین کرام! میں ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے ان درج بالا بیانات کا تجزیہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں بلکہ اسے ضروری خیال کرتا ہوں۔ وطن عزیز میں 1970ءکے انتخابات جو پہلی دفعہ بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے تھے تو ان انتخابات میں جماعت اسلامی کو دونوں مشرقی اور مغربی صوبوں میں چند سیٹیں ملی تھیں تو ان دنوں سنا تھا کہ جماعت اسلامی کے اراکین مولانا مودودی سے ملے اور شکوہ کیا کہ آپ نے الیکشن کے وقت عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ نہیں رکھا۔ اس لئے ہمیں ووٹ کم ملے ہیں یعنی کہ عوام کو روٹی‘ کپڑا اور مکان کی طرح کا نعرہ لگاتے تاکہ عوام متاثر ہوتے مثلاً یہ کہ ہم یونیورسٹی تک تعلیم کا حصول مفت کر دیں گے‘ ہسپتالوں میں مریضوں کا مفت علاج ہو گا‘ عدالتوں میں عوام کو مفت وکالت ملے گی پھر دیکھتے جماعت کو کیوں نہ ووٹ ملتے‘ مولانا مودودی صاحب خاموشی سے ان اصحاب کی باتیں سنتے رہے اور آخر میں فرمایا کو جماعت اسلامی عوام کو اسلام کی طرف راغب کرنے اور حکومت کو اسلام سے دور نہ ہونے دینے کی تحریک ہے نہ یہ کہ جھوٹے نعرے لگا کر اقتدار کے حصول کی تحریک بنا دیا جائے۔
پھر 1993ءمیں جب جنرل الیکشن منعقد ہوئے تو اس وقت جماعت اسلامی کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد تھے ۔انہوں نے اکیلے بغیر کسی الحاق کے انتخاب لڑنے کا پروگرام بنایا اور پرجوش نعرے لگائے یعنی ظالموں قاضی آ رہا ہے۔ تمہارا حساب قریب ہے‘ قاضی تمہارا انصاف کرے گا مگر جس دن پولنگ تھی تو اتفاق سے میں بھی ان دنوں حاضر سروس تھا اورمیری ڈیوٹی بطور پریڈائیڈنگ آفیسر تھی۔ پولنگ کے بعد جب گنتی شروع ہوئی تو جماعت کے امیدوار کی ایک پرچی بھی برآمد نہ ہوئی۔ اس پر دوسرے ایجنٹوں نے کہا جماعت اسلامی کا ایجنٹ سارا دن بیٹھا مکھیاں مارتا رہا ہے۔ اب سراج الحق بھی قاضی مرحوم کی طرح اسلامی شعور اجاگر کرنے کی بجائے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وطن عزیز کو حکمران ستر سال سے لوٹ کھسوٹ رہے ہیں جس کی بنا پر ملک مقروض ہے اور عوام غریب ہیں۔ ہمیں موقع دیا جائے ہم ملک میں دودھ کی نہریں بہا دیں گے۔ عوام کو خوشحال کر دینگے لہذا ملک میں کوئی غریب نہیں رہے گا اور سارا ملک امیروں کا ہو گا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جنرل ضیاءالحق کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی حکمرانی میں آئی تھی تو اس وقت ملک میں تبدیلی کیوں نہیں لائی گئی تھی مزید یہ کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں صوبہ سرحد میں پانچ سال تک مجلس عامل کی حکومت رہی تھی جس میں سراج الحق بھی وزیر تھے تو اس وقت استحصالی نظام بدلنے میں کیا کچھ کیاتھا حالانکہ اسی دور میں اسی صوبے کے پڑوس میں قبائلی علاقوں سے ہی خودکش بمباری کا آغاز ہوا تھا جو ایسا بڑھا کہ تقریباً ایک لاکھ کے قریب بچوں‘ بوڑھوں‘ عورتوں‘ جوانوں اور دفاعی اداروں کے جان باز سپاہیوں کی جانیں لے گیا ہے اور تاحال یہی قتل و غارت گری اسی علاقہ سے ہو رہی ہے۔
ان حالات میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سراج الحق اس ظلم و بربریت کی مذمت کرتے اور خاتمہ کی دعا کرتے مگر انہوںنے مزید جاری رہنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے جیسے کہ ان کے پیشرو و سابق امیر منور حسن نے بیان دیا تھا کہ طالبان بے چارے تو دکھی لوگ ہیں جہاں تک دوسرے بیان کا تعلق ہے کہ سی پیک اسلامی لحاظ سے صحیح نہیں ہے اس کی وضاحت نہیں ہوئی مگر شاید اس لئے کہا ہو کہ چینی حکومت غیر مسلم ہے لہذا اس بہانے اسلام اور پاکستان کا نقصان نہ ہو جائے۔ اس خدشہ کے پیش نظر انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضور نبی کریمﷺ کی حدیث پاک ہے یعنی ”علم حاصل کرو چاہئے چین جانا پڑے“ مسئلہ مسلمانوں کا ہے چین کا نہیں ہے اگر مسلمان صحیح مسلمان بن جائیں تو چین کے لوگوں کو بھی اسلام میں شامل کرنے میں دیر نہیں ہو گی۔ چائنہ کی حکومت نے ہی ہندوستان کی حکومت کو جواب دیا ہے کہ کشمیر کی مسلم آبادی کی آزادی کی خاطر کشمیریوں کی حمایت میں بیان دینا یا بیان دینے والے مولانا اظہر اور حافظ سعیدکو دہشت گرد نہیں کہہ سکتے پھر پاکستان کو اور کیا چاہئے۔
٭٭٭٭٭٭٭