©©"معاشی حب"

06 مارچ 2017

پاک چین دوستی ہمالہ سے اونچی سمندر سے گہری لوہے سے زیادہ مضبوط شہد سے زیادہ میٹھی اور دل و جان سے زیادہ قریب یہ وہ محاورہ ہے جسے ہم برسہابرس سے سنتے چلے آرہے ہیں آج یہ محاورہ من وعن درست ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ جس طرح پاک چائنہ تعلقات مسلسل ترقی کی طرف گامزن ہیں اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاک چائنہ دنیا کی عظیم دوستی کی مثالیں قائم کریگا آج ہر پاکستانی پاک چائنہ تعلقات سے ناصرف خوش ہے بلکہ چاہتا ہے کہ چائنہ کے ساتھ ہر شعبے میں اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اصل میں ان تعلقات کی بنیاد 04 جنوری 1950 میں چائنہ کے دارالحکومت تائیوان میں رکھی گئی اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے چائنہ کے تعلقات کی بنیاد رکھی ان تعلقات کا سلسلہ یہاں رکا نہیں بلکہ اور مزید مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔آج عظیم دوستی کا منہ بولتا ثبوت پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ بھی ہے اور یہ منصوبہ صرف پاکستان اور چائنہ کے لیئے اہمیت کا حامل نہیں ہے بلکہ یہ منصوبہ پوری دنیا بشمول ہمارے پڑوسی ممالک کے لیئے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے یہ ایشیاءکا واحد راہداری منصوبہ ہے جو پوری دنیا کو ایشیا ءکے قریب لے آئے گاایشیاءکے تمام ممالک جو چائنہ سے ٹریڈ کرنا چاہتے ہیں انکے لیئے آسان راستہ کا نام پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔ منصوبے کا افتتاح ماضی قریب میں وزیر اعظم پاکستان اور جنرل راحیل شریف نے گوادر میں کر کے دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ پاکستان ایک خودمختار، اور طاقتور افواج اور منظم قوم کا ملک ہے اس پر میلی آنکھ ڈالنے والے کو ہر گز چھوڑا نہیں جائے گا۔ گوادر پورٹ کی اصل حیثیت 1954 کو اس وقت سامنے آئی جب U.S G.S (United State of Geological Survey) نے بتایا کہ گوادر پورٹ دنیا کی ڈیپ واٹر پورٹ کے لیئے ایک موئثر جگہ ہے تو دنیا کی نظر گوادر پورٹ پر جمنا شروع ہوگئی اور اسطرح گوادر پورٹ کی شہرت آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل گئی اور پھر گوادر پورٹ کی حیثیت کو سمجھتے ہوئے 2002 میں جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدارمیں گوادر پورٹ ڈیپ کا کام شروع کیا گیا جو 2007 میں 248 ملین ڈالر سے مکمل کیا گیا جس کا افتتاح اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا گوادر پورٹ کی حیثیت کو سمجھتے ہوئے 2006 میں گوادر کی 50 سالہ ماسٹر پلاننگ کی گئی اور اس پلاننگ میں کئی منصوبے شامل تھے لیکن چند سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر کام شروع نہیں کیا گیا2013 میں جب چائنہ نے گوادر میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا تو پاکستان نے اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے چائنہ کے ساتھ 46 ارب ڈالر کے گوادر پورٹ منصوبے پر دستخط کیے تو اس منصوبے پر دستخط ہوتے ہی دنیانے دیکھا کہ سی پیک کی اہمیت میں اضافہ ہوتا چلا گیااور اب گوادر ایک بہت بڑا معاشی حب سمجھا جانے لگااس منصوبے کا کام شروع ہوتے ہی ایشیاءکے کئی ممالک نے سی پیک کی مخالفت شروع کردی جس میں سرفہرست ہندوستان اور افغانستان شامل تھے۔ امریکہ بھی یہی چاہتا تھا کہ کسی طرح سی پیک منصوبہ ختم ہوجائے کیونکہ اگر چائنہ پاکستان کے ساتھ اتنی بڑی انویسٹمنٹ کرے گا پاکستان امریکہ کی غلامی سے نکل جائے گا اورچائنہ پاکستان کو ہر شعبے میں تعاون کرے گا اسی خوف کی وجہ سے اس نے ہندوستان کو استعمال کیا امریکہ کی معاشی دشمنی چائنہ کے ساتھ ہے اور امریکہ یہ کبھی نہیں چاہتا ہے کہ چائنہ کی ٹریڈ میں اضافہ ہو اور یہ اضافہ پاکستان کے معاشی اسٹیبلیٹی کی صورت میں ہواس لیئے اس نے ہندوستان کو پوری سپورٹ کی۔ مگر امریکہ اور ہندوستان کو منہ کی کھانی پڑی اور سی پیک منصوبہ کامیابی کے ساتھ شروع کردیا گیا۔حیرت کی بات ہے CPEC منصوبے کے فوراََ بعد کئی ممالک پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف دکھائی دے رہے تھے لیکن پھر انہی ممالک نے CPEC میں شامل ہونے کے لیئے پاکستان کو درخواستیں دی ہیں میں سمجھتا ہوں یہ CPEC کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے CPEC منصوبہ کئی ممالک کو کھٹک رہا ہے کوئی بھی پاکستان کو خودمختار ملک بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا جب کہ ہمارے پڑوسی ممالکوں نے ہر حربہ استعمال کرلیا کہ کسی طرح CPEC منصوبہ رک جائے لیکن کہتے ہیں نہ کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے اور ایسا ہی پاکستان کے ساتھ ہوا چائنہ نے مضبوطی کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دیا اور مضبوطی کے ساتھ اپنے پاﺅں کو جمائے رکھاجس سے دشمن ممالکوں کو منہ کی کھانی پڑی اور اب یہ عالم ہے کہ برطانیہ ،روس،بنگلہ دیش ،مشرق اور مغرب کے کئی ممالکوں نے بشمول افغانستان نے بھی CPEC میں شامل ہونے کی درخواستیں دی ہیں CPEC منصوبہ انشاءاللہ 2030 میں مکمل ہوگا اور اس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا اور اس سے ہماری معیشت بھی مستحکم ہوگی ہندوستان ایسٹ انڈیا کے نام سے جو پروپیگنڈہ کر رہا ہے اسے اپنے پاس رکھے کہ ایسٹ انڈیا کی طرح چائنہ نے پاکستان میں قدم رکھ دیا ہے جب کہ ایسٹ انڈیاوالی Situation اس سے قدرے مختلف تھی CPEC منصوبہ صرف ایک راہداری ہے جو ایک Limitتک چائنہ کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کام کرے CPEC منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کی عوام کو ہوگا بلوچستان میں بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا اور نئی نوجوان نسل کے لیئے روزگار کے مواقع دستیاب ہونگے اس پروجیکٹ سے بلوچستان کی عوام سکھ کا سانس لے سکے گی اور مایوسی کا قلعہ قمع ہوگا اور ہمارے بلوچی بھائی خوشحال ہونگے اور ساتھ ہی ساتھ پورا ملک پاک چائنہ اقتصادی راہداری کی روشنی سے جگمگائے گا زندگی نے ساتھ دیا تو ہم سب بھی CPEC سے نکلتی ہوئی روشنیاں پوری دنیا میں پھیلتے ہوئے دیکھیںگے۔