وہ چار افراد....؟

06 مارچ 2017

عدل وانصاف اسلام کے ماتھے کا تاج ہے تاریخ اسلام میں مسند قضاءسے حاکموں ‘ جابروں اور ظالموں کے خلاف بے خوف وخطر ایسے مثالی فیصلے آئے کہ وہ آج بھی تاریخ حق وصداقت اور اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ بدقسمتی سے ہم ان روایات پر قائم نہ رہ سکے کیونکہ آج وطن عزیز کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ ملزموں کے خلاف تحقیقات کرنے والے اداروں کی بددیانتی پر اظہار خیال کر چکی ہے ادارے انصاف کے حصول میں مدد دینے کی بجائے مجرموں کے بڑا یا چھوٹا ہونے کو مدنظر رکھ کر تحقیقات کررہے ہیں۔ ایک مرتبہ خلیفہ عمر بن العزیزؒ کے کسی حاکم نے اپنے شہر کی ویرانی کا شکایت نامہ بھیجا اور امیر المومنین سے اس کو آباد کرنے کے لیے مال طلب کیا ،خلیفہ نے حاکم کو جواب میں لکھا‘ ” جب تم میرا خط پڑھو تو اپنے شہر کو عدل وانصاف کے ذریعے سے محفوظ کرنے کے اقدامات کر دو اور شہر کے راستوں سے ظلم وزیادتی دور کر دو“ کیونکہ ظلم وزیادتی ہی شہر کی ویرانی کا باعث ہے۔ والسلام“ آج کے اس دور میں تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر ہی عدالتیں فیصلے کرتی ہیں کیوں یہ شور ہورہا ہے کہ بڑے بڑے دہشت گرد اورمجرم عدم ثبوت کی بنیاد پر رہائی پا رہے ہیں۔ عدالتوں کا قصور نہیں جن اداروں نے ثبوت پیش کرنے ہیں وہ ثبوت فراہم کریں تومجرم کبھی نہیں چھوٹ سکتے۔ اسلامی تاریخ کے ایک اور حاکم عباسی دور کے خلیفہ منصور ایک روز دربارمیں حاضرین سے مخاطب ہو کرکہنے لگے‘ میرے دروازے پر اگر چار قسم کے لوگ ہوں تو ان کے سوا کسی اور کی مجھے ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ حاضرین نے پوچھا وہ کون سے افراد ہیں؟ خلیفہ نے کہا وہ چار قسم کے وہ افراد ہیں جو کسی ملک کے ارکان ضروری ہوا کرتے ہیں۔ کوئی ملک بھی ان ارکان کو نظرانداز کرکے مستحکم نہیں ہوسکتا۔ ان افراد کی حیثیت چار پائی کے پایوں جیسی ہے۔ ایک پایا بھی گر جائے تو وزن برابر نہ رہے گا اور چارپائی ٹوٹ جائیگی۔ ان چار قسم کے افراد میں 1 ایک وہ قاضی ہے جو صحیح فیصلہ کرتا ہے اسے اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی وہ حق کی تائید میںاپنا فیصلہ ہر حال میں برقرار رکھتا ہے ،دوسرا وہ پولیس آفیسر جو کمزور کو طاقتور سے انصاف دلاتا ہے اور اپنے فرائض کی ادائیگی پوری ایمانداری سے کرتا ہے تیسرا وہ ٹیکس وصول کرنے والا ہے جو رعایا پر ظلم کیے بغیر اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد خلیفہ نے شہادت کی انگلی کو اپنے دانتوں میں جپایا اور ہر مرتبہ آہ آہ کی آواز نکالی۔ درباریوں نے پوچھا امیر المومنین چوتھا شخص کون اور کیسا ہونا چاہیے۔ خلیفہ نے جواب دیا‘ چوتھا آدمی خفیہ محکمے کا وہ افسر ہے جو مذکورہ تینوں قسم کے محکموں اور ان کے افراد کی رپورٹوں کی تصدیق کے لیے آخری مہر ثبت کرتا ہے۔
قارئین کرام! میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ کیا آج میرے وطن عزیز میں یہ چاروں افراد درست کام کررہے ہیں ؟ ایمانداری سے کررہے ہیں؟ یہ چاروں محکمے ٹھیک کام کررہے ہیں؟ ان چاروں طرح کے افراد کی کوئی قدر ہے اگر آج کے حاکم وقت کو یہ چار بہترین افراد مل بھی جائیں تو کیا وہ ان کو یہ ڈیوٹی دے گا کبھی نہیں اگر دے گا تو حاکم وقت کو خطرہ ہوگا کہ آج جیسے پانامہ لیکس کا کوئی کیس عدالتوں میں چلا گیا تو اس کا کیا بنے گا؟ تحقیقاتی افسر اگر حاکم وقت کا تابعدار نہ ہوگا تو تمام تحقیقات حکومت کے خلاف جائیں گی۔ پولیس آفیسر اگر ایمانداری سے ڈیوٹی کرے گا تو وہ ہمارے گماشتوں کے خلاف بھی کارروائی کرے گا۔ انکم ٹیکس آفیسر اگر سب پر ٹیکس لگائے گا تو پھر ہم پر بھی لگائے گا جب ہم پر لگائے گا تو ہم زیادہ مال نہ بنایا پائیں گے۔ پھر جناب ہم ایسا انکم ٹیکس افسر کیوں لگائیں گے۔ خفیہ ایجنسی کا آدمی اگر حکمران کو یہ بتائے گا کہ یہ آدمی ایماندار ہے راشی نہیں، غلط فیصلہ نہیں کرتا چھوٹے بڑے کی پرواہ نہیں کرتا کسی حاکم کی سفارش نہیں سنتا تو حاکم وقت اسے کسی اہم عہدے پر نہیں لگائے گا کیونکہ مجبوری ہے جی سیاسی لوگوں کو ساتھ رکھنے کے لیے سو قسم کی سفارشیں بھی کرنی پڑتی ہیں اور جج‘ قاضی .... یہ تو اہم پوسٹ ہے۔ یہاں تو خاص طور پر ایسا ایماندار آدمی نہیں ہونا چاہیے جو حاکم وقت کے خلاف فیصلہ کرنے جرات رکھتا ہو۔ حق کی تائید میں اُسے کوئی خوف نہ ہو۔ یہاں تو خاص طورپر اپنا خاص منظور نظر فرد ہونا چاہیے۔ کوئی کیس اگر حکمران کے خلاف آجائے اور فیصلہ کرنے والا بے خوف وخطر حاکم وقت کے خلاف فیصلہ کر دے تو یہ حکومت جاتی رہے گی۔ یہاں تو اپنا خاص منظور نظر آدمی ہی ہونا چاہیے جناب بڑی مشکل سے اقتدار ملتا ہے کسی عدالتی فیصلہ سے چلا جائے تو غلط بات ہوگی۔ جب یہ سوچ ہو تو مملکت کے ستوں کیسے مضبوط ہوں گے ؟
ہمارے حاکموں کو اس قسم کے چار آدمی تلاش کرکے محکموں کے سربراہ لگانے چاہیں ورنہ جو کچھ ہورہا ہے وہ سب آپ سب کے سامنے ہے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمارے وطن کو محفوظ رکھے۔ غربت‘ بیروزگاری‘ ظلم وزیادتی‘ چوری ‘ ڈکیتی اور تخریب کاری سمیت ہر قسم کے جرائم میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ جب ہی ختم ہوگا جب حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے لکھے گئے خط پر ہمارے حاکم عمل کریں گے۔