پشتونوں کے خلاف کارروائی کا پروپگنڈہ

06 مارچ 2017

بھارت کی بری فوج کے سابق سر براہ جنرل بکرم نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستانی افواج کو کشمیر سے دور رکھنے کے لیے اپنے ہی عوام کے ساتھ الجھا دیا جائے۔ اس کے بعد بھارت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو روپے پیسے کے لالچ میں اپنے ملک اور اپنی مسلح افواج کے خلاف سب کچھ کرنے کے لیے مل جا تے ہیں۔ جنرل بکرم دنیا کی ایک بہت بڑی اور کیل کانٹے سے لس زمینی افواج کے سر براہ رہے ہیں ۔ ایک بہت بڑی زمینی افواج کے سر براہ ہونے کے ناطے انھیں وہ بہت سی باتیں بھی معلوم ہوں گی جو کسی عام بھارتی شہری کو معلوم نہیں ہوتی ہیں ۔ لیکن شاید انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جو مشورہ وہ بھارتی حکمرانوں کو دے رہے ہیں۔ بھارتی حکمران تو اس پر پہلے سے ہی عمل پیرا ہیں ۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں پاکستان میں ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک میں بھی ایسے افراد مل جاتے ہیں جو دولت کے اصول کے لیے ملک و ملت کے خلاف دشمنوں والا کام کرتے رہتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی جان و مال کی قر بانیوں کے عوض عطیہ ِ خدا وندی، پاکستان کے قیام کی نہ صرف مخالفت ہوتی رہی ہے بلکہ وہی پاکستان مخالفین ملک کے اندر رہ کر اور ملک کے وسائل سے دوسروں سے زیادہ مستفید ہونے کے باوجود جب موقع ملتا ہے ملک کی جڑیں کاٹنے لگتے ہیں۔ ہر وہ کام جو ملک و قوم کے مفاد میں ہو یہ ملک دشمن اس کی بھر پور مخالفت کرتے ہیں۔ پاکستان میں خود کش دھماکوں کی بدولت جس طرح بے گناہ انسانوں کو شہید کیا جا رہا ہے اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے عوام تو بخوبی جانتے ہیں۔ البتہ حکمران یہ کہہ کر ہی گزارا کر لیتے ہیں کہ اس دہشت گردی میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے ۔ البتہ غیر ملکی ہاتھ کا نام نہیں لیا جا تا ۔ دو تین ہفتے قبل جس طرح پہ در پہ دہشت گردی ہو ئی ہے۔ سینکڑوں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا گیا ہے ۔ جب ذمہ داران ادار وں نے اس بھارتی دہشت گردی کے خلاف دہشتگردوں اور ان کے یہاں کے مدد گاروں کے خلاف کاروائی شروع کی تو بھارتی ایجنٹوں نے پروپگنڈا شروع کر دیا کہ یہ سب کچھ پختونوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دہشتگردوں کے سر پرستوں کے پروپگنڈا کو ملک کے کچھ سمجھدار افراد نے بغیر سو چے سمجھے قبول کر لیا ہے ۔ بلکہ بیان بازی شروع کر دی کہ یہ ایک خاص آبادی یعنی پختونوں کے خلاف کاروائی ہے ۔ بن سوچے اسطرح کے پروپگنڈے کا شکار جماعت اسلامی کے امیر مو لانا سمیع الحق بھی ہو گئے ہیں۔لیکن کیا وہ نہیں جانتے کہ پشتون ہوں یا پنجا بی نیک و بد سب جگہ ہوتے ہیں۔ اس وحشیانہ دہشتگردی کا سب سے زیادہ متاثر صوبہ KPK ہوا ہے ۔ یہاں کے بے گناہ عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما اور پولیس آفیسر بھی شہید ہوئے ہیں۔ پھر وہاں ان دہشتگردوں کے خلاف جو کاروائی ہو رہی ہے تو کیا یہ کہا جا ئے گا کہ یہ کاروائی پشتونوں کے خلاف ہو رہی ہے۔ کیا ان دہشتگردوں کی اکثریت ان پشتونوں کی نہیں ہے جو صوبہ KPK اور افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ دہشتگردی کا منبع افغانستان میں ہے ۔اور بقول جنرل بکرم پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو روپے پیسے کے لالچ میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے خلاف کاروائیاں کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے فاٹا میں جن ملک دشمنوں اور دہشگردوں کے خلاف کاروائی کی ہے اور کر رہی ہے کیا ان میں اکثریت ان پشتونوں ، غیر پشتونوں کی نہیں ہے جو پاکستان کے صوبہ KPK ، افغانستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا مولا نا فضل اللہ پشتون نہیں ہے ۔ رہی بات کہ پنجاب میں پشتوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے۔ یہ سب دہشتگردوں کے سرپرستوں کا پروپگنڈا ہے۔ خود کو پنجابی طالبان کہلانے والے بھی اتنے ہی ملک دشمن ہیں جتنے دیگر زبان بولنے والے پاکستانی ہیں ۔ کیا GHQ پر حملہ پنجابی طالبان نے نہیں کیا تھا؟
اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ روس کے افغانستا ن پر قبضہ کے خلاف افغانوں کی مزاحمت کے دوران چالیس لاکھ کے قریب افغانی پاکستان آ گئے تھے جو آہستہ آہستہ سارے ملک میں پھیل گئے ہیں۔ انھوں نے حکومت پر بوجھ بننے کے بجائے اپنی پاﺅں پر کھڑا ہونے کو ترجیح دی ۔ ان میں سے اگر کچھ لوگ کوڑے کے ڈھیروں سے کاغذ ، بوتلیں ، ڈبے وغیرہ ڈھونڈنتے ہیںتو بہت سے افغا نی تعمیراتی کاموں کی مشینری کے مالک ہیں اور ان کے بدولت تعمیراتی اور دیگر ترقیاتی کاموں میں بہت سی مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہو ، نئے پرانے کپڑوں کا کاروبار ہو، چائنہ کی بہت سی مصنوعات کی تجارت انہی افغانیوں نے سنبھال رکھی ہے۔ لیکن اس بات سے تو بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ان میں سے بھی کچھ ایسے ہیں جو قا نون شکنی اور عوام دشمنی کے کاموں میں ملوث ہیں ۔ منشیات فروشی ، اسلحہ اسمگلنگ ، اغوا برائے تاوان ، سٹریٹ کرائم اور بینک ڈکیتیوںمیں انہی افغانیوں میں سے بہت سے ملوث ہیں۔ اور ان کے ساتھ کچھ پاکستانی پشتون اور پنجابی بھی شامل ہو جاتے ہیں جبکہ یہ قانون شکن پشتون اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ پنجاب میں کرائم کر کے افغانستان چلے جاتے ہیں ۔ اس کے بر عکس پنجابی ڈاکو چور ، جرائم پیشہ قا نون کی گرفت میں آ ہی جاتے ہیں ۔ مثلاً اثر و رسوخ والے افراد کے ہاتھوں بننے والی چھوٹو موٹو گینگ بلا آخر قا نون کے ہاتھ چڑھ ہی چکے ہیں لہذا یہ پروپگنڈا کہ کسی خاص زبان کے افراد کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے۔ صریحاً اس لیے غلط ہے کہ ایسا پروپگنڈا بھی وہی کررہے ہیں جو ملک کے اندر یا باہر ان دہشتگردوں کے سر پرست بنے بیٹھے ہیں۔ جن کا رزق پاکستان دشمنی سے وابستہ ہے ۔ اور بقول جنرل بکرم پاکستان میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کی نہ صرف نام نہاد سر داریوں کو خطرہ ہے اور وہ بھارت کی جھولی میں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ وہ تو قیامِ پاکستان کے ہی مخالف تھے اور ہیں۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے پاکستانی قوم کو دہشگردوں اور ان کے مدد گاروں کا خاتمہ کرنا ہے خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں اور ان کا تعلق پنجاب سے ہو یا KPK اور یا افغانستان سے ہو ۔