آتش عشق

06 مارچ 2017

آتش عشق سے جو بے خبر سا رہتا ہے
وہ دل بھی کیاہے جو بے شرر سا رہتا ہے

مجھے ہے پیار میں اس کے ہر ایک پل کی خبر
وہ شخص مجھ سے مگر بے خبر سا رہتا ہے

امیر شہر ہنر مند تھا جو برسوں سے
سنا ہے شہر میں اب بے ہنر سا رہتا ہے

فلک کو چھوتی ہے کہتے ہیں آہ نیم شمی
مگر یہ نالہ مرا بے اثر سا رہتا ہے

فریحہ دل کا شجر سایہ دار ہے لیکن
ہر ایک فصل میں کیوںبے ثمر سا رہتا ہے
(پروفیسر ڈاکٹر فریحہ نگہت ،راولپنڈی)

آتش نشینی

یقیں‘ مثلِ خلیل آتش نشینییقیں‘ اللہ مستی‘ خود گُزینیسُن‘ اے ...