پل کی خبر نہیں

06 مارچ 2017

سر دیاں اپنے اختتام پر آگئی بہا ر کے نئے شگوفے پھوٹنے شروع ہو گئے گلا ب کی کلیوں نے آنکھ کھول لی ہر طر ف رنگین پھولوں کی کیاریا ں سج گئیں لوگوں نے بھی بسنتی چولے پہنے شروع کر دئیے سکولوں میں ہماری نئی نسل کی کیاریاں اپنے امتحانات میں مصروف ہوگئیں یہ سال کا ایسا موسم ہے جس میں دن لمبے ہونا شروع ہو جاتے ہیں نر سری سے لے کر کالج تک ہر لیول کا بچہ اپنے امتحانات کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے اور بڑی ایمانداری اور خلوص نیت سے امتحانوں کی تیاری کر تا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کی اگلی کلاس میں جا سکے اس میں اس کے والدین اسا تذہ کرام اور ٹیوٹر ز اس کی مدد اور رہنمائی کرتے ہیں اور یہ سلسلہ غا لباً انگریز دور سے چلا آرہا ہے جب انگر یز نے برصغیر میں مشنر ی سکولوں کی بنیاد رکھی اور کچی سے لے کر میٹرک تک کا تعلیمی نظام رائج کیا جس کا سہرا لاڈ کلائیک کے سر جاتا ہے جس نے بل عموم تمام بر صغیر اور بلخصوص مسلم طلباء کو ایک مخصوص نظام میں پابند کر دیا جس کا مقصد محض نوکری کی تلاش تھا اس کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں تھا کہ ہر بچہ اور اس کے والدین یہی چاہتے تھے کہ ہمارا بچہ پڑھے اور نوکر ی کرے کچھ نو کر آپ کے ہمارے گھروں میں کام کرتے ہیں اور پورے مہینے میں 2000اور 1500یا کچھ اس سے زیادہ پر گزر بسر کرتے ہیں کبھی ہم نے یہ سوچا کہ ہمارے اسلا ف نے زندگی کا جو معیار اور مقصد متعین کیا تھا ہم اس سے بھٹک گئے ہیں یا ہمیں بھٹکا دیا گیا ہے بات بہا ر کی میں کر رہا تھا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بیچ میں یہ کانٹے کہا ں سے آگئے کانٹے جناب ہمیشہ پھولوں کے ساتھ ہوتے ہیں جیسے غم کے ساتھ خوشی ، دن کے ساتھ رات چاند کے ساتھ چکور ، ہم لوگ اپنی دنیاوی تعلیم پر کتنا زور دیتے ہیں اور بے شمار پیسہ خرچ کرتے ہیں محض اس لئے کہ ہماری نئی نسل دنیا میں اپنا ایک مقام حاصل کر سکے کبھی آپ نے یہ غور کیا کہ ہم لوگ اس دنیاوی تعلیم کے لئے اپنے بچوں کو ٹیسٹ پیپر ز ، گیس پیپرز اور نقل لگوانے کے بے شمار طریقے تلاش کرتے رہتے ہیں تاکہ ہمارے بچے تعلیمی میدان میں پیچھے نہ رہ جائیں اور دنیا میںاپنے ماں باپ کے نام بلند کریں ہم لوگ کتنا گھاٹے کا سودا کررہے ہیں کبھی آپ نے غور کیا وہ پیپر جو کہ رب تعالیٰ نے ازل سے انسان کے ہاتھ میں دے دیا ہوا ہے اور اس کے جوابات بھی رب نے بتا دئیے ہوئے ہیں اس کے باوجود بھی ہم اس پیپر ر کو حل کر نے کے لئے تیار نہیں ہم دیوانوں کی طرح دنیا کی ہو س اور لالچ کی دلدل میں اس قدر پھنس چکے ہیں کہ اس پیپر کو حل کرنا تو دور کی بات ہم اسے پڑھنا بھی نہیں چاہتے گو کہ رب تعالیٰ نے ہمیں یہ پیپر حل کر نے کے لئے آدم سے لے کر ہمارے پیارے رسول تک 124,000نبی بھیجے اس کے باوجود ہم لوگ سیدھے راستے پر آنے کو تیا ر نہیں ہیں اور دنیا داری میں اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو تباہی کی طرف لے کر جارہے ہیں دنیا جسے گلوبل ویلج کہا جاتا ہے اس کا حا ل آ پ کے سامنے ہے دنیا کے کسی کونے سے بھی انسان کے لئے خیر کی صدا اور خبر آپ کو نہیں ملے گی ہر طرف افر ا تفری کا عالم ہے انسان انسان کو ذبح کر رہا ہے کوئی مال کے لئے ، کوئی زمین کے لئے ، کوئی گر م پانی کے لئے ، کوئی پیٹرول کے لئے ، کوئی مال اور زر بنانے کے لئے کسی میں خو ف خدا اور معاف کرنے کی جرا ت نہیں ہے ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ میں حق پر ہوں مگر حق پر کوئی بھی نہیں اسی کشمکش میں پوری دنیا تباہی اور بر بادی کا نقشہ پیش کر رہی ہے اور دشمن ممالک ایک دوسرے کی نسلوں کو تباہ کرنے کے لئے مختلف ہر بے استعمال کر رہے ہیں ہمارے اپنے ملک میں ہمارے بچوں کو اخلاقی اور تہذیبی طور پر ہمارے دشمن ممالک بڑے ہی طریقے سے غیر اخلاقی طریقو ں پر چلانے میں کامیاب ہورہے ہیں اور ہماری آنے والی نسل کو اپنے خاندانی ورثہ اور دینی علوم سے دور کیا جارہا ہے مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ آئندہ ایک دو نسلوں کے بعد ہمارے ملک میں بے حیائی ، بیرا روی اور لادینیت اپنے عروج پر ہوگی اگر ہمارے سیاست دانوں ، حکمرانوں منصفوں اور افواج پاک نے اس ملک کی بھاگ ڈور صحیح سمت میں متعین نہ کی یہ گھڑی فیصلے کی گھڑی ہے اس گھڑی ہم سب کو ہم آواز ہوکر اپنے آنے والی نسلوں کیلئے ایک پر امن ، پر وقار اور شاندار پاکستان چھوڑ کر جانا ہے اور اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو پھر یہ ہمارے ملک کے لئے اور ہماری قوم کے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہوگا ۔