اچھائی کا معیار

06 مارچ 2017

مکرمی! میں نوائے وقت کا پرانا قاری تھا اور کچھ عرصہ سے مراسلات بھی لکھتا رہا جو متواتر شائع ہوتے رہے اور معزز قارئین کی طرف سے مجھے حوصلہ افزائی کے پیغامات بھی ملتے رہے۔ ہمارے حکمران بشمول ضیاءالحق جتنے بھی برے ہوں لیکن ان سے جھوٹ منسوب کرنا اس سے بھی زیادہ برائی ہے ۔ نوائے وقت میں روزانہ ایک حدیث مبارکہ شائع ہوتی ہے۔ میرے خیال میں سابق آمرانہ ادوار کئی اعتبار سے موجودہ جمہوری حکومتوں سے ہزار درجہ بہتر تھے‘ کسی بحث یا جھوٹی دلیل دینے کے بجائے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ سابقہ آمرانہ دور میں ڈالر 60 روپیہ جبکہ موجودہ جمہوری دور میں 108 روپے کا ہے ۔اچھائی کے معیار کے لئے اعمال کی بجائے صرف نام ہی کافی ہونا ہوتا ہے۔ ضیاءکے ریفرنڈم کے صحیح سوال کے بار ے میں میں نے بطور ثبوت کتابوں اور مصنفین کے حوالے بھی دئیے لیکن ضیاءکی مخاصمت میں میرے وہ خیالات شائع نہیں ہوئے ۔ اس سے تو یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ آمروں کو محض کردار کشی کے لئے ان کے خلاف مواد شائع ہوتا ہے۔ آمروں کی اچھائیوں کو چھپایا جاتا ہے جبکہ ان کے خلاف پروپیگنڈہ کو اتنا پھیلایا جاتا ہے کہ وہ سچ لگنے لگتا ہے۔ حالانکہ میڈیا معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے اور اسے معاشرے کا حقیقی عکس ہی دکھانا ہوتا ہے۔ کاش ! تعصبات سے بالاتر ہو کر ہم میں سچ بات کہنے اور سننے کا جذبہ ہوتا۔
(آنریری کیپٹن ر شاہ جہان خٹک‘ تحصیل جنڈ)