غلامی کے اثرات

06 مارچ 2017

غلام ذہنیت کبھی بھی آزادنہیں ہوتی ہے ۔کسی نہ کسی موقع پر اپنی غلامی کا ثبوت ضروردیتی ہے ۔پچھلے کئی ماہ سے فاٹا اصلاحات اور فوجی عدالتوں کے قیام کا چرچہ اور شور تھا ۔فاٹا کو قومی دھارے میں لانے میں کیا حرج اس سوال کا جواب فوری طور پر نہیں دیا گیا بلکہ پانچ سال کی قید رکھی دی گئی ہے ۔ تمام قبائلی اور وہاں کے رہنے والے خیبرپختونخوا حکومت کے حق میں ہیں۔اس حوالے سے کمیٹی بنتی ہے جو فاٹا کے طول و عرض میں جانے اور لوگوں سے مشاورت کا دعویٰ کرتی ہے اور اس حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آتی ہے جس میں فاٹا کے علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح نہ صرف نقشہ پر بلکہ عملی طور پر ملک کا حصہ ظاہرکیا جانا ہے ۔ پھر اچانک مولانا فضل الرحمان سامنے آتے ہیں اور اس قومی اسمبلی میں ان اصلاحات کی شدید مخالفت کرتے ہیں ان کا احتجاج اور مخالفت اسمبلی سے باہر تک جاری رہتی ہے جس کے دباﺅ میں آکر حکومت وقتی طور پر فاٹا اصلاحات کو کابینہ کے اجلاس میں پیش نہیں کرتی اور تھوڑی دیر کیلئے مولانا فضل الرحمان کو خوش کر دیا جاتاہے خوش کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ مولانا کا حکومت میں بڑا حصہ ہے ۔چند نشستوں پر کامیابی کے بعد ان ہی چند نشستوں پر وزیر اور مشیر تعینات کروالئے گئے ہیں۔ ان کی قربانی بھی نہیں دینی بلکہ حکومت کو ساتھ لیکر چلنا ہے ۔ دوسری جانب ہزاروں قبائلی ہیں جو حکومت پر دباﺅ بڑھائے ہوئے ہیں اسفندیار ولی کو اپنے ساتھ ملانا ضروری تھا اور سرتاج عزیز صاحب نے بھی اس حوالے سے بڑی محنت کی ہوئی تھی ۔ پھر اچانک کابینہ کا اہم اجلاس طلب کرلیا جاتا ہے اوروزیراعظم میاں محمد نواز شریف اجلاس کی صدارت کرتے ہیں اورتین چار گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں فاٹا کے لوگوں کو خوشخبری سنا دی جاتی ہے اور فاٹا اصلاحات کو منظور کر لیا جاتا ہے ۔فاٹا اصلاحات ہیں کیا ۔ اس سے کا کتنا فائدہوگا یہ دیکھنا ضروری ہے علاقہ غیر کہلانے والے علاقوں میں ایک قانون آئے گا انگریزوں کی غلامی ختم ہوگی جو اب تک ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے ہم ساٹھ سال بھی اس کو ختم نہیں کر سکے ہیں ۔ کبھی امریکہ کی غلامی میں جکڑے جاتے ہیں پھر وہ اس غلام ذہنیت کے لوگوں کو چن چن کر ہم پر مسلط کرتا ہے ۔ جس سے آج تک ہم جان نہیں چھڑا سکے ہیں ملک میں اس وقت بھی کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی صورت میں عوام کو غلام بنانے کے نت نئے طریقے کی تلاش میں لگا رہتا ہے جسے بعد میں سازش کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ سازش اصل میں ہم اپنے خلاف خود کر رہے ہوتے ہیں جس کا ہمیں علم ہوتا ہے مگر ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔کابینہ کی منظوری کے بعد فاٹا کے لوگوں کو سب سے پہلے انگزیرکی غلامی کے دور سے آزادی ملے گی ۔ ان کوپانچ سال کے عرصہ کے بعد قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا کیونکہ فوری طور پر قومی دھارے میں شامل نہ کرنے کے پیچھے بھی بدنیتی نظر آرہی ہے حکومت نے بھی اپنی فیس سیونگ کی ہے۔ مولانا ناراض تو ہوئے ہیں مگر اس پانچ سال سے شرط سے شاید ان کے غصے میں کمی آئی ہوگی ۔اب فاٹا میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کر سکے گی اور سپریم کورٹ سے بھی یہاں کے لوگ انصاف حاصل کر سکیں ۔اس کے علاوہ این ایف سی سے درخواست کی جائے گی کہ وہ مجموعی وفاقی قابل تقسیم محاصل سے فاٹا کی ترقی کیلئے سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد فنڈز مختص کرے۔ یہ موجودہ سالانہ پی ایس ڈی پی فنڈز21ارب روپے سے الگ ہونگے۔فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی گریڈ بائیس کے چیف آپریٹنگ آفیسر کی نگرانی میں از سر نو تشکیل کی جائے گی، وہ دس سالہ سماجی اقتصادی ترقیاتی منصوبے پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہونگے۔ ترقیاتی اور انتظامی امور پر عملدرآمد اور نگرانی میں فاٹا کے تمام سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی گورنر کے پی کے کی معاونت کریںگے۔ فاٹا ڈویلپمنٹ کمیٹی کے اختیارات کی منظوری میں اضافہ کیا جائے گا، جماعتی بنیادوں پر لوکل باڈیز کے انتخابات اگلے سال عام انتخابات کے فوری بعد منعقد کئے جائیںگے، بڑے پیمانے پر کرپشن کے خاتمے کیلئے فاٹا سے برآمدات اور فاٹا کو درآمدات کیلئے پرمٹ اور راہداری سسٹم پا بندی ہو گی، سیکورٹی کی غرض سے لیویز فورس میں مزید بھری کی منظوری دی جائے گی، فاٹا میں تمام عہدوں کو اپ گریڈ اور خیبر پختونخوا کے برابر لایا جائے گا، فاٹا کو سی پیک کے ساتھ منسلک کرنے کو یقینی بنایا جائے گا، سٹیٹ بنک آف پاکستان کو فاٹا میں زیادہ سے زیادہ برانچ کھولنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس سے پہلے یہ تمام حقوق ان لوگوں کے پاس نہیں تھے وہاں یہ تاثر تھا کہ لاقانونیت ہے ملک بھر میں واردتوں کے بعد نہ صرف لوگ وہاں جاکر چھپتے تھے بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں چوری شدہ گاڑیاں بھی وہاں پہنچا دی جاتی تھیں منشیات اسلحہ کا دھندہ بھی وہاں سرعام ہوتا ہے ۔مگراب یہ مزے ختم ہو جائیں گے ۔ اسمبلی میں سیاستدانوں کی تعداد بڑے گی ان کی قیمت نہیں لگے بلکہ لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہونگے ۔پانچ سال کے عرصہ میں یہ سارا عمل مکمل ہوگا ۔حکومت تو صرف ڈیڑھ سال کی رہ گئی ہے جاتے جاتے اگر حکومت یہ سمجھتی تھی کہ یہ نیک کام ہے تو پھر وہ پانچ سال کی شرط تو کم از کم نہ لگاتی لیکن نہیں ہماری ذہنیت میں ابھی غلامی باقی ہے ۔ ہم نے آج بھی اس حوالے سے آزاد حکمرانوں اور لوگوں کی طرح فیصلہ نہیں کیا ہے ۔اس سارے عمل میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا ہے ۔ پی ٹی آئی کی تو خواہش ہے کہ یہ کام ہو جائے تاکہ ان کی نشستوں میں اضافہ ہوجائے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک بار وہاں سے انتخابات جینے والے پھردوبارہ کامیاب کرایا جائے یہ کام صرف پنجاب اور سندھ میں ممکن ہے۔اس کے ساتھ ساتھ دوسرا اہم ترین ایشو جو ابھی تک ختم نہیں ہوا وہ ہے فوجی عدالتوں کے قیام کا ہے۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد فوجی عدالتیں بن گئیں سینکڑوں لوگوں کو پھانسی دیدی گئی مگردہشت اور خوف کی فضاءآج بھی اسی طرح اپنی جگہ موجود ہے ۔ دہشت گردی کے واقعات پچھلے چند ماہ میں شدت کے ساتھ سامنے آئے جس پر فوجی عدالتوں کے نظام پر بھی انگلیاں اٹھنا شروع ہوگئیں ۔یہاں بھی حیرت اور کمال ہے ہمارے حکمرانوں کا انہوں نے اپنے عدالتی نظام کو مضبو ط کرنے کی کوشش نہ کی اس میں پائی جانے والی کمزوریو ں دور نہ کیا ۔پھر تین سال بعد فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پیش آ گئی تو پھر مشاورت کا ڈرامہ شروع ہوگیا سب مان گئے ۔ پیپلز پارٹی نے مخالفت کر دی نیم دلی کے ساتھ اور موقف اپنایا کہ اپنے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے ۔ سوال یہ ہے کہ اے پی سی بلانے سے پہلے مشاورت کیوں نہیں کی پی پی بھی مان جائے گی کیونکہ ان میں ابھی تک غلامی کے جرموثے ختم نہیں ہوئے ہیں جو انہیں آزاد فیصلے کرنے کا اختیار دیں۔