خان بیلہ میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات

06 مارچ 2017

ایک عشرے سے دہشت گردی کے شکار وطن عزیز میں حادثات کا رو نما ہو نا کوئی انہونی بات نہیں ہے تا ہم گزشتہ ہفتے ضلع رحیم یار خان کے اہم ترین شہر خان بیلہ میں ایک ہی روز مختلف ٹریفک حادثات میں نصف درجن سے زائد بے قصور پاکستانیوں کی ہلاکت پر پورا شہر کانپ اٹھا ہے جس کی بنیادی وجہ شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع آر وائی کے شوگر ملز جانے والی کماد سے لدی ہوئی بے ہنگم اور بے ترتیب ٹریکٹر ٹرالیاں ہیں جو کسی بھی قاعدے قانون سے بالا اپنی مرضی سے ہمہ وقت رواں دواں رہتی ہیں جس کے باعث ٹریفک جام ہو نے کی وجہ سے آئے روز کے حادثات معمول کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔
گندم اور کپاس کے لیے مشہور ضلع رحیم یار خان میں گزشتہ دس سالوں کے دوران لگنے والی شوگر ملوں کی تعداد اب سات تک جا پہنچی ہیں جس کی وجہ سے گندم اورکپاس کی بجائے اب ضلع بھر میں گنا کاشت کیا جا رہا ہے جس سے ملک کے دیگر حصوں کی طر ح ضلع رحیم یار خان میں بھی حکمران طبقات کی ملکیتی شوگر ملیں‘ کاشتکاروں کی بجائے مل مالکان کی شکم سیری کر رہی ہیںجن کے سیر ہونے کے اب بھی دور دور تک امکانات نہیں ہیںرہی سہی کسر حال ہی میں پنجاب کے حکمرانوں کی صوبہ کے مختلف علاقوں سے رحیم یار خان سمیت ملحقہ اضلاع کے بارڈر ز پر منتقل کی جانے والی ان شوگر ملوں نے پوری کر دی ہے جن کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف اس وقت بھی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت جا ری ہے ان منتقل شدہ ملوں میں دو ملیں سیل ہو چکی ہیں تا ہم چنی گوٹھ میں واقع شوگر ملز کی قسمت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے عدالت کی طرف سے آنے والے اچانک فیصلے کے بعد مذکورہ ملوں کی بندش کے باعث گنے کا سارا دباﺅ نزدیک ترین واقع کے شوگر ملز کی طرف منتقل ہو گیا ہے یہی وجہ ہے کہ کے ایل پی روڈ پرمیلوں تک گنے سے لوڈڈ ٹرالیوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں جس کے باعث معمول کی ٹریفک کے بہاﺅ میںشدید رکاوٹیں پیش آرہی ہیں جبکہ شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان یا بی وی ایچ بہاولپور کی طرف ریفر کیے جانے والے مریض‘ ایمبولینسوں میںپڑے خان بیلہ کے قرب و جوار میں کئی کئی گھنٹوں تک موت اور زیست کی کشمکش میں معاشرے اور حکمرانوں کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں لیکن مجال ہے کہ دولت کی ہوس کے شکار ہمارے حکمرانوں کو ان بے کس اور بے سہارا لوگوں پر کبھی ترس آیا ہو ۔
ملز انتظامیہ کار خانے کی استطاعت کے مطابق پر مٹ جا ری کر نے کی بجائے عوامی دباﺅ اور سیاسی ہتھکنڈوں کے سامنے بے بس ہو کر زیادہ پر مٹ جاری کر دیتی ہے جس کی سزا غریب لوگ اپنی ہلاکتوں کی شکل میں بھگت رہے ہیں موٹر وے پولیس اپنی کم نفری اور در پیش صورتحال سے نمٹنے کے لیے اختیارات نہ ہونے کے باعث اس سارے تماشے میں بے بس ہو جاتی ہے جبکہ پنجاب پولیس کی زیادہ تر نفری ملزمان کے پیچھے بھاگنے ،ریاست کی ملکیتی مختلف تنصیبات کے تحفظ ،وی آئی پی موومنٹ کو رواں دواں رکھنے ،عدالتوں کی طرف سے آئے روز کی طلبیاں بھگتنے ،سی پیک میں مصروف عمل پاکستانیوں اور چینیوں کے تحفظ اور اب رد الفساد آپریشن کے آغاز کے بعد رینجرز کے ساتھ ملکر صوبے سے فساد کے خاتمے کے لیے ہر وقت مصروف رہتی ہے ظاہر ہے ان حالات میں پنجاب پولیس کا کردار بھی نفری کی عدم موجودگی کے باعث سکڑ کر رہ گیا ہے اس کے علاوہ علاقے میں موٹر سائیکلوں کی بڑھتی ہوئی بے تحاشہ تعداد بھی ٹریفک کی روانی میں اہم ترین رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔
ایک ہی دن میںدرجن بھر کے قریب پاکستانیوں کی ہلاکت کا مقام سب تحصیل خان بیلہ وہ واحدبد قسمت شہر ہے جسے پندرہ بیس سال قبل تعمیر ہو نے والی موٹر وے کے نقشے میں بائی پاس موجود ہونے کے باوجود دیگر شہروں کے بر عکس بائی پاس سے محروم رکھا گیا یہی وجہ ہے کہ شہری حدود میں حادثات ایک معمول کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو بلا ناغہ روزانہ ہی رونما ہوتے اورعام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے علاوہ متعددکو زندگی بھر کے لیے معذوری کی شکل میں سزا دیتے رہتے ہیں اس سلسلے میں موٹر وے کی تعمیرکے دوران بائی پاس تعمیرنہ ہونے پر شہریوں نے احتجاج بھی کیا تھا اور این ایچ اے حکام کی خدمت میں بارہا عرضداشتیں بھی پیش کی گئیں جو بے سود ثابت ہوئیں اس سلسلے میں شہریوں کے علاوہ موٹر وے پولیس کی جانب سے بھی بار ہا اس سنگین مسئلے کی جانب این ایچ اے حکام کی توجہ دلائی گئی لیکن آج تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ستم ظریفی تو یہ ہے کہ بائی پاس جیسے ایک ناگزیر اور مفید منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے مقامی ایم این اے اور ایم پی اے نے بھی اپنے لب سی رکھے ہیں اور وہ اس سلسلے میں ٹس سے مس ہو نے کے لیے تیار نہیںہیں حالانکہ ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کے خاطر یہی لوگ پلک جھپکتے ہی ایوانوں میں تحریک استحکاق لے آتے ہیں جبکہ عوامی مفاد سے وابستہ بائی پاس کے مسئلے پر لاتعلقی کے بت بنے ہوئے ہیں ۔
ابتک ہونے و۱لی بے شمار اموات کے باوجود آج بھی یہاں ٹریفک معطل ہے جس کے باعث پاکستانی معیشت کی ترقی کا پہیہ رکا ہو ہے روڈ پر متوازی شکل میں تین تین قطاروں میں ٹریکٹر ٹرالیاں موجودہیں جس کے باعث ملک بھر سے آنے اور یہاں سے گزرنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کوئی جگہ نہیںبچتی اتنی بڑا سانحہ ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ پھر بھی مکمل طور پر خاموش اور لا تعلق نظر آرہی ہے کسانوں کو در پیش مسائل کے حل کی خاطر پاکستان کے متحرک ترین کسان رہنماﺅں کی کاوشیں اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں لیکن پورے علاقے میںدیگر فصلو ں کی طرح گنے کے کاشتکاروں کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں کیونکہ صنعتی پس منظر رکھنے والے ہمارے حکمران طبقات کو پاکستان کے کاشتکاروں سے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
گزشتہ ہفتے کی ہلاکتوں کے بعد ملز انتطامیہ ،مقامی تھانہ شیدانی کی پولیس اور موٹر وے پولیس نے شوگر ملز کے قریب ایک چیک پوسٹ قائم کر نے کے علاوہ لائنیں توڑ کر راستے بند کر نے والی ٹریکٹر ٹرالیوں کو قانون کی شکنجے میں لانے کی خاطر گشت بڑھا دیا ہے جس کے باعث حالات آہستہ آہستہ معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں تا ہم اب بھی موثر سیاسی لابیوں اور بڑے بڑے زمینداروں نے ملز انتظامیہ ،موٹر وے پولیس اور پنجاب پولیس سے تعاون کر نے اور باری آنے پر اپنی ٹرالیاں آگے لے جانے کی بجاے دھونس اوردھمکی کے رویوں کو اپنی شان سمجھتے ہوئے اس مسئلے کی سنگینی میں اضافہ کر رکھا ہے ان حادثات کی وجوہات میں بائی پاس کی عدم تعمیر کے علاوہ یہ خود ساختہ لیڈرز بھی شامل ہیں جن کی ٹرالیاں شان بے نیازی سے لائنیں توڑ کر ٹریفک بلاک کر تے ہوئے آگے بڑھ کر حادثات کا موجب بنتی رہتی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ ،پنجاب پولیس ،موٹر وے پولیس اور شو گر ملز انتظامیہ باہمی مشاورت اور طے شدہ ضوابط کے مطابق بروئے کار لائیں تا کہ روز روز کے حادثات کے نتیجے میں بے گناہ پاکستانی ہلاک نہ ہوں جو کسی کے ہاتھ پہ اپنا خون تلاش کر نے کی سکت سے بھی عاری ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭